ریحام کی کتاب اور سیاست کا اصل بیانیہ
07 جون 2018

کوئی بھی ٹی وی چینل کھو لیں، یا اخبار کا صفحہ پلٹ کے دیکھیں، یا انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جائیں، ہر طرف ریحام کا ذکر ہے۔ ہر سیاستدان بھی اس کا ذکر کر رہا ہے۔ ہر صحافی اس کتاب کا ذکر کر رہا ہے۔ اینکر پرسن پروگرام پر پروگرام کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں ایسے حیران کن انکشافات کا ذکر کیا ہے جس سے عمران خان اور ان کی پارٹی کو یقین ہے کہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔فی الحال یہ کتاب شائع ہی نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا اس کے مندرجات کے بارے میں قیاس آرائیاں ہیں۔ ریحام خان خود بھی فی الحال نہیں بتا رہی ہیں بلکہ ہر دفعہ ایک آدھ اضافی بات بتا کر نیا ’’بم‘‘ پھوڑ دیتی ہیں۔ جس سے اس کتاب کی پراسراریت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ریحام خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کی کتاب میں ایک بلیک بیری کا تفصیل سے ذکر ہے۔ تحریک انصاف اسی بلیک بیری سے خوفزدہ ہے۔ گزشتہ سال پی ٹی آئی کی سابق رہنما عائشہ گلالئی نے عمران خان پر نازیبا پیغامات بھیجنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خواتین سے کہتے تھے کہ وہ بلیک بیری استعمال کیا کریں، کیونکہ بلیک بیری کے پیغامات کا پتا نہیں چلایا جا سکتا۔ بلیک بیری کی وجہ سے پی ٹی آئی اور بھی خوفزدہ ہے۔ تحریک انصاف جو گزشتہ چار سال سے مسلسل حکومت کے ساتھ ’’دست گریباں‘‘ تھے اس کو یہ ڈر ہے اس کتاب میں اگر عمران خان کے حوالے سے جو صداقت پرمبنی کچھ انکشاف سامنے آئے تو پارٹی اور اس کے لیڈر کو انتخابات میں نقصان پہنچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف ریحام کی اس کتاب کو ایک سیاسی سازش قرار دے رہی ہے ۔ پی ٹی آئی کی پوری کوشش ہے کہ کتاب کے مندرجات کو جھٹلائے، وہ مندرجات جو ابھی شائع نہیں ہوئے ہیں۔ لہٰذا جوبھی جو کچھ کہا جارہا ہے وہ ہوائی فائرنگ ہی ہے۔ہوائی فائرنگ ہمیشہ خوف و ہراس پھیلانے اور میدان سے بھاگ جانے کے لئے کی جاتی ہے۔ ریحام پر سخت تنقید کی جارہی ہے، کبھی کتاب کے اس پورے کھیل کو نواز لیگ کی سازش اور منصوبہ بندی قرار دیا جارہا ہے۔ کبھی اس کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ تلاش کیا جارہا ہے۔ الزامات اور الفاظ کی جنگ عروج پر ہے۔ جس نے سیاسی خواہ سماجی اخلاقیات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی یہ بھی کوشش ہے کہ کتاب کی اشاعت کسی طرح سے روک دی جائے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملتان کی ایک چھوٹی عدالت نے اس طرح کا حکم امتناعی جاری بھی کردیا ہے۔
بات تحریک انصاف کے رہنما حمزہ علی عباسی نے پھوڑی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ریحام کی کتاب پڑھ لی ہے۔ حد کمال یہ ہے کہ انہوں نے یہ کتاب شائع ہونے سے پہلے پڑھ لی۔ منطقی سوال ہے کہ کیا انہوں نے یہ مسودہ چوری کیا؟ یا ۔۔۔ یا جو کچھ بول رہے ہیں وہ درست نہیں۔ وہ چاہ رہے ہیں کہ کتاب شائع ہونے سے پہلے ریحام اس کے مندرجات کو عام کردے۔
تحریک انصاف کے فوادچوہدری اس کتاب کی اشاعت کو پری پول رگنگ قرار دے رہے ہیں اور ان کا
کہنا ہے کہ اس کے پیچھے رائیونڈ نیٹ ورک ہے۔ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ عمران کے دفاع کے لئے ریحام کے سامنے آگئی ہیں۔ جمائمہ کا کہنا ہے کہ اگرریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہوئی تو وہ اپنے بڑے بیٹے سلیمان عیسیٰ خان کی جانب سے ہتک عزت اور خلوت میں دخل اندازی اور صہیونی لابی کے سازشی نظریوں کے بارے میں خیالات ظاہر کرنے کے الزام میں ہرجانے کا دعویٰ کریں گی ۔
ریحام خان کا کہنا ہے کہ کتاب میں ان کے ماضی اور تمام زندگی کے حوالے سے معلومات ہوں گی، صرف عمران خان سے شادی اور طلاق کے حوالے سے باتیں نہیں۔اس بات کی وضاحت تب ہی ممکن ہے جب کتاب منظر عام پر آ جائے گی،آخر یہ کتاب ہے یاانکشاف، یا پھرمحض ایک سازش؟ قبل از وقت کچھ بھی قیاس کرنا درست نہیں ہے۔
آج ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کا مکمل انحصار ٹی وی اور اخبارات سے لے کر انٹرنیٹ اور اس کے ذریعے سوشل نیت ورک کی مختلف قسم کی میڈیا پر۔ نوجوان ذہن خاص طور پر اس کا ٹارگٹ ہیں کہ اس کے ذریعے ان کو سیاسی طور پر بے چینی پیدا کی جاسکے۔ سبز باغ ٹیلیویژن کے اشتہارات تک ہی محدود نہیں۔ میڈیا کی دیگر اقسام سال بھر جو مواد عام کرتی رہتی ہیں وہ بھی اہم ہوتا ہے۔ میڈیا اس صورت میں یہ کسی امیدوار کے لئے آسان بنا دیتا ہے کہ خود کو اچھا ثابت کرے اور مخالف کو برا۔ بالکل ویسا جیسا اس کے سامعین اس کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کو اس صورت حال کا سامنا ہے۔ چار سال کی پوری کمائی اور محنت ایک کتاب نے اڑادی۔ عائشہ گلالئی اس بات کو آگے بڑھا رہی ہیں کہ عمران خان صادق اور امین نہیں رہے۔ ممکن ہے کہ انتخابات سے پہلے اس کتاب کی اشاعت کی صورت میں عائشہ گلالئی کی یہ بات عدلیہ اور الیکشن کمیشن تک جا پہنچے۔
آپ اگر صادق اور امین کی اس طرح سے تعریف ، تشریح اور توضیح نکالوگے تو ایسا ہی ہوگا۔ عمران خان نواز شریف کے خلاف صادق اور امین کا معاملہ چلا رہے تھے تب اس کو اندازہ نہیں تھا کہ معاملہ ذاتی یا اخلاق حدود میں چلا گیا تو ہڈی گلے میں اٹک جائے گی۔
ہمارے ملک میں اخلاقیات، مذہب اور بعض سماجی معاملات سیاسی ہاٹ بٹن ہوگئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں لوگ شعوری طور پر یا اپنے طور پر سرگرم ہو جاتے ہیں۔
آئین کے مطابق الیکشن کمیشن اپنے اختیارات میں آزاد اور خود مختار ہے ۔ لیکن عدالتیں ان سے وہ کام کرارہی ہیں جو قانون کے دائرہ اختیار میں ہیں یعنی پارلیمنٹ، یا پھر خود الیکشن کمیشن کے ۔ لاہور ہائی کورٹ نے نامزدگی فارم کو تبدیل کرنے کی ہدایت کردی۔ جس کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہو سکتے تھے۔ سپریم کورٹ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے جوہر کو برقرار رکھا اور فارم تبدیل کرنے کے بجائے اس کے ساتھ تفصیلی حلف نامے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ اگر یہ کرسکتی ہے، تو یہ بھی کرسکتی ہے کہ الیکشن کمیشن کاغذات نامزدگی کے ساتھ امیدوار اور سیاسی پارٹیوں سے انتخابی منشور بھی لے اور بعد میں ان سے پوچھے بھی کہ اس منشور پر کتنا عمل ہوا؟۔ کیونکہ انتخابات حکومت چلانے کے لئے ہو رہے ہیں۔ یہاں پر انتخابی پروگرام ہی زیادہ اہم ہوتا ہے۔
ریحام کی اس کتاب کے قصے میں عوامی مسائل کی سیاست اور بیانیہ پیچھے چلا گیا ہے۔ ایشو کو نان ایشو اور نا ن ایشو کو ایشو بنادیا گیا ہے، ہر ایک ریحام کے بارے میں بول رہا ہے۔ سیاستدان، اینکرپرسن، پوری میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اسی کا چرچہ ہے۔ عوام کی توجہ اصل مسائل اور ایشوز سے ہٹ گئی ہے۔ ملک اس وقت بعض اہم مسائل سے دوچار ہے۔ ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل اور اس کو آئندہ وقت میں بھی مضبوط رکھنا، ملک میں منتخب اداروں کی بالادستی، خارجہ پالیسی، اور خطے میں بدلتی ہوئی صورت حال میں پاکستان کا کردار اور اس کا سیاسی اور معاشی استحکام۔ اس پر سیاستدان اور میڈیا کے لوگ بات نہیں کر رہے ہیں۔ عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ ایسے موضوع جو اہمیت کا حامل نہ ہو اس کو اہم بنا کر پیش کیا جائے تاکہ جو اصل ایشوز ہیں ان پر بات نہ ہو۔
اب عوامی ایشو ایک طرف ہو گئے۔ اب ذاتی اور سماجی یا اخلاقی ایشوز سامنے آگئے ہیں۔ ویسے یہ صورت حال تمام پارٹیوں اور دیگر فریقین کو بھی سوٹ کرتی ہے کہ بجائے اصل بیانیئے اور عوامی ایشو کے اس بات پر انتخابات ہوں کہ کون اخلاقی طور پر درست ہے اور کون نہیں؟ ایسے میں انہیں عوام سے کوئی وعدہ نہیں کرنا پڑے گا، کوئی سیاسی پروگرام نہیں دینا پڑے گا۔


ای پیپر