د ہشت گر د ی اور 2018ء کے انتخابات
07 جون 2018

سا منے کی با ت تو یہ ہے کہ قو م ہر قسم کے ا پنے مسا عد اور نا مسا عد حا لا ت کے با و جو د پہلے سے طے شد ہ پر و گر ا م کے تحت 2018ء کے ا نتخا با ت کی جا نب آ گے بڑھ رہی ہے۔ مگر اس مقا م پر ملک میں جا ری د ہشتگر د ی کے حو ا لے سے اپنے ما ضی کی ر و شنی میں عین انتخا با ت کے مو قع پر د ہشتگر دی کے خد شا ت کو نظر اند ا ز کر دینا انتہا ئی غیر د ا نشمند ا نہ فعل ہو گا۔ گو اس وقت وطنِ عز یز میں مو جو د سکو ت کی سی کیفیت سے �آ پس میں گتھم گتھا سیا ست دا ن غلط اند ا ز ے لگا ئے ہو ئے ہیں، تا ہم مقا مِ شکر یہ ہے کہ پا ک فو ج اپنی آ نکھیں د ن را ت کھلے ر کھے ہو ئے ہے، اور وہ ہر منا سب مو قع پر حکو مت کو اس با ر ے میں آ گا ہ بھی کر تی ر ہتی ہے۔مختصر اً یہ کہ فو ج کے یو ں چو کنا رہنے کی بنیا د پر سیکر ٹر ی ا لیکشن کمیشن با بر یعقو ب فتح محمد نے سینٹ کی قا ئمہ کمیٹی بر ا ئے د ا خلہ امو ر میں انکشاف کیا ہے کہ عام انتخابات کے موقع پر بڑے پیمانے پر سکیورٹی خطرات ہیں جو الیکشن کمیشن کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ عالمی طاقتیں عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم انتخابات کے موقع پر فوج تعینات کرنے کا ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔پچھلے د نو ں سینیٹر رحمن ملک کی زیر صدارت اجلاس میں سینیٹر میاں عتیق، اعظم موسیٰ خیل، چوہدری تنویر، جاوید عباسی، کلثوم پروین، اسد علی جونیجو، اعظم سواتی اور غفور حیدری نے شرکت کی۔ جبکہ اجلاس میں چیئرمین نادرا، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی پولیس اسلام آباد، ایڈیشنل آئی جی پولیس پنجاب اور سیکرٹری الیکشن کمیشن موجود تھے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے آئندہ انتخابات کے حوالے سے غیرمعمولی سیکورٹی خطرات اور عالمی قوتوں کی طرف سے الیکشن سبوتاژ کیے جانے پر کمیٹی کے روبرو جو اندیشے اور خدشات اٹھائے ہیں وہ حد درجہ تشویش ناک ہیں۔ سیکرٹری بابر یعقوب نے کہا کہ وہ کمیٹی کو سیکورٹی پر ان کیمرہ بریفنگ دیں گے۔ بلاشبہ ملکی سیاست میں کشیدگی، معاشرے میں تشدد اور جمہوری عمل کے تسلسل کے باوجود سیاسی رہنماؤں میں عدم رواداری اور ایک دوسرے پر سنگین الزام تراشی کے نتیجہ میں صورت حال خاصی دھماکہ خیز ہے۔ ملک کی تین مین سٹریم پارٹیوں پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے اتحاد انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ لاتعداد آزاد امیدوار جمہوری عمل کا حصہ ہوں گے۔ اس لیے جو سیاسی درجہ حرارت ہے اسے شفاف الیکشن کی محض خواہشات کے ساتھ منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکتا بلکہ اس کے لیے سیکورٹی کے انتہائی غیرمعمولی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔ فالٹ فری انتخای ضابطہ اخلاق کی پابندی لازمی قرار دی جانی چاہیے جس کی خلاف ورزی قابل تعدیب بھی ہونی چاہیے تاکہ کوئی انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی جرات نہ کرسکے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے جن عالمی قوتوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ ان کیمرہ بریفنگ میں ان کے مذموم عزائم اور ارادوں کی واضح نشاندہی کردیں تو الیکشن کو ممکنہ طور پر لاحق خطرات کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔ یوں تو اہل وطن اپنے
دشمنوں سے ناواقف نہیں۔ خطے میں کئی طاغوتی طاقتیں پاکستان کے صبر کو آزمانے میں مصروف ہیں مگر ذمہ داری سیاسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ الیکشن میں جمہوری سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔ ان کے جلسے اور انتخابی مہم شائستگی، تنظیم، ضبط و تحمل اور انتخابی منشور سے مربوط ہوں۔ دشنام طرازی کی ساری تلواریں نیام میں ڈالی جانی چاہئیں اور سیاسی قیادتوں کو ادراک کرنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن کے ایک ذمہ دار افسر نے جن عالمی خطرات کے خدشات ظاہر کیے ہیں وہ اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کریں اور اسی جمہوری جذبہ، افہام و تفہیم اور معاملہ فہمی سے الیکشن کی تیاری کریں جو مہذب جمہوری ملکوں کا وطیرہ ہے۔ چونکہ بات عالمی قوتوں کی طرف سے دخل اندازی کے خطرہ کی ہے تو پوری قوم اس بات کا تہیہ کرلے کہ وہ الیکشن 2018ء کے آزادانہ، منصفانہ اور جمہوری طریقے سے انعقاد کی راہ میں کسی بھی رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے گی۔ قائمہ کمیٹی نے جائز سوال اٹھایا، کئی نکات پر بحث ہوئی۔ مثلاً یہ کہ الیکشن میں نتائج تبدیل کیے جاتے ہیں۔ پولنگ سٹیشنز سے نتائج ریٹرنگ افسروں کے دفاتر لے جاتے ہوئے تبدیل کیے جاتے ہیں۔ اس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن نتائج کی مانیٹرنگ کا طریقہ کار بھی وضع کرلیا گیا ہے، کسی کو نتائج تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مگر کوشش ہر بار یہی ہوتی ہے کہ فیئر الیکشن ہوں، بے ضابطگیاں پھر بھی ہوتی ہیں۔ مگر ایسا ممکن نہیں کہ کوئی سیاسی جماعت یا اکیلا امیدوار سارا الیکشن شو مشاعرے کی طرح لوٹ کر لے جائے۔ چنانچہ لازم ہے کہ نگراں حکومت اس بار قومی چیلنجز اور سیاسی جماعتوں میں غیرمعمولی محاذ آرائی، کشمکش اور الزام تراشیوں سے پیداشدہ ماحول کی گرمی کا خاتمہ کرے، سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کو ملکی حالات اور جمہوریت کے تسلسل اور اقتدار کی پرامن منتقلی کے لوازمات اور بنیادی تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ الیکشن کو قومی جمہوری سفر کی نئی منزل کی طرف کوچ کی تیاری سمجھنا چاہیے۔ انتخابات ملکی آئین کی پانچ سال ضرورت ہیں۔ سیاسی جماعتیں ووٹ کے ذریعے تبدیلی حکومت کا جمہوری طریقہ استعمال کرتی ہیں۔ فیصلہ ووٹر کرتے ہیں کہ کس کو اقتدار کے مسند پر فائز ہونا چاہیے۔ الیکشن وہی شفاف کہلاتے ہیں جس میں ووٹر آزادی سے اپنا ووٹ ڈال سکے ، اسے پولنگ بوتھ تک جانے میں کسی قسم کا خوف نہ ہو، اسے ضمیر کے مطابق فیصلہ کی مکمل آزادی ہو اور تمام سیاسی جماعتیں ووٹنگ پراسیس اور نتائج کے اعلان پر کامل یقین رکھیں۔ نگران حکومت، صوبائی حکومتیں جمہوری طرزِ عمل اور شفافیت کے ساتھ پولنگ کے انتظامات کو یقینی بنائیں۔ الیکشن کمیشن اور سیکورٹی حکام انتخابی مہم کے لیے آزادانہ، منصفانہ اور پر امن الیکشن کے انعقاد کے لیے ویسا جمہوری ماحول مہیا کریں جو آئندہ الیکشن کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولیس سیکورٹی ناکافی ہے۔ صوبوں کی طرف سے پاک فوج کی خدمات کا مطالبہ آرہا ہے۔ بتایا گیا کہ ملک میں 20 ہزار پولنگ سٹیشن حساس قرار دیئے گئے، حساس پولنگ سٹیشنوں میں کیمرے لگائے جائیں گے، سیکورٹی کے لیے پاک فوج کی خدمات کا مطالبہ آرہا ہے۔ پاک فوج کے ساتھ سیکورٹی پر اجلاس ہوچکے ہیں۔ پاک فوج مشرقی اور مغربی بارڈر پر مصروف ہے۔ کیمروں کی تنصیب کا طریقہ کار طے کرنا باقی ہے۔ کیمروں کی تنصیب سے لیکشن میں شفافیت آئے گی۔ سیکورٹی کے لیے پولیس ناکافی ہے۔ غور کیا جارہا ہے کہ پاک فوج کو صرف حساس پولنگ سٹیشنوں یا تمام سٹیشنوں پر تعینات کریں۔
ا ب یہ نگر ا ن حکو مت کا فر ض ہے کہ شفا ف الیکشن کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ حد تک ہر قسم کے ا قد ا ما ت بر و ئے کا ر لا ئے۔ نئے سیٹ اپ کے قیام کے ساتھ ہی ٹھوس اقدامات شروع ہونے چاہئیں۔ ایک بنیادی حقیقت پر سیاسی جما عتو ں کو اتفاق کرنا ہوگا اور وہ الیکشن میں فراڈ، دھاندلی یا جعلی ووٹنگ کی شکایتوں سے متعلق ہے۔ ملکی الیکشن رگنگ اور جعلی ووٹنگ کے الزامات سے کبھی پاک نہیں رہے۔ امیدوار اکثر اپنی ہار نہیں مانتے۔ گزشتہ 2013ء کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے کر سیاسی جماعتوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ طر ح طر ح کے الزامات لگائے گئے ۔ بلاشبہ جعلی ووٹنگ اور دھاندلی کا گھناؤنا چکر بولنگ بوتھ پر چلتا رہا، مقناطیسی سیاہی کا مسئلہ پیش آیا، ہزاروں ووٹوں کی تصدیق نہ ہوسکی۔ مگر اب کی بار یہ باب بند ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مقا م پر پا ک فو ج کی مد د حا صل کر نے سے گر یز کر نا خو د کو د ھو کا دینے و ا لی با ت ہو گی۔


ای پیپر