افغانستان ،انقلاب سے انقلاب تک ،40سال گزر گئے امن کا نشان نہیں

07 جون 2018 (21:58)

امتیاز کاظم :انقلابات قوموں کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اورنظریاتی بنیادوں پر جو انقلاب آتے ہیں اُن کے اثرات دیرپا اور بڑے جاندار ہوتے ہیں کیونکہ ایسے انقلابات کی جڑیں عام لوگوں کے اندر ہوتی ہیں، ایسا ہی نظریاتی انقلاب افغانستان میں بھی برپا ہوا تھا جسے نہ تو زیادہ اسلامی نظریاتی کہا جاسکتا ہے نہ ہی کلاسیکی پرولتاری اورنہ ہی مارکس ازم سے مکمل ہم آہنگ لیکن اس انقلاب نے مذہبی جبر، قبائلی پسماندگی، ناخواندگی، جاگیرداری اور وار لارڈزکے خاتمے میں اہم کردار اداکیا۔ مفلوج سرمایہ کاری اور سامراجی جکڑکو توڑا اور سودخوری کے نظام کا خاتمہ کیا۔ اس انقلاب کو افغانستان کا ”ثورانقلاب“ کہا جاتا ہے۔ نادرشاہ کے بیٹے ظاہرشاہ کی حکومت کو جب اس کے بہنوئی محمد داﺅد خان نے ختم کیا تو73ءسے 78ءتک کا پانچ سالہ دور جبر واستبدار اور تقریباً خانہ جنگی کا دور تھا۔

یہاں تک کہ نورمحمد ترہ کئی کی خلق پارٹی نے 27اپریل تا اوائل مئی 1978ءمیں داﺅد حکومت کا خاتمہ کردیا۔ خلق پارٹی دراصل ”افغان عوامی جمہوری پارٹی“ یا پی ڈی پی اے (پیپلزڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان ) کا ریڈیکل دھڑا تھی اور اسی نے محمد داﺅد خان ، سردارداﺅد خان کے محل پر بمباری بھی کی تھی کیونکہ پی ڈی پی اے کے رہنما ”میراکبر خیبر“کا قتل سردار داﺅدکے کھاتے میں پڑ رہا تھا جس کا جنازہ داﺅد حکومت کے خلاف ایک بڑے مظاہرے میں تبدیل ہو گیا تھا اور داﺅد حکومت نے پی ڈی پی اے اورخلق پارٹی کی قیادت کوگرفتارکرکے پُل چرخی جیل بھیج دیا تھا۔

ان حالات میں حفیظ اللہ امین نے دلیرانہ قدم اُٹھاتے ہوئے فوج اور ایئرفورس میں اپنے ساتھیوں کو بغاوت کا پیغام پہنچا دیا تھا چنانچہ27 اپریل کو ایئرفورس کے شاہی محل پرحملے اور فوج کے اہم سرکاری عمارات کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد نورمحمد ترہ کئی کی قیادت میں ایک ”انقلابی کونسل“ تشکیل دے دی گئی جس نے کابل سمیت ملک کے بڑے حصے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ نورمحمد اگرچہ مارکس ازم سے مکمل ہم آہنگ تو نہ تھا لیکن پھر بھی مارکس ازم سے کچھ متاثرضرور تھا کیونکہ محنت کشوں،کسانوں اور مزدور کے لےے کئے گئے اقدامات مارکسی نقطہ نظرکے زیادہ قریب دیکھے گئے جن کا مختصر تذکرہ آگے چل کرکروں گا لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف اس دن میں انقلاب برپا ہوگیا یعنی17اپریل 1978ءکو پی ڈی پی اے کے رہنما میراکبر خیبرکا قتل ہوا اور 27اپریل 1978ءکو انقلابی فوج نے کنٹرول سنبھال لیا، دراصل میں سمجھتا ہوں کہ افغانیوں کی خُومیں ان کی فطرت میں محکوم بن کر رہنا ہے ہی نہیں۔

حفیظ اللہ امین اور نورمحمد ترہ کئی بھی ہر قسم کی بیرونی مداخلت کے سخت مخالف تھے لہٰذا انقلابی ٹھہرے، یوں کہا جاسکتا ہے کہ افغانوں کی اکثریت انقلابی ہے کہ پینتیس چالیس سال سے حالت جنگ میں ہے اورکوئی ان پر غلبہ نہ پاسکا۔ اندرونی حالات کچھ بھی ہوئے لیکن افغانیوں نے غیرملکی تسلط کو قبول نہ کیا۔ برطانیہ، روس، امریکہ تینوں کا سورج افغانستان میں غروب ہوچکا ہے۔ جبرواستبدادکی آخری حد تک جاکر بھیMOB جیسا بم برسا کر بھی وہ نتائج حاصل نہ کرسکے۔ ونسٹن چرچل اپنی سوانح حیات ”میری ابتدائی زندگی“میں سامراجی جبرکے بارے بہت کچھ لکھا ہے مثلاً ”برطانوی ان وحشی قبائلیوں کے خلاف ہولناک جنگ کریں گے، آج کے بعد ہم ہرگاﺅں اور ہر اس باسی کو جلاکر راکھ کردیں گے جو ہمارے مدمقابل آئے گا، ان وحشی قبائلیوں کو سبق سکھانا ہوگا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم انگریز بڑے ظالم لوگ ہیں“۔


چرچل آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ”ہم ترتیب سے دیہات کے بعد دیہات اور ان کے گھر کے بعد اگلے گھر تباہ کردیں گے، ان کے کنوﺅں کو بھردیں گے تاکہ پانی نہ ملے، ان کی بڑی عمارتیں گرا دیں گے، درخت جڑوں سے اُکھاڑ دیں گے، فصلوں کو جلا دیں گے تاکہ یہ زندگی بھی سزا کے طور پر کاٹیں“۔ چرچل صاحب آپ اتنا کچھ جوکریں گے اور اس پر جو خرچہ آئے گا اس کا صرف چوتھائی حصہ ان کو اپنے جیسا مہذب بنانے پر خرچ کر دیتے تو نہ آپ کو اپنے سپاہیوں کی قربانیاں دینی پڑتیں نہ آپ کو اتنا دُکھ اُٹھانا پڑتا اور نہ ہی ان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنا پڑتے بلکہ اُلٹا یہ وحشی قوم آپ جیسے ”مہذب لوگوں“کی ممنون ہوتی۔ ان کو تعلیم یافتہ ہی کر دیتے اور مناسب روزگار فراہم کر دیتے تو یہ شاید آپ کے محکوم بن کر بھی گزارہ کر لیتے۔ ثورانقلاب کے بعد آنے والی نوجوان نسلیں اپنے اندر اور بھی چٹانی حوصلے سے بھرپور ہوگئی ہیں۔ وہ سامراجی جبرواستحصال سے اور بھی شدت کے ساتھ نفرت کرنے لگے ہیں۔

مغربی سامراجیو! اب یہ سوچوکہ تمہارے بڑے بڑے بم تمہاری جدید ٹیکنالوجی، تمہارا جدید جنگی سازوسامان ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ان کو ڈرا نہ سکا تو اب اگر یہ تمہاری طرف واپس پلٹ پڑے تو تم ان کا کیا بگاڑ لوگے۔ ان کوکیسے ڈراﺅگے، یاد رکھنا! بھیڑےے بھی شیر اور ہاتھی کا شکارکر لیتے ہیں، تم اگر شکاریوں کے نرغے میں آگئے تو بچاﺅکا راستہ نہیں ملے گا۔ جیسے برطانوی سامراج کو راستہ نہیں ملا تھا اور افغانستان میں داﺅد حکومت کو راستہ نہیں ملا تھا۔ جب27 اپریل کو آدھی رات کو افغان ایئرفورس نے حملے تیزکردیئے تھے اور انقلاب کی راہ ہموارکر دی تھی، 28 اپریل کو نورمحمد ترہ کئی کی قیادت میں افغان انقلابی کونسل بن گئی۔ حفیظ اللہ امین پولٹ بیوروکے ممبر برائے پی ڈی پی اے اور افغانستان کے ویر خارجہ ٹھہرے۔ نورانقلابی حکومت کی انقلابی کونسل نے جو اقدامات اُٹھائے اس میں مذہبی جبرکا خاتمہ اور مذہبی آزادی قبائلی پسماندگی کے خاتمے کے لےے اقدامات جاگیرداری نظام اور وار لارڈزکا خاتمہ کسانوں کے لےے اقدامات اور تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ انقلابی کونسل کے حکم نامہ چھ کے مطابق کسانوں پر واجب الادا قرضے معاف کر دیئے گئے۔

سودخوری نظام کا خاتمہ کیا گیا اور بڑے زمینداروں کو ملنے والی تمام آمدن کو منسوخ کردیا گیا۔ بڑے جاگیرداروں اور زمینداروں کی زمینوں کو چھوٹے کسانوں کو تقسیم کا منصوبہ شروع کیاگیا اور خواتین کو مردوں کے برابر حقوق تفویض کےے گئے، لڑکیوں کی زبردستی شادی کو ممنوع قراردیا گیا اور پیسے کے بدلے بڑی عمرکے مردوں کی نوجوان لڑکیوں سے شادی پر پابندی عائدکی گئی۔ بچپن کی شادی کو ممنوع ومنسوخ قرار دیاگیا۔ لڑکی کی شادی کی کم ازکم حد 16سال اور لڑکے کی 18سال مقررکی گئی۔ بیواﺅں کو خاندانی یا قبائلی رسم ورواج کی وجہ سے دوسری شادی سے روکا جاتا تھا، اسے منسوخ قرار دیا گیا۔ اسی طرح ایک اور حکم نامے کے مطابق کہا گیا کہ موجودہ انقلابی حکومت کا مقصد ملک کے سماجی اور معاشی نظام سے جاگیردارانہ اور قبل ازجاگیردارانہ نظام اور علاقائی سیاست کا خاتمہ کرنا ہے، ایک حکم کی ذیلی شق میں کہا گیا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم اور زرعی کوآپریٹوز کے نظام کو فعال کیا جائے۔ شرح خواندگی کو بڑھایا جائے اور1990ءتک پورے افغانستان سے ناخواندگی کا خاتمہ کیا جائے لیکن1990ءسے پہلے ہی افغانستان کو روند دیاگیا کیونکہ 29دسمبر 1979ءکو سوویت یونین کی سُرخ فوج دریائے آموپارکرکے افغانستان میں داخل ہوچکی تھی جبکہ حفیظ اللہ امین افغانستان میں صدارت کے عہدے پر براجمان تھے اور سُرخ فوج کے کمانڈوز نے سب سے پہلے حفیظ اللہ امین ہی کو نشانہ بنایاکیونکہ پی ڈی پی کے دودھڑے تھے، ایک خلق پارٹی تھی جبکہ دوسری پرچم پارٹی۔ خلق پارٹی نورمحمد ترہ کئی کی قیادت میں اور نورمحمد ترہ کئی حفیظ اللہ امین سمیت افغانستان میں ہر طرح کی بیرونی مداخلت کے سخت خلاف تھے اورافسرشاہی کے بھی مخالف تھے، یہ بات افغان افسرشاہی کو بُری طرح چبھ رہی تھی۔

دوسری طرف پرچم پارٹی تھی جوکہ افسرشاہی کی ہی پیداوار تھی اور اسی کے مفادکے لےے کام کررہی تھی، چنانچہ حفیظ اللہ امین کے خاتمے کے بعد سُرخ فوج پرچم پارٹی اور افسرشاہی کے تعاون سے ہی چلتی رہی جبکہ نورمحمد ترہ کئی اسی خلق اور پرچم پارٹی کے داخلی انتشارکی وجہ سے مارے گئے چنانچہ حفیظ اللہ امین کے قتل کے بعد پرچم دھڑے اور افسرشاہی کے تعاون سے ”ببرک کارمل“ اقتدار کی گدی پر براجمان ہوا۔ اسے بھی پی ڈی پی اے کی حمایت حاصل رہی چونکہ دونوں دھڑے ایک ہی پارٹی کی پیداوار تھے۔ ہم ماضی میں جھانکتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ روسی سُرخ فوج کے انخلاءکے بعد بھی پی ڈی پی اے کی حکومت افغانستان میں 4 سال تک قائم رہی، ممکن ہے یہ کچھ اور عرصہ نکال جاتی لیکن یہ حکومت بھی اندرونی خلفشار، انتشار اورغداریوں کی وجہ سے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کی وجہ سے گری۔ ایک اور فیکٹر بھی اس میں اہم کردار اداکرتا ہوا نظر آتا ہے اور وہ ہے منشیات اور پوست کی کاشت کا فیکٹر۔ چنانچہ پوست کی کاشت کرنے والے دھڑے اور گروہ اور مقامی جاگیردار، وار لارڈز آپس میں اُلجھ پڑے اور انارکی و انتشار کا شکار ہوئے۔ انقلاب جب انارکی کا شکار ہو جائے تو وہ انقلاب خواب بن جاتا ہے۔

خلق اور پرچم دھڑے اگر انارکی کا شکار نہ ہوتے تو میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کی تقدیرکچھ اور ہوتی۔ اس پر برطانوی سامراجیوں کے بعد روس حملہ آور نہ ہوتا حالانکہ روس بھی 1917ءکے بالشویک انقلاب کی ہی پیداوار ہے اوراس میں دو دھڑے بنے یعنی بالشویک اور مینشویک لیکن بالشویک ہی کامیاب رہے جبکہ مینشویک کوکُلی طور پر رُخصت کردیا گیا۔ خلق بھی اگر پرچم پارٹی، دھڑے کو اگرکُلی طور پر بے دست وپا کردیتی تو ببرک کارمل اپنا اقتدارکا شوق پورا نہ کرتا۔ روس کی رُخصتی کے بعد بھی افغانستان کے اندرونی خلفشار نے ملک کو مستحکم نہ ہونے دیا اورنائن الیون کے بہانے امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے افغانستان پر جنگ مسلط کردی۔ روس دورکے جہادی، پھر طالبان بنے اور پھر انہیں دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ مئی 1978ءسے مئی 2018ءتک چالیس سال مکمل ہونے کے بعد بھی افغانستان پر جنگ مسلط ہے اور امریکی اسے تسلط تک مسلط رکھنے کی کوشش میں ہیں اور اس کے اخراجات منشیات سے پورے کر رہے ہیں۔ انقلاب تو ایران میں بھی آیا تھا لیکن وہاں پوست کاشت نہیں ہوتی،کیا پاکستان بھی کسی انقلاب کی طرف بڑھ رہا ہے؟
٭٭٭

مزیدخبریں