آہ !نعیم صاحب آپ بھی چل دیے
07 جون 2018 2018-06-07

ہمارے ’’خبریں‘‘ کے زمانے کے دیرینہ ساتھی اور بزرگ دوست محترم نعیم اختر صاحب لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں۔بہت ہی شریف النفس ، مخلص ، ہمدرد ،محنتی اور زبردست شخصیت تھے۔ نعیم صاحب اور ان کے مرحوم چچا جان نے صحافیوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا مگر خود صحافتی لیڈروں نے انھیں ان کا جائز حق نہیں دیا۔انھوں نے ایک طویل عدالتی جدوجہد کے بعد کوئی ایک سال پہلے ہی لاہور پریس کلب کی رکنیت حاصل کی تھی۔لاہور پریس کلب کی اشرافیہ دوعشرے سے زیادہ عرصے تک ان کی رکنیت میں حائل رہی۔ہم ان لیڈروں کے صحافیوں کو حقوق دلانے کے لیے دعوے سنیں تو لگتا ہے ،ان سے زیادہ صحافیوں کا ہمدرد کسی ماں نے جنا ہی نہیں اور شروع سے عالم یہ ہے کہ پریس کلب کی رکنیت ہر ایرے غیرے اور للو پنجو کو تو دے دی جاتی ہے لیکن اصل اور حقیقی صحافی کو اس سے محروم ہی رکھا جاتا ہے۔
نعیم صاحب نے میرے ساتھ خبریں کے شعبہ ادارت میں کوئی چار سال تک کام کیا تھا۔نومبر 1999ء میں ہماری جدائی ہوئی۔تب میں روزنامہ انصاف میں چلا گیا تھا مگر وہ بدستور ادارتی صفحات پر کام کرتے رہے تھے۔تب وہ پروف ریڈر تھے اور ان کی اردو بہت اچھی تھی۔جب کسی کالم نگارکی تحریر میں کوئی فاش غلطی پکڑتے تو ان کا یہ جملہ ہوتا:یار امتیاز صاحب ! یہ دیکھیے گا ،انھوں نے یہ کیا لکھ دیا ہے۔وہ ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔
اس زمانے میں خبریں کے شعبہ ادارت میں ایک کہکشاں آباد تھی۔اداریہ ہمایوں ادیب صاحب لکھتے تھے، جناب ڈاکٹر انور سدید تھے،وہ انگریزی اخبارات سے کالموں کا اردو ترجمہ کرتے تھے اور ہر دوسرے چوتھے روز اپنا بھی کالم لکھتے تھے۔پرویز حمید صاحب تھے۔ریحان قیوم صاحب اور نذیر حق صاحب تھے۔یہ تمام بزرگ اس جہانِ فانی سے ایک ایک کرکے کوچ کرچکے ہیں۔ہمیں ان تمام بزرگوں کی رہ نمائی میں کام کا اعزاز حاصل ہوا۔ان کے ساتھ کام کا تجربہ ،ان کی صحبتیں، شفقت ، محبت اور رہ نمائی یقیناًمیرے لیے ایک سرمایہ افتخار ہے۔
میں اکتوبر 2001ء میں اسلام آباد آ گیا تھا۔ اس کے بعد بھی نعیم صاحب سے فون پر گاہے گاہے بات ہوتی رہتی تھی۔ڈیڑھ ایک مہینہ پہلے ان سے بات ہوئی تھی۔چند روز قبل مجھے ان کے برادر نسبتی اور خبریں ہی کے دیرینہ ساتھی قمر اسماعیل صاحب نے ان کے اچانک علیل ہونے کی اطلاع دی تھی۔اخبار نئی بات کے دفتر میں افطار سے چند ثانیے قبل ان کا بلڈ پریشر تیز ہوگیا تھا۔انہیں ہسپتال لے جایا گیا ، جہا ں وہ چند روز موت کا مقابلہ کرنے کے بعد منگل کی شام اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ان کے تمام لواحقین کو صبرجمیل عطاکرے۔
اب پیشۂ صحافت میں ایسے شریف النفس لوگ کہاں رہ گئے ہیں؟چند ایک ، جنہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔وہ لوگ ،جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے پاکستان کی صحافت کو سینچا۔ذرا تصور کیجیے۔خبریں میں ہمیں تین تین ، چار چار ماہ کے بعد تنخوا ہ ملتی تھی اور وہ بھی اقساط کی صورت میں۔ نعیم صاحب اپنے گھر کا چولا جلانے کے لیے روزنامہ ڈان لاہور کی لائبریری میں جز وقتی ملازمت کرتے تھے۔اب کون جانتا ہے، یہ چولہا دن میں کتنی مرتبہ جلتا تھا۔دوسرے اخبارات میں بھی کچھ یہی معاملہ تھا۔بس یوں جانیے اسّی اور نوّے کی دہائی میں اپنے اپنے شوق کی تکمیل میں شعبہ صحافت میں وارد ہونے والے قلمی مزدوروں نے ہراس مصیبت کا سامنا کیا ،ہر وہ مشکل جھیلی جو اس ملک کا ایک عام آدمی اور مزدور جھیلتا ہے۔


ای پیپر