سرنگ میں روشنی
07 جون 2019 2019-06-07

دیکھیں ہمارے ملک کی صرف یہی تاریخ نہیں ہے۔ کہ یہاں بائیس وزراء اعظم کو آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گی۔ ہمارے ملک کی یہ تاریخ بھی ہے۔ کہ یہاں فوجی آمروں کو بھی ادارے ہی نے نکالا۔ چناچہ میجر جنرل اسکندر مرزا کو جنرل ایوب خان نے بزور طاقت نکالا۔ جنرل ایوب خان کا جنرل یحیی خان نے بولو رام کیا۔ جنرل یحیی خان سے جنرل گل حسن نے زبردستی استفعی لیا۔ جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت کا الزام جنرل اسلم بیگ پر آتا ہے۔ جبکہ جنرل پرویز مشرف خود یہ حقیقت تسلیم کر چکے ہیں۔ کہ انہیں اقتدار سے فارغ کرنے کے پیچھے جنرل کیانی کا ہاتھ تھا۔ اور اس کے لیے ججز اور وکلاء تحریک چلوائی گئی۔ یعنی جب ادارے نے محسوس کیا۔ یہ آمر ملکی سلامتی کے تحفظ اور ادارے کا احترام کروانے کے قابل نہیں رہے۔ انہیں فارغ کر دیا گیا۔ اس حوالے سے تاریخ میں ایک خاص پیٹرن نظر آتا ہے۔ جنرل ایوب خان اور جنرل یحیی خان اپنے پیشرو آمروں کو ہٹا کر خود اقتدار پر قابض ہو گئے۔ جنرل گل حسن بوجہ یہ حرکت نہ کر سکے۔ جنرل اسلم بیگ اقتدار میں آنے کی بجائے تمغۂ جمہوریت پر قناعت کر گئے۔ نوے کی دھائی میں بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کو اقتدار سے نکالا گیا۔ لیکن کسی جنرل نے حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کہتے ہیں ادارے نے اس حوالے سے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی تھی۔ کہ براہ راست اقتدار پر شب خون مارنے کی بجائے سویلینز کو آگے رکھا جائے۔ اور خود پیچھے رہ کر اختیارات استعمال کیے جائیں۔ جنرل مشرف نے شدید خوف کا شکار ہو کر اقتدار پر قبضہ تو کر لیا۔ لیکن اپنی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے خود اپنے ادارے کے ہاتھوں نکالے گئے۔ جنرل کیانی نے ادارے کی حکمت عملی کے تحت حکومت تو نہیں بنائی لیکن سویلین اختیارات استعمال کرتے رہے۔ اور یہ حکمت عملی کیا تھی۔ ادارے کو پیچھے رکھا جائے۔ تاکہ براہ راست اقتدار میں آنے سے جو بدنامی ملتی ہے۔ اس سے بچا جائے۔ لیکن جنرل کیانی نے ایکسٹینشن لے کر ایک بار پھر ادارے کی طے شدہ پالیسی کی خلاف ورزی کی۔ جس کے ادارے پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے۔ جنرل راحیل شریف نے نوازشریف کی حکومت کو مفلوج کیے رکھا۔ اختیارات استعمال کرتے رہے۔ جیسا کہ فیصلہ ہوا تھا لیکن خواہش کے باوجود ایکسٹینشن نہ لے سکے۔ ادارے کا دباو بہت زیادہ تھا۔ جنرل باجوہ کے ساتھ عجیب ہاتھ ہوا۔ یہ تو طے کر لیا گیا نواز شریف کو اگلا الیکشن جیتنے نہیں دینا۔ اور مسلم لیگ ن کو توڑ پھوڑ دینا ہے۔ اور اپنے حمایت یافتہ گروپ آگے لانے ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہوا نوازشریف نے تمام تر دباو، سختیوں، سزاؤں اور منفی پروپیگنڈے کو نہ صرف مسترد کر دیا۔ بلکہ سیاست چھوڑنے سے بھی انکار کر دیا۔ اس پہ مستزاد یہ کہ مسلم لیگ ن نواز شریف کی قیادت میں کھڑی رہی۔ اور تیسرا مسئلہ یہ ہوا۔ نیا سیٹ اپ معاشی اور سماجی ترقی اور تبدیلی لانے میں مکمل ناکام ہو گیا۔ دراصل یہ سلیکٹروں کی ناکامی تھی۔ ادارہ اپنی شہرت، احترام اور عوامی پذیرائی اور محبت کو لے کر بہت حساس ہے۔ بے شمار شواہد بتا رہے ہیں۔ واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اور ہم واپس جنرل پرویز مشرف اور جنرل کیانی یا جنرل گل حسن کے زمانے میں داخل ہو چکے ہیں۔ آپ ان شواہد کو خود دیکھیں اور پرکھیں۔ لیکن ایک بات بتا دوں۔ جس طرح براہ راست اقتدار میں آنے کا جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کا وقت نہیں رہا۔ جس طرح جنرل ضیاء الحق کا پاور شیئرنگ کا نظام نہیں رہا۔ جس طرح جنرل مشرف کی کنٹرولڈ جمہوریت نہیں رہی۔ جس طرح جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف کا سویلین حکومت کو مفلوج کرنے کا دور نہیں رہا۔ اسی طرح کٹھ پتلیوں کا یہ دور بھی ختم ہو جائے گا۔ اور یہ بات ہم نہیں حکومتی وزراء کہہ رہے ہیں۔ اگلا جو دور آئے گا۔ وہ سویلین سپریمیسی کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہو گا۔ تاریخ بتا رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ریاست اور آئین مضبوط ہو رہے ہیں۔ اداروں کا تسلط ختم ہو رہا ہے۔ یہ جو بظاہر طاقت نظر آتی ہے۔ اسی میں کمزوری چھپی ہے۔ ادارے اپنے تسلط کے چکر میں ایک ایک کرکے اپنی تمام آپشنز استعمال کر چکے ہیں۔ مجھے سرنگ کے آخر میں روشنی نظر آ رہی ہے۔


ای پیپر