چیف جسٹس صاحب ۔۔۔شکریہ
07 جون 2018 2018-06-07

عصری موضوعات پر نہ لکھنے کا یہ مطلب نہیں ہوتاکہ لکھنے والوں کی نگاہوں سے یہ حقائق اوجھل ہیں، زندگی کی ہماہمی میں اگرمعاصر زندگی کی تفہیم ،تاریخ اور تہذیب کے حوالے سے ہو تو تناظروسیع ہوجاتاہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جناب میاں ثاقب نثار صاحب نے قومی زندگی کے مختلف پہلووں کو جس طرح اپنی توجہ کا مرکزبنایاہے اس پراگرچہ معاشرے میں دو رائیں پائی جاتی ہیں لیکن اس سے اختلاف نہیں کیاجاسکتاکہ ان کی جدوجہدکے نتیجے میں قومی زندگی کے بہت سے ایسے پہلو نمایاں ہوکرسامنے آئے ہیں جن کی طرف پہلے توجہ نہیں تھی یاجن کی جانب توجہ کے لیے درکار ہمت کا مظاہرہ نہیں ہواتھا۔جناب چیف جسٹس نے پنجاب یونی ورسٹی کے معاملات کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور اس بات کا نوٹس لیاکہ یونی ورسٹی کے معاملات دوبرس سے زائد عرصے سے ایڈہاک ازم کی بنیادپر چلائے جارہے ہیں ۔انھوں نے اس پالیسی کی تہ میں کارفرما ارادے کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر مستقل وائس چانسلر کی تقرری کے احکام جاری کیے ۔ان کی جانب سے دی گئی ،چھ ہفتے کی، مدت میں اسامی مشتہرکیے جانے سے لے کر وائس چانسلر کی تقرری تک کے مراحل طے پاگئے ۔ایسا محسوس ہوتاہے کہ جناب چیف جسٹس نے ایوان اقبال لاہور میں،یوم اقبال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی زندگی کی اصلاح سے متعلق جن عزائم کا اظہارکیاتھا وہ ان کی سمت کامیابی سے بڑھ رہے ہیں۔قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعداب پروفیسر ڈاکٹر نیازاحمد اختر صاحب کو چار سال کے لیے پنجاب یونی ورسٹی کانیاوائس چانسلر مقرر کر دیا گیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر نیازاحمد صاحب مشرقی اقدارپریقین رکھنے والے ایک نیک نام استاد ہیں جو اب تک یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا کے وائس چانسلرکی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے ۔اس سے پہلے وہ۲۰۰۹ء سے ۲۰۱۳ء تک نیشنل ٹیکسٹائل یونی ورسٹی فیصل آباد کے ریکٹر بھی رہ چکے ہیں ۔عدالت عظمیٰ نے صرف یہ نہیں کیاکہ یونی ورسٹی میں نیااور مستقل وائس چانسلر لگانے کا حکم دیا بلکہ جناب چیف جسٹس نے اس عمل کی نگرانی بھی فرمائی۔ انتخابی کمیٹی کے،جسے سرچ کمیٹی کہاجاتاہے، فیصلے کے بعد اور نوٹی فیکیشن جاری ہونے سے پہلے منتخب امیدواروں کو عدالت میں بلایاگیا اور ان کے کوائف بھی ملاحظہ فرمائے گئے اور سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے امیدوار پروفیسرڈاکٹرنیازاحمد اخترکے تقرر کا نوٹی فیکیشن کرنے کا حکم دیاگیا،عدالت عظمیٰ نے ڈاکٹرنیازاحمد سے یہ بھی کہاکہ بے خوف ہوکر اپنے فرائض انجام دیں۔ اس طرح ایک ایسے ماحول میں جہاں اداروں اور اقدار پر سے اعتماد اٹھ چکاہو چیف جسٹس صاحب کی اس دل چسپی اور کاوش سے امید کی کرن جگمگاتی دکھائی دی ہے ۔یہ ایک بڑی کامیابی ہے ۔یونی ورسٹی کو’ جامعہ ‘کہاجاتاہے ،عربی میں اس سے مراد یونی ورسٹی اور فارسی میں اس کا مطلب معاشرہ ہوتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یونی ورسٹیاں اپنے معاشروں کی عکاس ہوتی ہیں اگر آپ کسی معاشرے کے بارے میں جانناچاہیں تو ان کی یونی ورسٹیوں کو دیکھ لیجیے۔ یہاں جو ماحول ہوگا معاشرہ بھی ویساہی ہوگا۔،ہر نقش میں اس کے نقاش ہی کی صفات جلوہ گرہوتی ہیں اورکوئی نقش اپنے نقاش سے بڑھ کر صفات کا حامل ہوتاہے نہ اس سے بہترتصویرپیش کرتاہے ۔

قوموں کو بربادکرنے کے لیے تعلیم کی تباہی، میزائلوں اور بموں کی پیداکردہ تباہی سے بڑھ کرہوتی ہے ۔میزائل اور بم تو کسی ایک لمحے میں کسی ایک خطے کو بربادکرتے ہیں۔ تعلیم کی تباہی نسلوں کو بربادکردیتی ہے۔ کسی داناکاقول ہے کہ قوموں کو بربادکرنے کے لیے صرف ان کے معیارتعلیم کو گرانے اور نظام امتحانات میں بددیانتی کی اجازت دینے کی ضرورت ہوتی ہے پھر ایسے نظام کے پیداکردہ ڈاکٹروں کے ہاتھوں میں مریض دم توڑ جائیں گے، ایسے انجینئروں کے ہاتھوں تعمیرہونے والی عمارتیں زمین پر آرہیں گی ایسے مینیجرزکے ہاتھوں دولت بربادہوجائے گی،ایسے منصفوں کے ہاتھوں انصاف گم ہوجائے گاغرضیکہ تعلیم کا زوال زندگی کے ہرشعبے کا زوال بن کرابھرتاہے۔

یونی ورسٹیوں کے کردار کوجانچنے کے لیے دورِحاضر میں رینکنگ کا ایک طریق کاروضع کرکے دنیابھرکی جامعات کی درجہ بندی کی گئی ہے ۔علاقائی بنیادوں پر ہرخطے کی پہلی پانچ یونی ورسٹیوں کی جو فہرست بنائی گئی ہے اس کے مطابق ایشیا کی پہلی پانچ یونی ورسٹیوں میں ٹوکیو یونی ورسٹی جاپان،نان یانگ ٹیکنولوجیکل یونی ورسٹی سنگاپور،نیشنل یونی ورسٹی آف سنگاپوراورچین کی دویونی ورسٹیاں سنگھوایونی ورسٹی اور پیکنگ یونی ورسٹی شامل ہیں ۔یہ جاننے کے بعد کہ ایشیا کی پہلی پانچ یونی ورسٹیوں میں ہم شامل نہیں، ہم دنیاکی پہلی بیس یونی ورسٹیوں کی فہرست کو دیکھتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ اس میں بھی ہمارانام کہیں نہیں ہے ۔ اس کوشش میں ناکامی کے بعد ہماری نگاہیں پہلی پانچ سو یونی ورسٹیوں کی فہرست کی طرف اٹھتی ہیں ۔رینکنگ کے طریق کارکے تحت دنیاکی پہلی پانچ سوجامعات کی بھی فہرست بنائی جاتی ہے ۔یہ فہرست جامعات میں اکیڈیمک ریپوٹیشن سروے ،عالمانہ مطبوعات،مقالات کی پیش کش، بین الاقوامی اداروں سے اشتراک اور اوارڈ کی جانے والی ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں،تحقیقی عمل اورطریق کار،وغیرہ کی بناپربنائی جاتی ہے ۔بدقسمتی سے ہم اس فہرست میں بھی شامل نہیں ہیں ۔واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ فہرست کے مطابق صرف جاپان کی سترہ یونی ورسٹیاں اورپڑوسی ملک بھارت کے بھی چارادارے اس فہرست میں شامل ہیں ۔

دنیاکے مختلف خطوں کے طالب علموں کو پڑھانے اور مختلف ممالک کی نوجوان نسلوں کے ساتھ تعامل کے بعد راقم کا پختہ عقیدہ ہے کہ پاکستانی نوجوان دنیاکے قابل ترین نوجوانوں میں سے ہیں اور اگر انھیں راہ نمائی میسر آجائے تو یہ کسی بھی سمت میں صفتِ سیلِ رواں اپنا راستہ بناسکتے ہیں ۔راقم بیرون ملک تدریسی تجربے کے دوران ہر سال اپنے شاگردوں میں پاکستانی نوجوان جیسا تخلیقی جوہرتلاش کرتاتھا لیکن پاکستانی نوجوانوں جیسا تخلیقی جوہر کجااسے نوجوان نسل کی آنکھوں میں دمکتی زندگی کی وہ چمک بھی دکھائی نہیں دیتی تھی جو پاکستانی قوم کا خاصہ ہے۔صلاحیتوں اور وسائل کے اعتبار سے زرخیز ترین خطہ ہونے کے باوصف پاکستان تعلیمی میدان میں اتنا پیچھے کیوں ہے ۔اس پسماندگی کا تعلق صرف ان وجوہ سے نہیں ہے جن کی طرف عام طور سے توجہ دلائی جاتی ہے ۔یونی ورسٹیوں کے ماحول کو دیکھنے اور جانچنے کے بعد یہ خیال جڑ پکڑتاہے کہ اس پسماندگی کی جڑیں اخلاقی انحطاط میں پوشیدہ ہیں ۔وطن عزیز کی جس قدیم ترین یونی ورسٹی کے ذکرسے کالم کا آغاز کیا گیا اگر صرف اسی کا ذکر کیا جائے تو فارسی کی ایک ضرب المثل یاد آتی ہے ’’ہر کہ بامش بیش برفش بیشتر‘‘ ۔۔۔راقم نے ایک زمانے میں اپنی ایک نظم میں اس کا ترجمہ یوں کیاتھاکہ : جسے میسر ہے دوردستی /اسی کی چھت پر ہے برف زیادہ ۔۔۔آسان زبان میں بات کی جائے تو کہاجائے گاکہ ہرطرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس بلکہ جس کی لاٹھی اس کا سب کچھ کاا صول کارفرماہے ۔لاٹھی کے علاوہ اگر کوئی شے وجود رکھتی ہے تو وہ خوشامدہے ۔ قانون، اخلاق اور ضابطے اپناوجود کھوچکے ہیں، گزشتہ سالوں میں یونی ورسٹی میں جس کلچر کو پروان چڑھایاگیا وہ تعلیم وتعلم کانہیں دھونس ،دھاندلی اورظلم کا کلچر تھا۔سینیارٹی کے اصول کو نظراندازنہیں پامال کیاگیا ۔سینئرزکو پیچھے دھکیل کر جونیئرزکو آگے لایاگیا تاکہ قانون اورضابطے کی جگہ سمع وطاعت کا مظاہرہ ہو۔اعلی اداروں کی کارروائیاں تبدیل کی گئیں ،لاقانونیت کو رواج دیاگیا۔یونی ورسٹیاں جمہوری مزاج کے حامل ادارے ہوتے ہیں یہاں جمہوریت کی جگہ بدترین آمریت اورتعلیم و تعلم کی جگہ محلی سیاست کو پروان چڑھایاگیا جس کے نتیجے میں تدریس اور تحقیق سے دل چسپی رکھنے اور ان شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ناسمجھ اورناکام قرارپائے جب کہ سیاست اور خوشامدکے

میدان میں اپنے جوہر دکھانے والوں نے بلند مراتب اور کامیابیاں حاصل کیں ۔قانون کی حکمرانی کا یہ عالم رہا کہ ایک وائس چانسلرصاحب کو غیرآئینی اقدام سے بازرکھنے کے لیے یونی ورسٹی کے آئین کی کتاب ’’یونی ورسٹی کیلنڈر ‘‘کی طرف متوجہ کیاگیا تو انھوں نے بڑی تحدی سے فرمایاکہ’’ یونی ورسٹی کیلنڈرکاکیاہے میں اسے بدل دوں گا‘‘ ایسا وقت بھی دیکھاگیا کہ پیشہ ورانہ ترقی یا کسی اور مقصد کے لیے جہاں تحقیق و تصنیف کی ضرورت پیش آئی جونیئر رفقاکی کاوشوں پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی گئی۔اس اخلاقی زوال میں مالی بدعنوانیوں کے سیاہ ابواب بھی شامل ہیں ۔معلوم نہیں ان بدعنوانیوں کا بھی کوئی یوم حساب آئے گا یانہیں تاہم یہ واضح ہے کہ یونی ورسٹی کے نئے وائس چانسلر کے لیے، اخلاق اور قانون کا تصور رکھنے والے ایک ذمہ داراستاد کی حیثیت سے، وائس چانسلرکی کرسی، پھولوں کی سیج نہیں۔انھیں ان تمام دکھوں کا مداواکرناہے جو بیتے سالوں میں اس ادارے اور اس دارے کے وابستگان کو پہنچے ہیں ،انھیں میرٹ اور صرف میرٹ کی پالیسی کو اختیارکرناہے ، ان سینئرزکی سینیارٹی کو بحال کرناہے جنھیں ان کی اصول پسندی یا تعلیم و تحقیق کے میدانوں میں خدمات انجام دینے کی سزادی گئی،شعبوں کی زمام اہل ہاتھوں کے سپردکرنی ہے ،یونی ورسٹی کے اداروں پر اعتماد بحال کرناہے ۔اساتذہ کووہ حوصلہ عطاکرناہے کہ وہ آنے والی نسلوں کو پورے اعتماد کے ساتھ یہ بتاسکیں کہ زندگی میں کامیابی کے لیے خوشامداور چوردروازوں کی نہیں ،محنت ،اخلاقی اقدار اور آئین کی پاسداری کی ضرورت ہوتی ہے:

دہر میں عیش دوام آئیں کی پابندی سے ہے

موج کو آزادیاں سامانِ شیون ہو گئیں


ای پیپر