پانی کی قلت دور کرنے کے لئے ڈیم بنائے جائیں
07 جون 2018 2018-06-07

پانی رب کائنات کی وہ عظیم تر نعمت ہے جو کہ تمام خلق خدا کے لئے آب حیات کا درجہ رکھتی ہے اس کے بغیر زندگی نا ممکن ہے مگر پاکستان میں حکمرانوں کی بے حسی کی بدولت یہ عظیم نعمت عوام سے چھینی جا رہی ہے جس کے پیچھے ان حکمرانوں کی بد نیتی، بے حسی صاف نظر آتی ہے سروے کے مطابق پاکستان 2025 ء تک اس نعمت سے تقریباََ محروم ہو جائے گا جس کی بنیادی وجہ پاکستان میں پانی کو محفوظ کرنے لے لئے ڈیمز کی کمی ہے اس کمی کی وجہ سے شائد پاکستان میں اندرون خانہ جنگ شروع ہو جائے جو سنگین صورتحال اختیار کر سکتی ہے ۔

پاکستان کونسل آف ریسرچ برائے آبی وسائل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانی کی دستیابی پانچ ہزار کیوبک میٹر تھی جو کہ رواں برس ایک ہزار کیوبک میٹر رہ گئی ہے جو کہ یقیناََ باعث تشویش ہے پانی میں کمی کی وجہ سے زراعت جو کہ کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے پاکستان جو کہ ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی معشیت کا70 فیصدانحصار زراعت پر ہے مستقبل میں شدید بحران، خشک سالی اور قحط کا شکار ہو سکتا ہے جائزہ کے مطابق پاکستان میں پانی کی سطح 153 ملین فٹ فی ایکڑ جبکہ زیر زمین 24 ملین فٹ فی ایکڑ ہے 2030 ؁ء تک ملکی آبادی تقریباََ 24 کروڑ تک پہنچ جائے گی جس کی وجہ سے ملک کو31 ملین فٹ فی ایکڑ تک پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے چنانچہ ملک میں ٓنے والی قحط سالی سے نمٹنے کے لئے پاکستان میں ڈیمز بنانے نہائت ضروری ہو گئے ہیں کیونکہ ملک میں جو ڈیمز بنے ہوئے ہیں وہ ملکی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کم ہیں۔

اس وقت پاکستان میں11 ڈیمز ہیں جن میں پانی کو محفوظ کیا جاتا ہے ان میں دیا میر بھاشا ڈیم ، گومل زیم، حب، کرونجھر، منگلا، میرانی، نمل، راول، شادی کور، تربیلا اور وارسک ڈیم شامل ہیں جبکہ نیلم جہلم ڈیم حال ہی میں تعمیر کیا گیا ہے اتنے ڈیمز ہونے کے باوجود پاکستان شدید پانی کی قلت کا محتمل ہے پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لئے مزید نئے ڈیمز بنانا نہایت ضروری ہیں نئے ڈیمز بنانے کے لئے تمام حکومتیں ناکام رہی ہیں جن میں سر فہرست کالا باغ ڈیم ہے ایکسپرٹ کی رائے کے مطابق کالا باغ ڈیم بننے سے ملک میں 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی جبکہ8 لاکھ ایکڑ بارانی زمین کاشت کی جا سکے گی اور 7 لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنایا جا سکے گا مگر حکومت کی عدم دلچسپی اور خیبر پختون خواہ و سندھ حکومت کی جانب سے روڑے اٹکانے کی بدولت کالا باغ ڈیم شروع دن سے ہی متنازعہ رہا ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ ابھی تک کسی بھی سیاسی پارٹی نے نئے ڈیمز کی تعمیر کو اپنے منشور میں شامل نہیں کیااگر کالا باغ ڈیم کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو سن 2004 ء میں سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف نے تمام رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کیا اُس کے بعد 2008 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے منصوبے کوخیبر پختون خواہ اور سندھ حکومت کی شدید مخالفت کی بناء پرمکمل ہونے سے روک دیا مگر 2010 ء میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے پھیلنے والی تباہی کودیکھتے ہوئے اُس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ قبول کیا کہ اگر کالا باغ ڈیم بنا ہوتا تو ملک میں سیلاب کی وجہ سے تباہی نا ہوتی۔

ایک طرف تو پاکستان کی اندرونی حکومتیں آپسی چپقلشوں اور مفاد پرستی کی بنیاد پر پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں جبکہ دوسری طرف بھارت پاکستان کی اس مفاد پرست سیاست سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دھرلے سے انڈس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈیمز پہ ڈیمز بنا رہا ہے جس میں جموں و کشمیر کے ضلع کشتوار کے گائوں درابشالہ (ریٹل) کا ریٹل ڈیم اور حال میں تعمیر ہونے والا کشن گنگا ڈیم ہے جس کو ورلڈ بینک کی باقاعدہ منظوری سے تعمیر کیا گیا ہے جو کہ 1960 ء کے سندھ و طاس معاہدے کی صریحاََ خلاف ورزی ہے جس سے پاکستان کے دریائوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے آنے والے دنوں میں پاکستان بھارت کی اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے خشک سالی کا شکار ہوسکتا ہے مگر ہمارے حکمرانوں، اپوزیشن، بیوروکریٹس کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی اس لئے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار عوام آپ کی طرف دیکھتی ہے جس طرح آپ نے عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اُن کے مسائل حل کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے اُسی طرح کالا باغ اور مزید نئے ڈیم پاکستان کی ترقی کے لئے روشن باب ثابت ہو سکتے ہیں چنانچہ سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے پاکستانی عوام کی خاطر پانی کے اس سنگین بحران کے متعلق کیس کو دیکھا جائے اور فوری طور پر کالا باغ ڈیم کے ساتھ ساتھ مزید نئے ڈیم کی تعمیر کا حکم صادر کیا جائے اس ضمن میں اگر پاک فوج کی ضرورت ہو تو اُن سے بھی مدد لی جائے تا کہ رکاوٹ بننے والے کرپٹ مافیا کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا سکے عوام آپ اور پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)


محمد عرفان چودھری

(ادارے کا بلاگر کی رائے متفق ہونا ضروری نہیں )

ای پیپر