کرپشن پر مبنی سیاست اور جمہوری عمل
07 جون 2018

حلقہ بندیوں کو جواز بنا کر انتخابات کے التوا کی کوششیں کی جا رہی تھیں جس کو جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی میں ترمیم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر کے عام انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے عوام میں پائے جانے والے خدشات ختم کر دئے۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کا سیاسی پارٹیوں اور عوام کے تمام طبقوں نے زبردست خیر مقدم کیا۔ اب یہ الیکشن کمشن کی آئینی ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی عمل بروقت انتخابات کی راہ میں حائل نہ ہونے دے، ساتھ ہی انتخابات کی شفافیت و غیر جانبداریت پر آنچ بھی نہیں آنی چاہئے ۔ ان تمام قوتوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے جو کسی بھی حوالے سے انتخابات کے بروقت انعقاد کے خلاف ظاہری اور خفیہ کوششیں کر رہے ہیں۔ ماضی میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے کسی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کو اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے فوراً جواز فراہم کر دیا جاتا تھا تا کہ کوئی بھی فعل قانونی شکل اختیار کر لے۔ اس وقت پاکستان کی آزاد عدلیہ سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ وہ جمہوریت کی بالادستی کے حوالے سے اپنے کھلے اور واضح أوقف سے انحراف کرتے ہوئے کسی بھی طرح کے غیر آئینی اقدام کی توثیق کرے گی۔ عدالتِ عظمیٰ نے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لئے طاقت ور ترین لوگوں کی گرفت کی ہے جس سے لوگوں کے مایوس دلوں میں امید کی کرن روشن ہوئی ہے۔
وطنِ عزیزنے گزشتہ 70سالوں میں سیاسی حکمت کے سارے تجربے کئے ہیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے کسی بھی طریقِ سیاست سے کسی قسم کا کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اکتوبر 2017ء میں تمام پارلیمانی پارٹیوں نے متفقہ طور پر کاغذاتِ نامزدگی سے 19ڈیکلریشنز ختم کر دئے تھے۔ یہ تمام نکات آئین کی دفعات 61اور62میں شامل اور امیدوار کی اہلیت کا لازمی تقاضا ہیں ۔ لیکن سیاسی جماعتوں نے ملی بھگت سے ان کو کاغذاتِ نامزدگی میں نکال دیا گیا تھا۔ پہلے ہائیکورٹ اور اب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ پارلیمنٹ نے جو ترمیم کی وہ آئین سے متصادم ہے اس لئے الیکشن کمیشن نئے کاغذات نامزدگی تیار کرے جن میں ان شرائط کو شامل کیا جائے۔ یہی سیاست دانوں کے منفی رویے ہیں جو اپنے مفادات کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں حکومتوں اور جماعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو مایوس کن مشاہدات سامنے آتے ہیں، جماعتوں نے اصولوں کی پاسداری نہیں کی۔ اس صورتحال کا ایک سبب فیوڈل ذہنیت بھی ہے جو سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو اقتدار و اختیار کی مرکزیت قائم کرنے پر اکساتی ہے اور بہتری کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں عوام کی بھاری تعداد نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو ووٹ دے کر انہیں اپنا نمائندہ چنا اور مسلم لیگ (ن) ملک میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ عوام نے پیپلز پارٹی کو کرپشن کی بناء پر مسترد کر دیا۔ عوام کی ساری توقعات اب مسلم لیگ (ن) سے وابستہ تھیں جو مرکز کے ساتھ پنجاب جیسے بڑے صوبے اور بلوچستان میں بھی برسرِ اقتدار تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو تیسری بار حکومت سنبھالتے دیکھ کر عوام کو پورا یقین تھا کہ کہ انہیں اب پیپلز پارٹی کی معاشی اور معاشرتی چیرہ دستیوں سے نجات مل جائے گی۔ اندھا دھند بڑھتی مہنگائی کے جن کو قابو کیا جا سکے گا، روز بروز بڑھتی کرپشن کو لگام دی جا سکے ، عوام کو انصاف حاصل ہو گا اور طرح طرح کے ہلاکت انگیز مافیاؤں سے چھٹکارا مل سکے گا اور ملک ترقی کی شاہراہ پر نئی پیش قدمی کر سکے گا۔ لیکن گزرتے ہوئے وقت کا ساتھ عوام کو اپنی تمام تر توقعات خاک میں ملتی نظر آئیں اور ان کی ساری امیدوں پر اوس پڑتی گئی۔مہنگائی، منافع خوریِ رشوت ستانی اور قومی خزانے کی لوٹ مار کی ایسی زبردست گرم بازاری شروع ہو گئی کہ اس کی کوئی مثال موجود نہیں۔ خود وزیرِ اعظم کا خاندان شدید الزامات کی زد میں آیا اس دور میں بیرونی قرضوں کی بھرمار ہو گئی حتیٰ کہ وزیرِ خزانہ جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس ناقص حکمتِ عملی کے ذمہ دار ہیں ملک بدر ہوئے بیٹھے ہیں۔ جس طرح بیرونی دنیا سے پانامہ پیپرز کے تحت الزامات لگے ہیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، نیب میں حکمرانوں اور بیوروکریٹس کی پیشیاں ہو رہی ہیں وہ ابھی اپنی مثال آپ ہے۔ سب سے بڑھ کر پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ پنجاب حکومت نے دیدہ دلیری سے میڈیا کی موجودگی میں 14افراد کو شہید اور سینکڑوں لوگوں کو زخمی کیا ہے لیکن اس کا کچھ نہیں بن رہا ہے۔ اگر اس دور کا عمیق مشاہدہ کیاجائے تو حکمرانوں کو اپنے اقتدار کو قائم رکھنے اور اسے طول دینے کے علاوہ اور کسی بات سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ پانامہ لیکس کے کیس میں فیصلہ آنے کے بعد حکمران جماعت کی جانب سے جس قسم کی تلخ و ترش بیان بازی کی گئی وہ یقیناً ناقابلِ فہم اور انتہائی افسوسناک ہے۔ اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر نادم اور شرمندہونے کی بجائے ملک کے مقتدر اداروں پرچڑھائی کر دی اور خلائی مخلوق جیسے نازیاب الفاظ استعمال کرنے شروع کر دئے۔ ہمارے لیڈرز کا حکومت میں آنے کا اصل مقصد ملکی وسائل پر دسترس حاصل کر کے اسے اپنی مرضی سے استعمال میں لانا ہے، سیاست کا اصل مقصد روپے پیسے کا لالچ ہے۔ ہماری حکومت اور ملک کی تمام ان شخصیات سے گزارش ہے جو ملک کی حکمرانی غریب عوام کو زندگی کی سہولتیں مہیا کرنے کے نعرے پر اکثریت کی طاقت کا ووٹ لے کر حاصل کرتے ہیں لیکن آج تک غریب عوام اور ملک کے حالات بدلنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر انہیں ملک کے عوام اور ملک سے واقعی ہمدردی ہے توانہیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہو گئی۔
بلا شبہ آج سیاست کے میدان میں ایک خلاء ہے عوام شدید بے چینی کے ساتھ ساتھ مایوسی کے بھی شکار ہیں وہ ایک مخلص، ایماندار اسر کرپٹ نظام سے چھٹکارا دلانے والی قیادت کے منتظر ہیں۔ اس حوالے سے انتخابات ہی ایک ایسا عمل ہیں جن کے ذریعے ایک محبِ وطن، فعال ایماندار قیادت آگے لائی جا سکتی ہے ۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بذریعہ ووٹ اپنے حکمرانوں کا انتخاب کریں۔ ہم نظام بدلنے کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن جب کرنے کا وقت آتا ہے تو عمل نہیں کرتے ہماری بحیثیتِ شہری کیا ذمہ داریاں ہیں ان کا ہمیں ادراک نہیں ہے۔ ہم تبدیلی ضرور چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کرتے اگر واقعی ہی نظام بدلنا ہے تو مخلص اور محبِ وطن قیادت کو برسرِ اقتدار لانا ہے اور واقعتاً ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے تو صرف زبانی کلامی جمع خرچ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ میدانِ عمل ہمارا منتظر ہے۔ جمہوریت بچانی ہے تو اس کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔ وگرنہ ایک طوفان اٹھے گا اور ہر چیز کو بہا لے جائے گا۔


ای پیپر