’’نو مو لود بچو ں کی امو ا ت ‘‘
07 جون 2019 2019-06-07

ہما ری پست ذ ہنیت کہ تھر کے بچوں کی مسلسل ا موا ت نے ہمیںا سقدر بے حس کر کے رکھ دیا کہ میڈیا نے ان کے مر نے کی خبر یں چھا پنا بند کر دیں اور ہم نے جو اکا دکا چھپ بھی جا تی تھیں تو انہیں پڑھنا تر ک کر دیا۔ مگر اب تو سا ہیوا ل کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹرز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میںآٹھ بچو ں کی ایک ہی دن میں موت غفلت اور غیرذمہ داری کی سنگین مثال ہے۔ مبینہ طور پر بچوں کی اموات اے سی بند ہونے سے شدید گرمی اور گھٹن کی وجہ سے ہوئیں۔ یہ صورتحال ہمارے ہاں سرکاری شعبہ صحت کی ناگفتہ بہ حالت کی عمومی عکاسی کرتی ہے۔ ہمارے ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں وسائل سے زیادہ وسائل کی درست مینجمنٹ اور احساس ذمہ داری کا مسئلہ درپیش ہے۔ کم از کم 24 گھنٹے تک ہسپتال کے اس وارڈ کا ایئرکنڈیشنر خراب رہا، جہاں نوزائدہ بچوں کو رکھا جاتا ہے۔ شدید درجہ حرارت کم سن بچوں کی جان کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہوسکتا ہے، ہسپتال کے ڈاکٹروں کو اس کا احساس ہونا چاہیے تھا مگر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کوئی تدبیر نہ کی گئی۔ ا ٓ ٹھ بچوں کی اموات کے بعد جب یہ المیہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے نوٹس میں ا ٓیاتو حسبِ روایت واقعے کی انکوائری شروع کروادی گئی۔ کاش ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے یہی پھرتیاں بروقت دکھائی جاتیں تاکہ یہ بڑا سانحہ رونما نہ ہوتا۔ بظاہر یہ واقعہ بھی غفلت کی وہی کہانی بیان کرتا ہے جو ہمارے سرکاری شعبوں کے کام کا حصہ بن چکی، وجہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں فرائض کے قواعد و ضوابط کو اہمیت نہ دینا روایت بن چکا ہے۔ اس بدنظمی کا نتیجہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں وسائل موجود ہونے کے باوجود ان سے بہترین انداز میں استفادہ نہیں کیا جاتا۔

حا لت کچھ اس حد تک بد تر ہو چکی ہے کہ حکو مت کی او پر ی سطح کی قیا د ت کو سجھا ئی نہیں دے رہا کہ پا رٹی کی ا ند ر ونی ٹو ٹ پھو ٹ کو ٹھیک کر یں یا ملک کی ابتر ہو تی صو ر ت پہ تو جہ دیں ۔ یہی و جہ ہے کہ حکومت کے لیے جو خطرات بہت پہلے سے محسوس کیے جارہے تھے اب ان کی شدت میں اضافہ نظر ا ٓرہا ہے۔ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں میں حکومت مخالف تحریک چلانے کے حوالے سے اتفاق رائے بڑھتا جارہا ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بے نظمی اس صورتحال میں عمل انگیز ثابت ہورہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی اور اپنی کارکردگی کے تقابلی جائزے پر مبنی قرطاس ابیض جاری کیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ لوگ سابق حکمران جماعت کے دعووں پر یقین کرتے ہیں یا نہیں کرتے، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کے بارے عوامی عدم اطمینان میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ پچھلے نو ماہ کے دوران لوگوں کے اخراجات میں جس قدر اضافہ ہوچکا ہے، اس سے مایوسی کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ یہ مایوسی جو حکومت کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے حکومت کے خلاف رائے عامہ کی سب سے بڑی محرک بھی ہے۔ ٹھیک ایک برس پیچھے انہی دنوں جو لوگ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خوشگوار توقعات رکھتے تھے، ا ٓج ان کی تعداد میں غیرمعمولی کمی واقع ہوچکی ہے۔ عام ا ٓدمی کا تو کیا ذکر خود حکومتی جماعت کے حامیوں کی ایک قابل ذکر تعداد حیرت و استعجاب میں مبتلا ہے۔ حکومت کے پہلے نو ،دس ماہ کے دوران عوامی مایوسی کا یہ عالم اسی کارکردگی کا نتیجہ ہے جو ابھی تک کسی شعبے میں بھی موثر طور پر ثابت نہیں ہوسکی۔عملی اقدامات کو چھوڑیں، منصوبہ بندی کا جو فقدان ہے وہ بذات خود بڑی کمزوری کی علامت کے طور پر موجود ہے۔ اس صورتحال نے حزب اختلاف کا کام ا ٓسان کردیا ہے، جبکہ مہنگائی اور معاشی صورتحال کے بارے درست اور بروقت فیصلے نہ کرکے حکومت خود ایسے حالات پیدا کرتی چلی جاتی ہے کہ جو سیاسی مخالفین کو استحصال کا موقع فراہم کررہے ہیں۔ رمضان المبارک خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوامی شکایات میں خا طر خو ا ہ ا ضا فہ ہو ا اور اس ماہِ مقدس کے ا ٓخری دنوں میں حکومت نے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرکے اس عوامی اضطراب کو عروج پر پہنچادیا۔ مذہبی اور قومی تہوار تو عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا موقع ہوتے ہیں، جسے حکومت کی جانب سے عوام کے لیے تحفہ قرار دیا جاسکے نہ کہ عوام کی جیبوں پر بوجھ مزید بڑھانے کا۔ قیمتیں بڑھانے کے ماضی کے بہت سے فیصلوں کی طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بھی عوامی نقطہ نظر سے مناسب فیصلہ نہ تھا۔ حکومت کے یہ فیصلے حکومتی غیر مقبولیت میں اضافے کے علاوہ حزب اختلاف کے حکومت مخالف بیانیے کو تقویت فراہم کررہے ہیں۔ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ ان دس ماہ کے دوران ملکی کرنسی کی قدر میں 27 فیصد کمی ا ٓئی، مہنگائی میں دوگنا اضافہ ہوا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 23 فیصد اور 24 فیصد اضافہ ہوا، بجلی کی قیمت میں 20 فیصد اور گیس کی قیمت میں 143 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ریونیو کی وصولی میں چار سے پانچ سو ارب روپے کی کمی کا خدشہ ہے اور شرح سود 6 فیصد سے 12 فیصد تک جا پہنچی ہے جس سے قرضے مہنگے ہوچکے ہیں، لامحالہ جس کے اثرات کاروبار پر پڑتے ہیں۔ جب یہ بیانیہ عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا تو اپنے دفاع کے لیے حکومت کے پاس ماضی کی حکومتوں کی بدعنوانیاں یاد دلانے کے سوا کیا دلیل ہوگی؟ حقیقی معاشی مشکلات کے ساتھ کیا عوام حکومت کے ان دلائل کو وزن دینے کے لیے تیار ہوں گے؟ کیا مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا یہ کہنا کہ ٹیکسوں کا بوجھ کچھ عرصے کے لیے برداشت کرنا ہوگا، عوام کے لیے کوئی معمولی بات ہے؟ مشیر خزانہ یہ شکوہ کیوں کرتے ہیں کہ کوئی بھی سیکٹر ٹیکس دینے کو تیار نہیں۔ انہیں اس صورتحال کا پیشہ وارانہ جائزہ لینا چاہیے اور ٹیکس نادہندگی کا حل پیش کرنا چاہیے۔

با ت شر و ع ہو ئی تھی، سا ہیو ال کے ا ٓ ٹھ نو مو لو د کی امو ات سے۔وا پس اگر اسی پہ لو ٹیں تو یہ سا نحہ ہما ری ہیلتھ کئیر کی پو ل پٹی کھو لنے کے لیئے کا فی ہے۔ حکو مت سنبھا لنے سے پہلے تحر یکِ ا نصا ف اس و قت کی حکو مت پہ تنقید کر تی رہی کہ وہ سڑ کیں اور جنگلہ بس بنا نے سے پہلے ہیلتھ کیئر پہ تو جہ دیتی۔تو قع تھی کہ تحر یکِ انصا ف بر سرِ اقتد ا ر ا ٓ کر اپنی تر جیحا ت طے کر تے ہو ئے سب سے پہلے ہیلتھ کیئر پہ تو جہ دے گی ۔ مگر نہیںصا حب۔ سب دیکھ رہے ہیں کہ سر کا ری ہسپتا لو ں کی حا لت ابتر سے مز ید ابتر ہوئے جا رہی ہے۔ حا ملہ خوا تین اسی طر ح ہسپتا لو ں کے با ہر اور چلتے رکشا ئو ں میں بچو ں کو جنم دینے پہ مجبو ر ہیں۔کیا رو ئیں اور کتنا روئیں۔


ای پیپر