خلافت عثمانیہ کا آخری بہادر خلیفہ عبدالحمید ثانی؟
07 جون 2018 2018-06-07

"جناب ہرزل کو میں نصیحت کرتاہوں کہ آئندہ وہ اس موضوع کے بارے نہ سوچیں۔فلسطین میری ملکیت نہیں۔اس لیے میں فلسطین کی زمین کا ایک بالشت بھی نہیں بیچ سکتا۔فلسطین سارے مسلمانوں کی ملکیت ہے۔میرے باپ داد عثمانیوں نے اس زمین کی خاطر سینکڑوں سال جہاد کیا، اس کی مٹی میں مسلمانوں کا خون شامل ہے،جس کی گواہی میری عوام نے دی ہے۔یہودیوں کو میری نصیحت ہے کہ وہ اپنے پیسے(لاکھوں) اپنے پاس محفوظ رکھیں۔اگر خلافت کا شیرازہ بکھر گیا تو وہ فلسطین کو بغیر قیمت کے لے لیں گے۔لیکن جب تک میں زندہ ہوں ،اللہ کی قسم کھاکر کہتاہوں کہ چھری کیساتھ میرے بدن کو کاٹنا زیادہ آسان ہے اس بات سے کہ دیارالاسلام سے فلسطین کوکاٹا جائے۔"
یہ الفاظ ہیں خلافت عثمانیہ کے آخری مضبوط بادشاہ خلیفہ عبدالحمید ثانی کے،جو انہوں نے انیسویں صدی کے آخر میں اپنے دور خلافت کے دوران صہیونیوں کے بانی تھیوڈور ہرزل اور دیگر یہودیوں کے لیے کہے۔جو آج بھی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھے ہیں۔
خلیفہ عبدالحمید ثانی 21ستمبر1842ء کو استنبول میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد عبدالمجید اول خلافت عثمانیہ کے31ویں خلیفہ تھے۔31اگست 1876ء میں 34سال کی عمر میں خلیفہ عبدالحمید ثانی خلافت عثمانیہ کے 34ویں اور خلافت عثمانیہ کے آخری مضبوط ترین خلیفہ بنے۔ خلافت عثمانیہ کی باگ دوڑ آپ کو ایسے وقت میں ملے،جب دنیا پر استعمار ی غالب تھے اور خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کے لیے باہم اتحاد کرچکے تھے۔یہ وہ دور تھا جب خلافت عثمانیہ ایک طرف اپنی بقاء کی جنگ لڑرہی تھی تودوسری طرف خلافت عثمانیہ قرضوں اور سازشی منافقوں کے بیچ گھری ہوئی تھی۔چنانچہ کچھ یہودیوں نے خلافت عثمانیہ میں اعلیٰ عہدوں کے لیے منافقت کرتے ہوئے اسلام قبول کیا۔یہی یہودی تھے جنہیں تاریخ میں"دونمہ کے یہود"کے نام سے جانا جاتاہے۔جس کا ترکی زبان میں مطلب ہے "یہودیت سے مرتد ہونے والے یہودی"۔یہ یہودی مسلمانوں کے درمیان نارمل طریقے سے زندگی گزارتے رہے۔یہاں تک بعض یہودی خلافت عثمانیہ میں اعلی مناصب تک بھی پہنچ گئے۔جہاں انہوں نے خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے اور فلسطین کو مسلمانوں سے چھیننے کے لیے انگلینڈ اور فرانس سے خفیہ تعلقات قائم کرلیے۔مگر خلیفہ عبدالحمید ثانی کی پرزورآمد کے ساتھ ان کے یہ منصوبے اس وقت تہس نہس ہوگئے،جب صہیونی تنظیم کے بانی تھیوڈور ہرزل نے خلیفہ عبدالحمید ثانی کو خط لکھا جس میں انہوں نے خلفیہ کو بطور رشوت یہودیوں کی طرف سے قرض کے نام پر150 ملین (15کروڑ) پاؤنڈدینے کی آفر کی کہ اس کے بدلے خلیفہ یہودیوں کی فلسطین کی طرف نقل مکانی کی حمایت کرے اور یہودیوں کو ایک ایسا قطعہ ارض دیدے
جہاں یہودیوں کی اپنی حکومت ہو۔ خلافت عثمانیہ کے بہادروں کے اس شاہین نے اتنی بڑی آفر ٹھکرادی،حالاں کہ اس کے ذریعے خلافت عثمانیہ کی مالی مشکلات کو ختم کیا جاسکتاتھا۔
اس کے بعد یہودیوں نے عہد کرلیا کہ کسی طرح اسلامی دنیا کے اس عظیم لیڈر کو خلافت سے ہٹایا جائے۔چنانچہ یہودیوں نے ترکی کے خائن لوگوں کی مدد سے ایک سیکولر تنظیم"ترک یوتھ" کے نام سے بنائی،جس کے ذریعے سیکولرازم،قوم پرستی اور اینٹی اسلام پراگندہ افکار کو عام کرنا شروع کیا گیا۔ اس تنظیم کے ساتھ فوج کے کچھ لوگ بھی شامل ہوگئے جو"اتحادو ترقی" نامی گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ بعدازاں یہ گروپ" ترک یوتھ تنظیم" کا عسکری ونگ بن گیا۔اسی گروپ نے 1909ء میں خلیفہ عبدالحمید ثانی کے خلاف بغاوت کی۔جس کے ذریعے انہوں نے خلافت عثمانیہ کے بہادر خلیفہ عبدالحمید ثانی کو سلانیک شہر (یہ وہی شہر جہاں عثمانی خلفاء نے یورپ سے نکالے گئے یہودیوں کی مہمان نوازی کی اور زمین عطا کیں۔ (ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے 2009ء میں غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیرس کو اپنے عثمانی آباؤ اجداد کی یہ مہمان نواز یاد دلائی)۔)معزول کرکے بھیج دیا جہاں10فروری 1918ء کو آپ کا انتقال ہوگیا۔اللہ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں۔
لیکن خلیفہ عبدالحمید ثانی نے اس سازش کو ایک خفیہ خط کے ذریعے بے نقاب کرکے تاریخ اسلامی میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔جس اہم حصے پیش خدمت ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حمد وصلوۃ کے بعد!
میں اپنا یہ خط زمانے کے شیخ محمود آفندی ابو الشامات کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ ان کے مبارک ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہوئے نیک دعاؤں کی امید کے ساتھ۔
اس مقدمے کے بعد میں آپ اور آپ جیسے اصحاب علم وفضل کے سامنے ایک اہم مقدمہ پیش کررہاہوں،کہ یہ تاریخ کے ذمے ایک امانت رہے۔ خلافت اسلامیہ سے مجھے ہٹانے کے پیچھے جمعیت اتحاد(جان ترک) کے سرداروں کی طرف سے تنگی، دھمکی کا مسلسل آنا تھا۔ جس نے مجھے خلافت چھوڑنے پر مجبور کیا۔ان اتحادیوں نے شدت کے ساتھ اصرار کیا کہ میں یہودیوں کے لیے ارض مقدس(فلسطین) میں ایک یہودی ملک کے قیام کی اجازت دوں۔ان کے اصرار کے باوجود میں نے قطعا اس کام سے انکار کردیا۔آخر میں انہوں نے مجھے 150ملین انگریزی سونے کے لیروں (پاؤنڈ) کی آفر کی۔میں نے اس آفر کو یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ 150 ملین (15کروڑ) پاؤنڈ کی بجائے اگر تم مجھے زمین کے بقدر بھی سونا دیدو تو بھی میں تمہاری بات نہیں مانوں گا۔میں نے امت محمدی ؐ کی 30سال سے زائد خدمت کی،میں اپنے عثمانی بادشاہ اور خلفاء مسلمان آباؤ اجداد کے نامہ اعمال کو سیاہ نہیں کرسکتا۔اس لیے میں تمہاری اس پیشکش کو ہرگز قبول نہیں کرسکتا۔میرے اس قطعی انکار کے بعد انہوں نے مجھے خلافت سے الگ کرنے پر اتفاق کرلیا۔جس کے بعد انہوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھے سلانیک شہر بھیج رہے ہیں،جسے میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی مجبورا قبول کرلیا۔
میں اللہ کی تعریف کرتاہوں کہ میں نے خلافت عثمانیہ اور اسلامی دنیا کو ارض مقدس فلسطین میں یہودیوں کے ملک کے قیام کی ذلت ورسوائی سے داغ دار کرنے والی آفر کو قبول نہیں کیا۔اسی کے ساتھ میں اپنا خط ختم کرتاہوں۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
22ستمبر،1329ھ
(خادم المسلمین عبدالحمید )
یاد رہے کہ خلیفہ عبدالحمید ثانی کے نہ ماننے کی صورت خون خرابے کا خدشہ تھا۔ خلیفہ نے خلافت کی بقاء اور معصوم لوگوں کی جانوں کا پاس رکھتے ہوئے مجبورا خلافت سے علیحدگی اختیار کی۔اگر خلیفہ ان کی بات نہ بھی مانتے تو وہ اس قدر طاقت حاصل کرچکے تھے کہ خلیفہ کو زبردستی محل سے نکال دیتے۔
بہرحال خلیفہ عبدالحمید ثانی کے بعد خلافت عثمانیہ حقیقتاً ختم ہوگئی،اگرچہ استعماری طاقتوں نے من پسند کمزور لوگوں کو 1924ء تک خلافت کے نام پر زندہ رکھا۔ مگر 1924ء میں عثمانی فوج کے ایک جرنل نے خلافت کے خاتمے کااعلان کردیا۔ اس جرنل کا نام کمال اتاترک تھا جس نے خلافت کے خاتمے کے بعد کئی آمرانہ قوانین کے ذریعے ترکی سے اسلامی شناخت کی حامل ہر شئی کو ختم کردیا۔ترکی زبان کا رسم الخط عربی تھا،جسے لاطینی حروف کے ساتھ بدل دیا۔شیخ الاسلام اور مفتی اعظم کے منصب کو ختم کردیا۔عربی زبان میں اذان کہنے پر پابندی لگاکر اسے ترکی زبان سے بدل دیا۔ عورتوں کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی۔ ترکی میں جمعے کی چھٹی ختم کرکے ہفتے اور اتوار کو چھٹی قرار دیدیا۔ ہزاروں ترک مسلمانوں کو جنہوں نے اتاترک کے کفریہ نظریات کی مخالفت کی قتل کر دیا۔ دسیوں ہزار اسلام پسند مخالفین کو جیلوں میں ڈال دیا۔ قرآن کریم اور اسلامی علوم کے مدارس ترکی بھر میں بند کر دیے۔یہاں تک تمام لوگوں کو گمان ہونے لگا کہ اب ترکی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسلام ختم ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ استعماری طاقتوں کو ارض مقدس فلسطین بغیر کسی قیمت پر دیدی۔
قدرت کا فیصلہ دیکھیے! آج ترکی سمیت دنیا بھر میں امت مسلمہ خلیفہ عبدالحمید ثانی کو بہادری اور اسلام اور مسلمانوں کا ہیرو مانتی ہے جب کہ کما ل اتاترک کو غدار ملت اور غدار خلافت سمجھتی ہے۔قدرت کے فیصلے کے ساتھ تاریخ بھی فیصلہ کرتی جارہی ہے کہ عبدالحمید ثانی کو ہرگزرتے دن کے ساتھ طیب اردگان،احمد داؤد اوغلو،عبداللہ گل ،نجم الدین اربکان اور عدنان مندریس جیسے لوگوں کی صورت زندہ رکھا جارہاہے۔


ای پیپر