Photo Credit Naibaat Mag

ملکی سلامتی، سوشل میڈیا اور پاک فوج
07 جون 2018 (21:47)

حافظ طارق عزیز:پاکستان کی جغرافیائی حیثیت واہمیت اس کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی دشمن کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے۔ وہ اس کونقصان پہنچانے کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ دشمن ناصرف ہم پرچارجنگیں مسلط کر چکا ہے بلکہ دیگر عالمی طاقتوں سے مل کر یہاں افراتفری کی وارداتوں میں بھی ملوث ہے۔ پاکستان اپنی تاریخ میں ایک سے زیادہ بار نازک حالات سے گزرا ہے لیکن اس وقت جس قدر نازک دور سے گزر رہا ہے، وہ تو بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ اندرونی و بیرونی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی حالات میں بہت کچھ داﺅ پر لگا ہوا ہے۔

جس کا ادراک شاید سیاست دانوں کو نہ ہو مگر پاک فوج اس حوالے سے خاصی فکر مند اور پُرعزم نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فوج شاید دنیاکی وہ واحد فوج ہو جو سرحدوں کے ساتھ ساتھ دشمن کے نت نئے پراپیگنڈوں کوبھی بھانپ کر اُن کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ بیرون ملک سے ہونے والی فنڈنگ پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے کہ کون کون سے عناصر پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے اورغیر مستحکم بنانے کے لیے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں ۔ یقیناان عناصرکی سرکوبی کے لیے پاک فوج پروفیشنل انداز میں کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیے رکھنا بھی سکیورٹی اداروں کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ لہٰذا اسی سلسلے میں گزشتہ دنوں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کی اور دو ٹوک الفاظ میں باتیں کیں اورکہا کہ سوشل میڈیا پر اینٹی پاکستان اور اینٹی آرمی اکاو¿نٹس میں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی باتیں سچ نہیں ہوتی، سوشل میڈیا ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لیے سب سے مہلک خطرہ ہے۔ جہاں ہماری ذات کی بات ہے اسے ہم برداشت کرتے ہیں لیکن ملک کے خلاف بات کو برداشت نہیں کرتے اور متعلقہ اتھارٹی کو آگاہ کرتے ہیں،کچھ سیاست دان بھی ملک کے خلاف کی جانے والی ٹوئٹس کو شیئر کرتے اور شاباش دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا تاحال خطرہ نہیں لیکن بہت سارے ممالک نے اسے کنٹرول کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھارت کے رویے، فاٹا انضمام، پشتون تحفظ موومنٹ، حالیہ وانا کا واقعہ، میڈیا ڈکٹیشن، اسددرانی بک سکینڈل، الیکشن 2018ئ، افغانستان کا مسئلہ، پاک امریکا تعلقات، حقانی نیٹ ورک، بلوچستان، ایران اورکراچی کے چیدہ چیدہ مسائل کو ڈسکس کیا۔


حقیقت میں انہوں نے قوم کو درپیش موجودہ صورت حال پر تفصیلی روشنی ڈالی، خطرات کی نشاندہی کی اور ان کے مقابلے کے لئے پاک فوج کے نقطہ نظر اور عزم کا کھل کر اظہار کیا۔ انہوں نے دوسری منتخب جمہوری حکومت کے پانچ سالہ مدت پوری کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اورکہا کہ بروقت انتخابات سب کی خواہش ہے جو الیکشن کمیشن کا مسئلہ ہے۔ اس حوالے سے فوج کو کوئی ٹاسک دیا گیا تو وہ آئین کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گی لیکن اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ بادی النظر میں ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس ایک واشگاف پالیسی بیان ہے جس میں ملک میں جاری سیاسی اور انتخابی سرگرمیوں اور پیداشدہ داخلی صورت حال کا بے لاگ مجموعی جائزہ پیش کیا گیا تاکہ قوم ملک کو درپیش سیاسی، سماجی، تزویراتی، اقتصادی، عسکری ، جیو پولیٹیکل اورا سٹریٹجیکل پیش رفت کے بارے میں ملکی دفاع پر مامور ادارہ کی استقامت، مستعدی اور جارحیت کے خلاف بروقت کارروائی کے جذبہ اور شوق شہادت سے آگاہی حاصل ہو۔


مذکورہ پریس بریفنگ میں سب سے اہم نکتہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کا تھاجس میں انہوں نے درست کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سپر پاور سمیت دنیا کی کوئی فوج اتنی کامیابی حاصل نہیں کر سکی جتنی پاک فوج نے کی۔ سوشل میڈیا پر جو مہم چلائی جا رہی ہے وہ ملک و قوم کی سلامتی اور مفاد کے سراسر منافی ہے۔ اسے عقلمندی سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں قوانین موجود ہیں۔ اصل کام صرف ان پر عملدرآمد ہے۔ اگر اس کا کردار پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہے تو اس پر پابندی لگانا وقت کی ضرورت ہے۔ ملک میں عام انتخابات ہونے والے ہیں سوشل میڈیا ان پر اثر انداز ہو سکتا ہے اس لئے حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس پر نظر رکھنا ہو گی۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں سوشل میڈیا پر پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ انہی سازشوں کا حصہ ہے۔ پاکستان کے عوام اپنی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں فوج کے ترجمان نے جن خطرات اور خدشات کا اظہار کیا ہے ان پر گہرے غورو فکر کی ضرورت ہے نگران حکومت کو اس سلسلے میں ٹھوس امتناعی اقدامات کرنے چاہئیں۔


اب جن سوشل میڈیائی خطرات کی طرف میجر جنرل آصف غفور نے روشنی ڈالی ہے وہ ہم سب خود بھی تلاش کر سکتے ہیں اور ذرہ سی کامن سینس استعمال کرکے اُن کا تدارک کر سکتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال میں ہم سب خود دیکھ سکتے ہیں کہ اسلام آباد میں ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے چند لوگوں کے احتجاج کو جب پورے میڈیا نے بلیک آﺅٹ کیا ہوا تھا، تو سوشل میڈیا خصوصاََ فیس بک پر یہ احتجاج امریکی ٹی وی (وائس آف امریکااردو سروس) سے لائیو دکھاتا رہا، اور سپانسرڈ کرکے چلاتا رہا تاکہ پورا ملک اور دنیا بھر میں اس احتجاج کی کوریج ہو سکے۔ اس کا مقصد کیا ہو سکتاہے؟کیا پاکستانیوں کے دردکی فکر صرف امریکا ، بھارت اور افغانستان کو ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے.... ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت دشمن کا آسان ہدف سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ ہے۔


اب اگر یہ کہا جائے کہ سوشل میڈیا کو بند کردیا جائے میں قطعاََ اس کے حق میں نہیں ہوں۔ بہت سے ممالک کنڑولڈ سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں، آپ کے سامنے چین، ایران اور ترکی کی مثال ہے جہاں اس حوالے سے ایسا سسٹم بنادیا گیا ہے کہ فلٹرڈ پیغامات ہی وائرل ہوتے ہیں مگر یہاں گدھا گھوڑا سب کچھ مکس ہو چکا ہے۔ اس لیے ہمیں اس حوالے سے احتیاط برتنے کی ضرورت بھی ہے، اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے جو Helplinesدی گئی ہیں اُن پر ان عناصر کی نشاندہی کرنا ضروری ہے جو سوشل میڈیا پر پاکستان اور پاک فوج کے خلاف کام کررہی ہیں۔ کیوں کہ دشمن اس آزاد اور بے لگام میڈیا کے ذریعے پاکستان کی نظریاتی اور قومی اساس پر وارکرنے کی جستجو میں لگا ہوا ہے اس کے آگے سیسہ پلائی دیوار بننے کی ضرورت ہے، اورترجمان پاک فوج کی اس حوالے سے پریس کانفرنس حقیقت پسندی کی مظہر جب کہ سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے آگہی، قومی سلامتی ، ملی یکجہتی اور بھائی چارہ کے آفاقی اقدار سے فکری وابستگی کی تجدید سے متعلق ہے۔ انھوں نے نئی نسل کے لیے کہاکہ اگر اس سیلابی ریلے کو عقل مندی سے ٹریٹ اورکنٹرول نہیں کیا گیا تو خطرہ بھی بن سکتا ہے تاہم ارباب اختیار اور سکیورٹی حکام کو سوشل میڈیا کے جمہوریت دشمن اور فوج مخالف رجحان کے بنیادی محرکات اور اسباب پر اہل دانش حلقوں کی رہنمائی بھی حاصل کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا سماجی رابطہ کا علمی وسیلہ بننا چاہیے ،کوشش کی جائے کہ اسے تخلیق سوز سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے والوں کی مو¿ثر طور پر حوصلہ شکنی ہو۔ اس میڈیا سے قومی ترقی کا کام لیا جائے۔
سوشل میڈیا پر مہم چلنے، افغانستان میں پانچ ہزار سوشل میڈیا اکاﺅنٹ کے برق رفتاری سے بنانے ، بیرون ملک سے خصوصی ٹوپی کی اچانک مقبولیت ، ان تمام سرگرمیوں کے پس پردہ کرداروں تک رسائی ایک اہم ٹاسک ہے، اس ٹمپوکو جاری رہنا چاہیے، ان عناصر کی بھی سرکوبی بھی ناگزیر ہے جو ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کے دشمن اور پاکستان کے استحکام کے مخالف کیوں پی ٹی ایم کے حمایتی بنے ہوئے ہیں۔اس وقت حالات کی نزاکت کا تقاضا یہی ہے کہ ارباب اختیار سوشل میڈیا کی اظہاری قوت میں مضمر تبدیلی کے تعمیری پہلوکو پیش نظر رکھیں اور میڈیم کے غلط استعمال پر مکمل قدغن کی بجائے چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بنائیں تاکہ قومی سلامتی اور انسانیت کے مشترکہ مفادات کو نقصان پہنچانے کے درپے جو لوگ ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے ،کیونکہ اب تک سوشل میڈیا کے حوالے سے تقریباً 2 ہزار کیسز رجسٹر ہوئے ہیں اس سے آزادی اظہارکی نفی کا تاثر نہیں اُبھرنا چاہیے، نہ ہی کریک ڈاو¿ن کو قومی سلامتی اور نظریے کے نام پر سیاسی مخالفت کی آوازکو دبانے سے تعبیر کیا جائے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے بھی میری التجا ہے کہ وہ حساس ویب سائٹس کو انسانیت، دوستی اور تخلیقی علمی سرگرمیوں کے لیے وقف کریں، اسے خدارا ہائیڈ پارک نہ بنائیں، سوشل میڈیا طاقت اور تبدیلی کا پیش خیمہ ہونا چاہیے کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ قومی اور انسانی کازکی مثبت تشہیر دنیا میں کہیں جرم نہیں لیکن اس سوشل میڈیائی طوفان کو روکنے کی حکمت عملی ہی ہمارا مقصد ہونا چاہیے!
سوشل میڈیا پر بالکل پابندی لگا دینا اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ احسن اقدام یہ ہے کہ ایسی ضابطہ پالیسی وضع کی جانی چاہئے جس کی وجہ سے کوئی بھی اس اہم اور انقلابی سائنسی ایجاد کو غلط استعمال نہ کر سکے۔ سوشل میڈیا پرکسی قسم کی قدغن نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایک ایسا شتر بے مہاربن چکا ہے جس کوکوئی بھی من مانے طریقے سے استعمال میں لاکر دوسروں کے لئے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔کیونکہ اس کے صارفین میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جوملکی سالمیت اوربعض ادراوں کی حساسیت اور تقدیس سے نابلد ہیں۔ اس لئے یہ امر انتہائی اہم ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور تعمیری استعمال کے لئے نا صرف مناسب اور مو¿ثر پالیساں بنائی جائیں، ان پر عمل درآمدکروایا جائے بلکہ عوام میں شعور اُجاگرکرنے کے لئے تعلیم کا بھی خاطرخواہ انتظام بھی کیا جائے۔


ای پیپر