حکومت کا کارنامہ…سرکاری سرپرستی میں ’’دو عیدیں‘‘
07 جون 2019 2019-06-07

تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی جانب سے پیر کو شوال کا چاند نظر آ جانے کے اعلان کے بعد سرکاری طور پر بھی صوبہ خیبر پختونخواہ میں عید منانے کا اعلان کر دیا۔ جب کہ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئر میں مفتی منیب الرحمان نے تو رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس ہی منگل کو بلایا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو اس بار بھی ایک روز قبل ہی چاند دیکھنے کی شہادتیں موصول ہو گئیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ماضی میں بھی مفتی پوپلزئی کو چاند ایک دن پہلے ہی نظر آ جایا کرتا تھا لیکن اس وقت کی حکومتیں ان کے اعلان کو اہمیت نہیں دیتی تھیں اور مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق عید منائی جاتی تھی جسے صوبائی رویتِ ہلال کمیٹیوں کی بھی تائید حاصل ہوتی۔ بڑی حیرت کی بات ہے کہ صوبے اور مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باوجود کے پی کے میں سرکاری سطح پر عید ایک روز پہلے منا لی گئی۔ یعنی حکومت چند منحرفین کو موجودہ نظام کا پابند بنانے کے بجائے ان کی ہمنوا بن گئی۔ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کی یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی کے اربابِ اختیار اناڑی ہیں اور انہیں حکومت کرنے کا تجربہ نہیں ہے انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس طرح رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کو نظر انداز کر کے عید منانے کے اعلان کی تائید کرنا کس حد تک خطرناک ہے اور اس سے جو انتشار کی کیفیت ملک میں پھیلی اس کا احساس کیا ہی نہیں گیا۔ دوسرا 28 رمضان المبارک کو عید کا چاند نمودار کر کے رویتِ ہلال کے حوالے سے ملک میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ رویتِ ہلال کے نمودار ہونے پر اتفاق نہ ہونا بہت بڑی بد نصیبی کے ساتھ ساتھ اسلام مخالف قوتوں کو ایک موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ جب کہ اس سے ایک مذہبی تہوارکو متنازعہ بنا کر ان عناصر کو شعائرِ اسلامی کو تضحیک کا نشانہ بنانے کا موقع دیا گیا جو دینِ اسلام کے حوالے سے پہلے ہی منفی پروپیگنڈے میں مصروف رہتے ہیں۔

بالفرض مفتی پوپلزئی کی بتائی گئی رویتِ ہلال درست تھی تو پھر اس کی بنیاد پر وفاقی حکومت ملک بھر میں ایک ہی دن عید کے تہوار کا اعلان کر سکتی تھی اور اگر یہ درست نہیں تھی تو پھر اس کو روکا جانا چاہئے تھا۔ عام آدمی کی رائے میں ایسے افراد جنہیں موجودہ دور کے جدید آلات بھی میسر نہیں ہیں انہیں چاند کا نظر آجانا اورا ن کو جن کو یہ تمام سہولیات میسر ہیں انہیں چاند نظر نہ آنے سے مراد ہے کہ کچھ بیرونی قوتیں مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کے لئے ایسے لوگوں کو خرید لیتی ہیں جو رویتِ ہلال کی جھوٹی شہادت دے دیتی ہیں سارا معاملہ ملک میں مختلف سطحوں کی طرح فنڈنگ کا ہی ہے۔ تبدیلی سرکار کی آمد کے ساتھ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ رویتِ ہلال کا تنازعہ مٔوثر انداز میں حل کرائیں گے اور دو عیدوں کے معاملے کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیں گے ۔لیکن ان کے اس طرزِ عمل نے صورتحال پہلے سے بھی زیادہ خراب کر دی ہے۔ حکومتی سطح پر 28 رمضان المبارک کا چاند چڑھا کر نئی روایت پیدا کر کے دینِ اسلام کے بد خواہوں کو تمسخر اڑانے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ الحادی قوتوں کو پہلے ہی فروعی اختلافات کی بنیاد پر ہماری صفوں میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ملک میں انتشار پھیلانے کا موقع مل رہا ہے۔ موجودہ وقت میں وطنِ عزیز جس قسم کے مسائل میں جکڑا ہوا ہے اس وقت ہمیں قومی یکجہتی کی زیادہ ضرورت ہے لیکن رویتِ ہلال کے معاملے میں صوبوں میں اختلافات سے قومی اتحاد و یکجہتی کی فضا کو مزید خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

وفاقی وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ موجودہ سائنسی اور فنی ذرائع علم سے چاند کی رویت پر اعتماد کر کے مستقل اسلامی کیلنڈر بنا لیا جائے۔ کئی علمائے اکرام کا خیال ہے کہ ہمارے نظامِ رویت کا مدار بنیادی طور پر رویتِ بصری پر ہے، لیکن اگر سائنسی اور فنی ذرائع سے ہمیں کسی چیز کا علم قطعی ہو جائے تو تو شرعاً اس سے استفادہ کرنے میں حرج نہیں ہے بلکہ کرنا چاہئے اور ہم بہت سے دینی مسائل پر ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ ہم دینی مسائل کو شرعی اصولوں ہی کے مطابق حل کرتے ہیںلیکن ان اصولوں کا اطلاق کرنے میں قطعی سائنسی معلومات پر مدار رکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا ماہرینِ فلکیات اور جدید سائنسی ایجادات کی اہمیت اور افادیت سے فائدہ اٹھانا چاہئے تا کہ اس طرح کے فیصلوں میں اختلافات کو ختم کیا جا سکے اور خیبر پی کے بعض علاقوں کے علمائے اکرام کو ذاتی انا کی خاطر غلط فیصلے کرنے سے باز رکھا جا سکے۔ یہاں تک کہ مہاجر افغانی مسلمانوں کو بھی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کا احترام کرتے پاکستانی عوام کے ساتھ عید کی خوشیاں منانی چاہئے، سعودی عرب یا افغانستان کے ساتھ عید منانے کا کوئی شرعی موجود نہیں ہے کیونکہ رویت مقامی یا ملکی سطح پر یکساں لاگو ہوتی ہے۔ مجھے اس دفعہ یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ فیصل آباد شہر میں رہنے والے بہت سے پختون بھائیوں نے بھی روزہ مفتی پوپلزئی کے اعلان کے مطابق رکھا۔ رویتِ ہلال کا فیصلہ ایک قضا ہے اور اس کے لئے ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ جس کے تقرر کا اختیار شریعتِ اسلام میں اور جدید نظام ِ آئین و قانون میں سربراہِ مملکت کو ہے۔ کسی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ خود سے رویتِ ہلال کا فیصلہ کرنے لگے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے ہاں یہ ہو رہا ہے کہ رویتِ ہلال کے مسئلے پر خیبر پی کے میں چند مولوی حضرات رویتِ ہلال کمیٹی کے متوازی کمیٹی بٹھا کر شہادتیں قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ یہ شرعی لوگوں کا غیر شرعی اقدام ہے اور یہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آ رہا ہے، ہر دور میں ان حضرات کا طرزِ عمل یہی رہا اور ہر دور میں مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کے فیصلے سے ان چند حضرات نے اختلاف کیا اور اس سے مذہبی انتشار کو فروغ ملا اور مذہبی عناصر تنقید کا نشانہ بنے۔ لیکن اس دفعہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت نے بھی ان کے اعلان کی تائید کی ہے۔


ای پیپر