کورونا مسجدوں سے نہیں پھیلا
07 جون 2020 2020-06-07

کورونا نے پاکستان میں معیشت کے بعد سب سے زیادہ مذہب کو متاثر کیا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ لوگوں کا اپنے رب سے براہ راست رابطہ ٹوٹا ہے۔نئی نسل مسجدوں سے دور ہوئی ہے۔اس کی ابتدائی وجہ یہ بنی کہ دین سے بے زار اور دشمن طبقات نے شیعہ زائرین اور تبلیغی جماعت کے معاملات کو مذہب کے معاملات بنا کے پیش کیا حالانکہ وہ معاملات انتظامی تھے۔ ریاستی ادارے جہاں ملک میں داخل ہونے والوں کی سکریننگ نہیں کرسکے وہاں دینی طبقات کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جا سکا مگر اس کے باوجود ننانوے فیصد دینی طبقات کی طرف سے حکومتی اعلانات اور پابندیوں کی اتباع کی گئی۔ مساجد میں نمازیوں کے درمیان فاصلے قائم کئے گئے۔ نماز جمعہ کے لئے مساجد کے دروازے اکثریتی نمازیوں کے لئے بند رکھے گئے۔مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ ہمارے دینی طبقات خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے کورونا کے پھیلاو کے الزام سے بچنے کے لئے از خود بھی انتظامات کئے جو سرکاری دفاتر اور بازارو ں وغیرہ میں کہیں نظر نہیں آئے۔ مجھے لوگوں پر ڈنڈے چلاتی حکومت کے بعض سرکاری دفاتر کی ویڈیوز اور تصاویر موصول ہوئیں جن میں ایس او پیز کو پاوں تلے روندا جا رہا تھا جبکہ مساجدہی ایسی جگہیں تھیں جہاں صفائی اور فاصلہ سب کچھ تھا۔

میرا آج کا کالم اس درخواست کے ساتھ ہے کہ جب آپ نے ایس او پیز لاگو کرتے ہوئے بازار اور ٹرانسپورٹ تک کھول دی تو پھر مساجد میں پانی، ٹونٹیاں اور وضوخانے بھی کھول دیں۔ ایک طرف سرکار شور مچاتی ہے کہ بار بار ہاتھ دھوئیں مگر دوسری طرف جہاں واقعی بار بار ہاتھ دھوئے جاتے تھے وہاں ہاتھ دھونے پر پابندی لگا دی گئی۔ میں اب بھی کہتا ہوں کہ وضو سے بہتر کوئی حفاظتی تدبیر نہیں ہے کہ جب آپ اپنے تمام ظاہری حصوں کو بار بار دھوتے ہیں اور اس میں وضو کرتے ہوئے صابن کے استعمال کا اضافہ کر کے اسے مزید محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔اگر وضو نہ ہو تو کون سا شخص ہے جو اپنے ہاتھ، بازو، چہرہ اور پاوں بار بار دھوئے یعنی انہیں گندگی اور جراثیم سے پاک کرے۔ وضو کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں کلی بھی کی جاتی ہے او ربعض لوگ غرارے بھی کرتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس سے کرونا وائرس گلے سے نکل جاتا ہے مگر آپ بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ وضو میں ہی مسح کیا جاتا ہے یعنی سر کے بالوں اور گردن پر گیلا ہاتھ پھیرا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کرناک میں پانی چڑھایا جاتا ہے جو ہماری سانس لینے کی راہ کو صاف کرتا ہے، وہاں سے گرد اور گند نکال دیتا ہے۔ ایمانداری سے بتائیے کہ اگر وضو نہ ہو تودن میں ایک بارغسل کے علاوہ صفائی کے یہ تقاضے کب اور کتنی بار پورے ہوتے ہیں۔

دلیل دی گئی کہ مسجدکی ٹونٹیوں کو سب ہی یاتھ لگاتے ہیں، کبھی کھولتے ہیں اور کبھی بند کرتے ہیں لہذا اس سے کورونا پھیل سکتا ہے اور دلیل محض مسجد کی دشمنی کے علاو ہ کچھ نہیں تھی۔ جن لوگوں نے یہ دلیل دی کیا ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کرنسی نوٹو ں کی تنسیخ کے بارے ایک لمحے بھی سوچا، ہرگز نہیں سوچا ہو گا کیونکہ ان کی نظر میںنوٹ زیادہ پیارے اور ضروری ہوں گے جبکہ نوٹوں کے پاس کوئی پانی اور صابن نہیں لے کر جاتا مگر مساجد کے بارے پروپیگنڈے نے نوجوان نسل کو متاثر کیا۔ یہ پیغام گیا کہ مساجد کے اندر غیر ذمہ دارانہ اجتماع ہوتے ہیں اور وہا ں سے کورونا پھیل سکتا ہے۔ مساجد کے اجتماعات کو متاثر کرنے والی دوسری شے حکومتی پابندیاں تھیں۔ جب ایک شخص کو ایک مسجد کے اندر نماز کے لئے جگہ نہ ملی تو وہ دوسری میں چلا گیا اور دوسری میں بھی جواب ملا کہ یہاں اجازت نہیں تواس نے سوچا کہ اب میرا کیا قصور ہے۔ میں نے تو نیت بھی کی اور کوشش بھی۔اس کے بعد یوں ہوا کہ وہ اگلے جمعے کوشش کرنے بھی نہیںنکلا۔ ہمارے نمازیوں کی بڑی تعداد اس محاورے کے عین مطابق ہے ، آٹھ کے کھاٹ کے تین سو ساٹھ کے یعنی جمعے کے جمعے پڑھ لی، کسی کی نماز جنازہ پڑھ لی یا عید کی نماز پڑھ لی۔ حکومتی پابندیوں نے نماز کی روایت اور عادت کو توڑنے میںکردارادا کیا ہے۔

مساجد مخالف مہم سے اس مرتبہ رمضان المبارک کی رونقیں بھی متاثر ہوئیںاگر چہ علمائے کرام نے کچھ ہمت کرتے ہوئے نماز تراویح کی اجازت حاصل کر لی مگر اس کے باوجود بہت سارے مقامات پر پورے قرآن کی قرات نہیں ہوئی۔ اعتکاف بیٹھنے والوں کی تعداد میں بہت بڑی کمی ہوئی حالانکہ اعتکاف سے بہتر آئسو لیشن کیا ہوسکتی تھی مگر لوگوں نے بے کار اور فارغ ہونے کے باوجود مسجدوں کا رخ نہیں کیا۔ میں آپ سے دنیاوی اصولوں کے مطابق مکالمہ کرنا چاہتا ہوں مگر ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ جس وقت ہمیں زیادہ سجدے کرنے کی ضرورت تھی اس وقت ہم نے سجدوں پر بھی پابندی لگا دی۔ ہم معاشی تباہی کا سامنا کر رہے تھے مگر اس کے بعد کرونا کا عذاب آ گیا۔ کرونا کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے شہروں میں زیادہ ہے جیسے لاہور، راولپنڈی وغیرہ تو ہمارے دیہات میں ٹڈی دل نے حملہ کر دیا اور اس کے ساتھ ی ہم نے توبہ کرنے کی بجائے مساجد کی دروازے بند کر دئیے بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ آپ اللہ کے گھر کے دروازے بند کرنے والے کون ہوتے ہیں، اللہ نے آپ سے سجدوں کی توفیق ہی چھین لی۔ باتوں کے بتنگڑ بنانے والے کہیں گے کہ جو مسجدوں میں نہیں جا سکے انہیں چاہئے تھا کہ وہ گھروں کو ہی مساجد بنا لیتے مگر سوال یہ ہے کہ آپ میں سے کتنوں نے بنایا؟

اب وزیراعظم عمران خان نے بھی کہہ دیا کہ کرونا مساجد سے نہیں پھیلا تو ایک معروف مقولہ ہے کہ لوگ حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں تو ان لوگوں کو بھی جان اور مان لینا چاہئے کہ کرونا کے پھیلاو میں مساجد کا کوئی کردار نہیں۔ مساجد ہمارے معاشرے کا سب سے صاف ستھرا حصہ ہے، اتنا صاف ستھرا کہ گھر بھی اتنے صاف ستھرے نہیں ہوتے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ جب حکومت کرونا کے نام پر کئی کئی سو ارب روپے خرچ کرنے کی بات کررہی تھی تو اس نے مساجد کے لئے ایک روپیہ بھی اعلان یا مختص نہیں کیا۔ ہم نے دیکھا کہ مساجدکے خطیب، امام اور خادمین مالی بحران کا شکار ہوئے کیونکہ اس مرتبہ جہاں جمعے کے اجتماعات محدود ہونے کی وجہ سے چندہ جمع نہ ہوسکا وہاں مساجدا ور مدارس کی زکواة میں بھی نمایاں کمی آئی۔ اس کی دو وجوہات رہیں پہلی وجہ یہ رہی کہ جن لوگوں نے زکواة ادا کرنی تھی ان کے سامنے ادائیگی کے دیگر راستے بھی آئے کہ لوگ لاک ڈاون کی وجہ سے پریشان اور مجبور تھے اور دوسری وجہ آمدن میں کمی تھی۔ زکواة دینے والوں میں بڑی تعداد ہماری تاجر اور کاروباری طبقے کی ہے جو عمومی طور پر مشکلات کا شکار رہا۔ ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم امام مسجد تیار کرتے ہوئے اس کے روزگار کے متبادل ذرائع کی تربیت بہت کم دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مسجد کے ساتھ رہائش اور بمشکل دس ، بیس ہزار کی تنخواہ پر اپنی ذمے داریاں سرانجام دیتا ہے اور یہ ذمہ داریاں آج کل صبح پونے چار بجے سے رات ساڑھے نو بجے تک ہوتی ہیں۔ دنیا میں اتنی کم تنخواہ پر اتنی لمبی ڈیوٹی کا تصور بھی نہیں ہوسکتا جس میں کوئی چھٹی بھی نہ ہو۔

بہرحال یہ سب غور و فکر کے متقاضی ایشوز ہیں جو موجودہ صورتحال میں زیر بحث آگئے ورنہ کہنا تو صرف اتنا ہے کہ آپ ہماری نہیں مانتے تھے تو نہ مانیں مگر جناب عمران خان کی ہی مان لیں کہ مسجدوں کا کرونا کے پھیلانے میں کوئی کردار نہیں لہذا مہربانی کریں اور مسجدوں کی ٹونٹیاں اور وضو خانے کھول دیں کہ جن کی غیر ضروری بلکہ غیر ذمہ دارانہ بندش سے نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔


ای پیپر