’’باقی مرضی آپ کی ‘‘۔۔۔
07 جون 2018

دوستو،آج جمعہ ہے اور اگر رمضان المبارک انتیس روزوں کا ہوا تو ممکن ہے آج کا جمعہ۔جمعۃالوداع یعنی ماہ صیام کا آخری جمعہ ہو۔آخری عشرہ بھی چل رہا ہے، رحمتوں،برکتوں،فضیلتوں، مغفرت اور جہنم سے آزادی کے لئے جتنی عبادات کرسکتے ہیں کریں،طاق راتوں میں وہ رات ڈھونڈنے کی کوشش کریں جو ہزارراتوں سے افضل ہے۔رب کے حضور جھک جائیں جتنا مانگ سکتے ہیں، مانگ لیں، اس کی رحمتوں کے خزانے میں کوئی کمی نہیں۔ آج ہمارے کالم کا موضوع ’’مانگ۔نا‘‘ ہے۔ لیکن اس سے ایک چھوٹا سے واقعہ بھی سن لیجئے۔
ونس اپان اے ٹائم۔خلیفہ ہارون الرشید (کالم والے نہیں) کے پوتے ابولافضل جعفر المتوکل نے اپنے ملازم کو بلا کر پوچھا، میں نے سنا ہے کل تم نے امام مسجد کی پٹائی کی ہے؟؟۔اگر تیرے پاس کوئی معقول سبب ہے تو ٹھیک ورنہ تو آج میرے ہاتھوں سے نہیں بچے گا۔ ملازم نے کہا۔ یا امیرالمؤمنین ، میں بازار سے گزر رہا تھا کہ مؤذن نے اذان دی، میں بھی مسجد چلا گیا اور جا کر نماز میں شامل ہو گیا۔ امام نے سورت فاتحہ کے بعد سورۃ بقرہ کی تلاوت شروع کی ، میں سوچا شاید یہ پہلی رکعت میں اس سورت سے چند آیات پڑھے گا مگر نہیں، میں سوچتا رہا کہ یہ ابھی رکوع میں جائے گا اور اب رکوع میں جائے گا مگر اس نے پوری سورۃ ہی پڑھ ڈالی۔ پھر یہ دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہوا تو مجھے یقین واثق تھا کہ یہ اب کی بار، تو کوئی چھوٹی سی سورۃ ہی تلاوت کرے گا ،مگر اس نے سورۃ آل عمران شروع کی اور اسے پورا کر کے ہی دم لیا۔ جب اس نے سلام پھیرا تو بس صبح ہوا ہی چاہتی تھی۔ سلام پھیرتے ہی اس نے کہا۔ اللہ پاک تم لوگوں پر رحم کرے ،تم لوگ کھڑے ہو کر اپنی نمازیں دوبارہ پڑھو کیونکہ مجھے اب خیال آ رہا ہے کہ میں نے نماز تو پڑھا دی ہے مگر طہارت نہیں کی ہوئی تھی۔ تو پھر مجھ سے جو کچھ بن پڑا، میں نے اس کی مرمت پر صرف کر دیا۔ متوکل اپنے ملازم کی بات سن کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔
کسی این جی او نے ایک سماجی تجربہ کیا، دو نوعمر بچوں کو لیا، ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا۔ شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا۔ دراصل ہم بحیثیت قوم انجانے میں بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں اور مشٹنڈے بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی۔مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں. ہمارے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے، اس کے برعکس اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا۔گھر میں ایک مرتبان رکھیں، بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں، مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں، اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں۔ صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے. یاد رکھئے، بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہو سکتی، بلکہ بڑھتی ہے۔ خیرات دیں، منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ، اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی۔ باقی مرضی آپ کی ۔
ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ ،لوگ اکثر پریشان ہوتے ہیں کہ خیرات کس مستحق کو دینا چاہیئے؟؟۔رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی سڑکوں، مسجدوں کے باہر، اور گلیوں میں امڈ آنے والے بھکاریوں کے علاوہ کوئی اور مستحق ملتا ہی نہیں۔ یعنی مستحق ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ، ہم صدقہ و خیرات کو سر سے بوجھ کی طرح اتار پھینکنا چاہتے ہیں،اور چاہتے ہیں کہ کم سے کم وقت میں یہ فرض ادا ہوجائے، یہی کافی ہے۔اگر واقعی آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی خیرات کسی مستحق کے کام آئے تو کچھ ہمت کیجیے۔ان کو ڈھونڈیے، ان تک خود جائیے اور،ذرا شرمندگی سے نظر جھکا کر امداد کا تھیلا پکڑا کر، الٹے قدموں لوٹ آئیے۔اب سوال یہ بنتا ہے کہ مستحق کون ہیں؟۔ سیدھا سا جواب ہے، جو نہیں مانگتے مگر پیٹ کاٹتے ہیں، جن کے بچے حسرت سے پکوڑوں سموسوں کو دیکھتے ہیں۔ جو گھر میں ہمسائیوں سے آنے والی خوشبو سے بے چین ہوجاتے ہیں، مگر تھوک نگل کر رات والا سالن کھالیتے ہیں۔ جن سے مسجد میں پوچھیں کہ کیا حال ہے تو وہ مصنوعی ڈکار مار کر کہتے ہیں، اللہ کا شکر، اتنا کھایا، بدہضمی ہونے والی ہے۔ پہلے حق تو جاننے والوں میں مستحقین کا ہے، یقین کریں ،وہ رشتہ دار جو غریب ہیں، مگر آپ سے ان کی بنتی نہیں، ان کی مدد کرنا دوہرے ثواب کا باعث ہوگا، پہلا حق رشتے داروں کا ہے۔ ۔
اب یہ بھی جان لیجئے کہ مستحق ڈھونڈیں کیسے۔کریم یا اوبر کی بائیک کال کریں، جب بندہ آ جائے تو رائیڈ کینسل کردیں، اور اس کو راشن کا تھیلا، یا نقد خیرات دے دیں، جو بندہ پہلی نوکری کے بعد گھر جانے کی بجائے سو سو روپے کے لیے بائیک پر سواریاں ڈھوتا ہے، اس کے بچوں کو آپ کی خیرات ضرور لگے گی۔۔۔اپنے علاقے کے پرائیویٹ اسکولوں سے رابطہ کیجیے۔ یہاں جو بچیاں پڑھاتی ہیں، ان میں دس میں سے نو کے گھر میں برے حالات ہیں، وہ مجبوری میں چار پانچ ہزار کی جاب کے لیے سارا دن کام کرتی ہیں۔ ان سفید پوش گھرانوں میں راشن یا نقدی بھیجئے۔چھوٹی گلیوں میں دکاندار کے پاس جائیے، عصر کے بعد، آپ کو ضرور کچھ لوگ ملیں گے جو ادھار لیتے ہوں گے۔ ان کا ادھار چکا دیجئے، ہوسکے تو دکاندار سے پوچھ کر کسی لمبے ادھار والے مستحق کو بلا کر اس کا ادھار چکا دیجئے۔چھوٹے تندوروں پر روٹی لگانے والے، ویٹر اور صفائی والے سب اتنا ہی کماتے ہیں کہ انکے گھر فاقوں سے بچ سکیں، ان کو بھی آپ کی خیرات کی ضرورت ہے، ان میں سے اکثر خیرات لینے سے انکار کر دیں گے، ان کی ٹھوڑی پکڑ لیجیے، منت کر کے "تحفے کے طور" پر دے دیجئے۔۔۔مسجدوں میں بوڑھوں کے لباس سے اندازہ ہوجائے گا، نہیں تو جوتے سے، واپس جاتے ہوئے سلام کرکے ہزار،پانچ سو کی خیرات تحفتاً ان کو تھما دیجیے۔ وہ بچوں کے لیے ضرور کچھ ایسا لے جائیں گے ، جن کی انہیں ضرورت ہے۔۔۔بازاروں میں ریڑھیوں یا ہاتھوں پر سودا بیچتے ہوئے معمر لوگوں کو دیجیے۔ مگر ایسے لوگوں کو نہیں جو پنسلیں ہاتھ میں لیے اصل میں بھیک ہی مانگتے ہیں۔ انکو بس پانچ دس دیجیے کہ دینے کا بھرم رہے۔ مگر جو نہیں مانگ پاتے، ان کو دینا بہتر ہے۔یہ چند باتیں ذہن میں آئی ہیں، باقی آپ خود بھی ایسے ہی مزید طریقوں سے لوگوں کو پہچان سکتے ہیں کہ جن کو مدد کی ضرورت ہے مگر وہ اپنی غیرت کے ہاتھوں محنت کے علاوہ کوئی مدد قبول نہیں کرتے۔ انکو اصرار کر کے دیجیے۔۔۔ باقی آپ کی مرضی ۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔ہمارا مسئلہ یہ کہ ہم زندگی بس’’ چاہتے ہیں‘‘ میں گزارناچاہتے ہیں۔جوکچھ حاصل ہے اسی پر خوش نہیں ہوتے۔ عقل ہمیں تب آتی جب حاصل شدہ بھی کھو جاتاہے، دوسرا ہم جو ’’ہرٹ‘‘ ہوتے یا کچھ نہ ملنے پر روتے ہیں، تو یہ سب اسی وجہ سے کہ ہم اپنی زندگی کو دوسروں کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔ پھر ہمیں سوائے محرومیوں اور احساس کمتری کے اور کچھ نظر نہیں آتا، اور یہی عادت ٹھیک کرنے والی ہے۔
ہمیں اپنی نظر سے ، اپنی سوچ و سمجھ سے اور خود کے غور و فکر سے آس پاس دیکھنا چاہیے تبھی ہم خوشیاں ، مسکراہٹیں ، سکوں ، محبتیں، کامیابی وغیرہ حاصل کر سکتے ہیں۔


ای پیپر