خلیفہ چہارم، حیدر کرارحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ
07 جون 2018 (21:51)

حافظ کریم اللہ چشتی :امیرالمومنین سیدناحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا نام علی کنیت ابوالحسن ،ابوتراب القابات مرتضیٰ ،اسداللہ ،حیدرکرار،شیرخداہیں ۔آپ ؓ کے والدکانام ابوطالب جو حضرت عبدالمطلب کے بیٹے اورآقا کے چچاہیں۔آپ ؓکی والدہ ماجدہ کانام حضرت فاطمہ بنت اسد جوحضرت عبدالمطلب کی بھتیجی تھیں۔ آپ ؓکی والدہ کانکاح ابوطالب سے ہوا تھا ۔آپ ؓ حضورنبی کریم کے چچازادبھائی اورداماد بھی ہیں ۔آپ ؓ آقا کی پیدائش کے تیسویں سال مکہ مکرمہ میں پیداہوئے اور حضور سے عمر میں تیس برس چھوٹے تھے ۔آپ ؓ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی ۔

آپ ؓ کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ حضرت علی المرتضیؓ نے پیدا ہونے کے بعدتین دن تک دودھ نہیں نوش فرمایا جس کی وجہ سے آپ ؓ کے گھر والے سب پریشان ہوگئے۔ اس بات کی خبرآقائے دوجہاں کودی گئی ۔آپ تشریف لائے اورحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کواپنی آغوش رحمت میں لے کر پیار فرمایا اوراپنی زبان اطہرآپ ؓ کے دہن میں ڈال دی ۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم زبان اقدس کوچوسنے لگے اس کے بعد سے آپ ؓ دودھ نوش فرمانے لگ گئے۔ آپ ؓ نے صرف 5 سال اپنے والدین کے زیرسایہ پرورش پائی ۔اس کے بعد نبی کریم نے اپنے سایہ رحمت میں لے لیا اورآپ ؓکی تربیت فرمانے لگے ۔آپ ؓ بچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔(مشکوٰة المصابیح )


آپؓ کاشمارعشرہ مبشرہ میں ہوتاہے۔آپ ؓ حضوراکرم کی سیرت کاآئینہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے محبوب نے فرمایا” علی کے چہرے کودیکھنا بھی عبادت ہے“۔ آپؓ قرآن مجیدکے حافظ تھے قرآن مجیدکے معانی ومطالب پرآپ ؓکوعبورحاصل تھا۔آپ ؓ علم فقہ کے ماہرتھے۔ مشکل سے مشکل فیصلے بھی قرآن وسنت کی روشنی میں حل کرلیتے ۔آقا کافر مان عالی شان ہے ” میں علم کا شہرہوں اورعلی اس کادروازہ ہے“۔ آپ ؓ سے پانچ سوچھیاسی احادیث مبارکہ روایت ہیں جن میں بیس متفق علیہ نو بخاری کی اورپندرہ مسلم میں ہیں ۔آپ ؓ نے ساری زندگی رزق حلال کماکرکھایا۔ آپ ؓ محنت مزدوری میں کچھ عارمحسوس نہیں کرتے تھے۔ جس وقت آپ ؓ ایمان لائے اس وقت عمردس بارہ سال تھی۔ سوائے غزوہ تبوک کے سارے غزوات میں آپکے ساتھ شریک ہوئے۔ غزوہ تبوک میں آپ نے مدینہ منورہ اور اپنے گھر بارکا انتظام فرمانے کے لئے مدینہ میں چھوڑا تھا ۔ حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم نے غزوہ تبوک کے موقع پرحضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام مقررفرمایا۔ حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم آقا سے عرض کرنے لگے یارسول اللہ !آپ مجھے عورتوں اور بچوں پرخلیفہ بناکرجارہے ہیں ۔ آقا نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے فرمایا، اے علی!کیاتواس بات پرراضی نہیں کہ میں تمہیں اس طرح چھوڑے جارہا ہوں جس طرح حضرت موسیٰؑ نے حضرت ہارون ؑ کوچھوڑافرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعدکوئی نبی نہیں ہوگا۔

آقا کی حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے بے پناہ محبت تھی۔ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم نے فرمایاکہ منافق علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت نہیں رکھتااورمومن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے بغض نہیں رکھتا۔ حضرت ابن وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم مکہ مکرمہ سے واپس مدینہ منورہ تشریف لارہے تھے آپ نے مقام غدیر خم پراپنے تمام صحابہ کرام ؓ کوجمع کیا اورفرمایا تمہارا ”ولی“کون ہے صحابہ کرام ؓ نے تین مرتبہ جواب میں کہا ہمارا”ولی“ اللہ اوراس کے رسول ہیں ۔ حضورنبی کریم نے فرمایاکہ جس کا ”ولی“ اللہ اوراس کارسول ہے اس کا ”ولی“ علیؓ بھی ہے ۔


حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم نے انصارومہاجرین میں بھائی چارہ قائم فرمایا توحضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضورنبی کریم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کیا یارسول اللہ !آپ نے تمام صحابہ کرام ؓ کے درمیان مساوات اخوت کارشتہ قائم کیا لیکن میرے ساتھ ایساکچھ نہیں کیا؟آقا نے فرمایا اے علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم تم میرے دنیا وآخرت کے بھائی ہو۔


حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشادفرمایاحضرت ابوبکرصدیقؓ ، دین کاستون ، حضرت عمرفاروقؓ ، فتنوںکوبند کرنے والے، حضرت عثمان غنیؓ ، منافقوں کے لئے قیدخانہ اورحضرت علی المرتضیٰؓ ،مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، جہاں میں ہوگا وہاں علی المرتضیٰؓ ہوں گے اور جہاں وہ وہاں میں ۔


حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آقا نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہرنبی کی ذریات اس کی پُشت میں رکھی ہے لیکن میری ذریات علی المرتضیٰؓ کی پشت میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے جب حضرت سیدہ فاطمة الزہرہؓ کانکاح حضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے کیا توحضرت سیدہ فاطمة الزہرہؓ نے عرض کیاکہ آپ نے میرانکاح اس شخص کے ساتھ کردیا جس کے پاس نہ مال ہے نہ گھر؟اس پرآپ نے حضرت سیدہ فاطمة الزہ ؓ سے فرمایاکہ اے فاطمہ ! میں نے تیرانکاح ایسے شخص سے کیاجومسلمانوں میں علم وفضل کے لحاظ سے سب سے دانا اور بہترین ہے ۔


جس وقت مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ کے مظالم حدسے بڑھ گئے تھے توآقا نے اللہ پاک کے حکم سے صحابہ کرام ؓ کودعوت دی کہ مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کرجائیںکئی صحابہ کرام ؓ یکے بعددیگرے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرگئے تھے مشرکین مکہ کو جب معلوم ہواکہ آقا نے مسلمانوں کے لیے ایک محفوظ آماجگاہ مدینہ منورہ کی صورت میں ڈھونڈلی ہے توکفارکے سرداروں نے یہ فیصلہ کیاکہ (نعوذباللہ)آقا کوقتل کردیاجائے ۔آقا کوبذریعہ وحی مشرکین مکہ کے ناپاک ارادوں کی خبرہوئی تو آپ نے حضرت علیؓ کواپنے بسترپرلٹایاتھا اورانہیں حکم دیاتھاکہ وہ صبح ہوتے ہی لوگوں کی وہ امانتیں جوآقا کے پاس موجودتھیں وہ متعلقہ لوگوں کو واپس کرکے مدینہ منورہ پہنچیں۔ روایات میں آتاہے کہ آقا نے حضرت سیدناعلی المرتضیٰؓ سے فرمایا اے علی! مجھے ہجرت کاحکم ہوگیاہے میں سیدناابوبکرصدیق ؓ کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والاہوں۔ میرے پاس جو لوگوںکی امانتیں ہیں وہ میں تمہارے حوالے کرتا ہوں تم ان امانتوں کوان کے حقیقی مالکوں تک پہنچادینا مشرکین مکہ نے میرے قتل کی منصوبہ بندی کی ہے اوروہ آج رات مجھے قتل کرنے کا ناپاک ارادہ رکھتے ہیں تم بستر پر میری چادر اوڑھ کر لیٹ جاﺅ۔ حضرت علی المرتضیٰ ؓ آقا کے حکم کے مطابق لیٹ گئے ۔آقا سورة یٰسین کی تلاوت کرتے ہوئے گھرسے باہرتشریف لائے تھے ۔آقا نے مٹھی بھرکرخاک کی کفارکے منہ پرماری جس سے وہ اندھے ہوگئے تھے ساری رات انتظارکرتے رہے آخرکارایک شخص نے ان کوبتایاکہ حضور تومکہ مکرمہ سے جاچکے ہیں مشرکین مکہ میں سے ایک شخص نے اندرداخل ہوکرسوئے ہوئے آدمی کے اوپرسے چادراتاری توحضرت سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کودیکھ کرپریشان ہوگئے۔ انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ ؓ سے آقا کے بارے میں پوچھا توحضرت علیؓ نے جواب دیاکہ آقا کی نگرانی تم کررہے تھے اس لئے تمہیں معلوم ہوناچاہیے کہ وہ کہاں ہیں؟مشرکین مکہ یہ جواب سن کرشرمندہ ہوکر واپس چلے گئے ۔ حضرت علی ؓ نے آقا کے فرمان کے مطابق صبح ہوتے ہی لوگوں کوامانتیں واپس کرکے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب سفرہجرت شروع کردیا۔آپ ؓ قباکے مقام پرآقا اورحضرت ابوبکرصدیق ؓ سے جاملے تھے۔ آقا نے قباکے مقام پرایک مسجدکی بنیادرکھی تھی جس کی تعمیرمیں آپ ؓ نے بھی آقا کے شانہ بشانہ حصہ لیا تھا۔ وہ مسجد جمعہ کے روزمکمل ہوئی۔ آقا نے جمعہ کی نماز بھی اسی مسجدمیں اداکی تھی اس لئے تاریخ میں یہ مسج”مسجدجمعہ“کے نام پرمشہورہوگئی ۔غزوات نبوی میں خواہ وہ بدرواحد ہوں یااحزاب وحنین بنوقریظہ کے خلاف معرکہ ہو ہرموقع پر حضرت علی المرتضیٰ کے کارنامے اتنے نمایاں رہے کہ غزوات نبوی کاکوئی معرکہ آپؓ کے ذکرکے بغیرمکمل نہیں ہوتاہے اس کے علاوہ آپ ؓ کی سرگرمی میں کئی مہمیں بھیجی گئیںتھیں۔ جب حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت ہوئی تواس کے بعد تین دن مسندخلافت خالی رہی تھی۔ باغی پورے مدینہ منورہ میں دندناتے پھررہے تھے۔ حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت کے چوتھے دن مدینہ منورہ کے اکابرصحابہ کرام ؓ مہاجرین اورانصارنے حضرت علی ؓ کو خلفیہ بننے کا مشورہ دیاتھاکہ آپ ؓ مسندخلافت کی تمام ترذمہ داریاں سنبھالیں۔ آپؓ نے خلیفہ بننے سے یکسرانکارکردیاتھا۔ اس دوران حضرت طلحہ بن عبیداللہ ، حضرت زبیربن العوام، حضرت سعدابن وقاص،حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہم کوبھی خلیفہ بننے کی پیش کش کی گئی تھی۔ لیکن ان تمام صحابہ کرام علہیم الرضوان نے خلیفہ بننے سے انکارکردیا تھا۔ باغیوں نے اہل مدینہ کومخاطب کرکے یہ اعلان کیاکہ تم دودن کے اندراپناخلفیہ نامزدکرلو کیونکہ تمہاراحکم امت محمدیہ !پرنافذالعمل ہے ہم اس خلیفہ کی بیت کرکے واپس چلے جائیں گے ورنہ ہم تمام اکابرکوقتل کردیں گے۔ اہل مدینہ نے باغیوں کا یہ اعلان سناتوحضرت علی ؓ کی خدمت میں دوبارہ حاضرہوئے تھے اورآپ ؓ کوخلافت کرنے کے لئے قائل کرناشروع کردیا یہاں تک کہ آپ ؓ نے منصب خلافت قبول کرلیا۔ منصب خلافت سنبھالنے کے بعدآپ ؓ مسجدنبوی میں تشریف لے گئے تھے اورمنبررسول پرکھڑے ہوکرخطبہ دیاتھا۔ خطبہ خلافت سے فارغ ہونے کے بعدآپ ؓ کے سامنے سب سے اہم مسئلہ حضرت عثمان غنی ؓ کے قاتلوں کوتلاش کرکے ان کوسزادیناتھا۔ آپ ؓ نے حضرت عثمان غنی ؓ کے قاتلوں کی پہچان کے لئے حضرت عثمان غنی ؓ کی زوجہ حضرت نائلہ ؓ سے ملاقات کی اوران سے قاتلوں کے بارے میں دریافت کیا۔ جس گروہ سے قاتلوں کاتعلق تھاان پرکسی کا قابونہ تھا۔وہ جماعت جس میں حضرت عثمان غنی ؓ کے قاتل شامل تھے انہوں نے حضرت علی ؓ کے ہاتھ پربیعت کرلی اوراپنے آپ کوحضرت علی ؓ کا زبردست حامی ظاہرکرنا شروع کردیاتھا۔ ان حالات میں قصاص لیناآسان نہیں تھا۔آپ ؓ کاسارازمانہ خلافت جنگوں اورفتنوں فسادکی نذر ہوگیا تھا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ ؓ لوگوں کوحضرت ابوبکرصدیق ؓ اورحضرت عمرفاروق ؓ کے دورکے مطابق چلاناچاہتے تھے جب کہ دولت کی فراوانی اورخوشحالی نیزاعمال کی بداعتدالیوں نے لوگوں کوایک مختلف طرززندگی کاعادی بنادیاتھا۔آپؓ کی دانش مشورے اوررائے پرحضرت عمرفاروق ؓ جیسا شخص اعتمادکرتاتھا۔آپ ؓ کی خلافت چارسال نوماہ اورچنددن رہی۔


آپ ؓ 21 رمضان المبارک ۳۶ہجری کورتبہ ¿ شہادت پر فائز ہوئے۔ حضرت سیدناامام حسنؓ، حضرت سیدناامام حسین ؓ، اورحضرت عبداللہ بن جعفرؓ نے آپ کو غسل دیا۔ حضرت سیدناامام حسنؓ نے نمازہ جنازہ پڑھائی اورآپ ؓ نجف شریف میں مدفون ہیں۔


ای پیپر