ماہِ صیام اور عظمت قرآن…!
07 جون 2019 2019-06-07

رمضان المبارک کا رحمتوں، نیکیوں، برکتوں ، مغفرت اور بخشش کا مہینہ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ اس ماہ مبارک کے دوران سحر و افطار کے مقررہ معمولات جاری رکھنے کے ساتھ عبادات کے معمولات میں بھی کچھ بہتری آجاتی ہے۔ پنجگانہ نماز، نوافل کی ادائیگی، تلاوتِ کلام مجید اور ذکر اذکار کے ساتھ نمازِ تراویح میں کلامِ مجید کا سننا اور سنانا ایسے معمولات ہیں جن پر عمل پیر اہونا کچھ کچھ مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن اللہ کی رحمت ِ خاص سے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے اِن معمولات کی ادائیگی بالعموم ہر مسلمان گھرانے میں کسی نہ کسی حد تک اور کسی نہ کسی صورت میں ضرور ہوتی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں جوں جوں روزے گزرتے جاتے ہیں اور رمضان المبارک کا اختتام قریب ہونے لگتا ہے تو رمضان المبارک سے بطورِ خاص جڑے اِن معمولات سے دُوری یا اِن کا چھوٹ جانے کا احساس دِل میں ایک طرح کی کسک، چُبھن اَور ایک طرح کی محرومی کا باعث بھی بننے لگتا ہے۔ پیر 28رمضان المبارک کو یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو بلا شبہ میرے جیسے عصیاں کار کے دِل میں رمضان المبارک کے معمولات سے جُدائی، اِن کو پو را کرنے میں کوتاہی کے ساتھ ساتھ کچھ کچھ یہ احساس کہ 12(بارہ) ماہ بعد اگلے سال یہ معمولات نصیب ہو سکیں گے کہ نہیں ۔ دِل کو بیقرار اور بے چین ہیں نہیں بنائے ہوئے ہیںبلکہ یہ احساس بھی حاوی ہے کہ شاید رمضان المبارک کے اس ماہ ِ مبارک میں یہ نافرمان اور گنہگار بندہ اپنے مالک حقیقی کی نعمتوں، عطائوں، بخششوں اور رحمتوں کا حق اَدا کرنا تو دُور کی بات اُس کی صحیح طور پر شکر گزاری بھی نہیں کر سکا ہے۔ خیر یہ محرومی اور اس کا احساس بھی ایک سرمایہ ہے کہ آخر اِس میں بھی ایک عجز ہے ،اِنکساری ہے ، اِس میں بھی اپنی نامرادی، ناکامی اور کوتاہیوں کا اعتراف ہے اور مالکِ حقیقی کے حضور یہ التجاء جو کچھ بھی ہے تیرے اختیار میں ہے ۔میں تو تیرا ایک ناچیز بندہ ہوں۔تُو مالک ہے ،آقا ہے ۔ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔میرے پاس توکچھ بھی نہیں سوائے عصیاں کاری اور کوتاہیوں کے ،ہاں ایک نسبت ضرور ہے جو بہت قیمتی ہے ،بہت ارفع اور اعلیٰ ہے اور جس کی تیرے نزدیک بہت قدر ہے کہ میں تیرے حبیبِ پاکؐ کی اُمت میں سے ہوںجسے خیر الامت کہا گیا ہے اور میں نے تیرے پیارے حبیب آقا و مولا حضرت محمد رسولؐ اللہ کا کلمہ پڑھ رکھا ہے ۔میں اُن کی شفاعت کا طلب گار ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ یومِ محشر مجھے یہ شفا عت نصیب ہو گی کہ بقولِ مولا نا حالی ـــ ـ؎

ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارے

نسبت بہت اچھی ہے ،اگر حال بُرا ہے

رمضان مبارک کے ان الوادعی لمحات میں مجھے تھوڑا سا تذکرہ لین5لالہ زار راولپنڈی کی جامع مسجد حنیفہ ،اس کے خطیب اور امام قاری صلاح الدین اور جمعتہ المبارک رمضان کی 26شب کو نمازِ تراویح کے بعد یہاں منعقد ہونے والی ختم کلام مجید کی تقریب کا کرنا ہے کہ اس سے میرا مقصود عظمت ِ قرآن کا بیان ہے ۔قاری صلاح الدین جو حافظِ قرآن ہیں پچھلے تین عشر وں سے رمضان المبارک کے دوران نمازِ تراویح میں یہاں قرآن پاک سُنا رہے ہیں ۔اُن کا قرآن پاک پڑھنے کا انداز انتہائی مسحور کُن ،پُر کشش ،خوبصورت اور مُنفرد ہے کہ انسان اس میں کھو کر رہ جاتا ہے ۔قاری صلاح الدین نماز تراویح میں قرآن پاک سُناتے ہیں اور خوبصورت قرات میں ایک ایک لفظ کی ادائیگی کرتے ہیں تو لُطف آ جاتا ہے ۔تراویح کی بیس رکعتوں میں سوا یا کُچھ اوپر پارہ سواگھنٹے یا ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل کر لیتے ہیں ۔بعد میں وتر کی نماز میں جب ذرا ٹھہر ٹھہر کر اور مقابلتاً اونچی آواز میں صورۃالفاتحہ اور ساتھ دوسری چھوٹی سورتوں کی قرات کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ اللہ کریم کی کبیریائی اور اُس کے پاک کلام کی عظمت پوری کائنات اور زمین و آسمان کی تمام وسعتوں میں پھیل اور بکھر کر گُونج رہی ہے ۔سچی بات ہے کہ میری طرح کے گناہگار اور عصیاں کار اللہ پاک کے کلام کے اعجاز میں کھو جاتے ہیں ۔

بلاشبہ اللہ کریم کے پاک کلام کے اعجاز کا کوئی شُمار نہیں ۔اس کے الفاظ کا حُسن ،ان کے صوتی اثرات اور اس کا اندازِ بیان اتنا بے مثال اور بے پناہ ہے کہ انسانی دماغ اِس کا پوری طرح احاطہ نہیں کر سکتا ۔غیر مذاہب کے لوگ بھی قرآن کے اِس اعجاز کو تسلیم کرتے ہیں اس کے ساتھ اس پاک کلام کی بہت بڑی فضلیت ، عظمت ،برکات اور بلند درجات ہیں۔اِس پاک کلام کے ایک ایک حرف ،ایک ایک شوشے ، اور ایک ایک زبر ،زیر، پیش اور نقطے کے برحق ہونے پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔خود اِس پاک کلام میں اس پاک کلام کی عظمت کا جا بجا حوالہ دیا گیا ہے ۔رمضان میں مساجد میں نماز تراویح میں ختم کلام پاک کی تقاریب میں بھی قرآن پاک کی اِس عظمت کو بیان کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے ۔اکثر سورۃالقدر کا حوالہ دے کر بات کی جاتی ہے کہ لیلتہ القدرکو ہزار مہینوں کی راتوں سے اِس بنا پر افضل قرار دیا گیا ہے کہ اِس رات میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔مسجد حنیفہ میں رمضان المبارک کی 26ویں شب کو منعقدہ ختم قرآن پاک کی تقریب میں حضرت مولانا قاضی محمد ضیا الحق مدظلہ عالیٰ نے عظمت قرآن کے موضوع پر جو خطاب کیا بلاشبہ انتہائی عالمانہ اور مسحور کُن تھا ۔حضرت مولانا قاضی ضیاالحق پیرانہ سادی کے باوجود دین کی تبلیغ و اِشاعت اور خدمت کا فریضہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔وہ فوجی فائونڈیشن کالج لالہ زار میں طویل عرصے تک اسلامیات کے اُستاد کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔اب بھی وہ پنڈی کی ایک مضافاتی بستی میں مسجد کے امام اور خطیب ہیں۔مسجد حنیفہ لالہ زار میں عرصہ دراز سے منعقدہ درسِ قرآن کی ماہانہ مجالس میں وہ خطاب کرتے چلے آ رہے ہیں۔مسجد میں ختمِ قرآن پاک کی سالانہ تقاریب میں بھی بطورِ مہمانِ خصوصی اُن کے خطاب کو ترجیح دی جاتی ہے ۔حضرت مولانا قاضی ضیا الحق نے اپنے خطاب میں بطورِ خاص اِس بات کا تذکرہ کیا کہ قرآن اور صاحب قرآن ہمارے لیے اللہ کریم کے بہت بڑے احسانات اور اللہ کریم کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔یہ اُمتِ مسلمہ کی کوتاہی ہے کہ وہ اِن نعمتوں کی پوری قدر نہیں کر رہی ۔یہ اللہ کریم کے پاک کلام کا اعجاز تھا کہ اللہ کے پاک نبیؐ نے اُس کی تعلیمات کے مطابق ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی تو پوری دُنیا میں ایک انقلاب آگیا۔آج بھی اُمت مسلمہ اپنے اللہ اور اللہ کے پاک نبی حضرت محمد رسولؐ اللہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کر سکتی ہے۔


ای پیپر