رزان نجار اور حافظ سعید کانسخہ خاص
07 جون 2018 2018-06-07

ماہ صیام کی وہ ایک رحمت آفریں شام تھی جب پروفیسر حافظ محمد سعید ملت اسلامیہ کی زبوں حالی کا سبب فکری انتشار اور الگ الگ بیانیوں کو قرار دے رہے تھے۔ پندونصائح سے مزین ان کا ایک ایک لفظ ملت اسلامیہ اور پاکستان کی بقا کے لئے قومی شعور کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کر رہا تھا، فکری انتشار ہی کا شاخسانہ ہے کہ آج اسرائیل اور بھارت کی پشت پر امریکہ کھڑا ہے، قوم کا چارہ گر اور مسیحا نہ صرف خرابیوں اور عوارض کی نشاندہی کر رہا تھا بلکہ ان کے علاج کے لئے نسخہ کیمیا بھی تجویز کر رہا تھا۔

آیئے! ایک اور شام کا تذکرہ کریں، آہوں اور سسکیوں میں ڈوبی رمضان المبارک کی ایک رنجیدہ و رنجور شام کہ جب خزاں بہ کف رتوں کے ظلم و ستم کے خلاف ایک شہر الم فلسطین کے مکین سراپا احتجاج تھے۔ ایک دھان پان سی نازک اندام مگر عزم و ہمت کی کوہ گراں اور فاطمہ بنت عبداللہ کی عملی تصویر بنی رزان نجار زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر رہی تھی۔ مشرقی غزہ میں حق واپسی کیلئے نکالے جانے والا مظاہرہ تھا، اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی اور رزان نجار کو تاک کر گولیاں ماری گئیں۔ روزے کی حالت میں شام ساڑھے پانچ بجے رزان نجار کی نرسوں والی سفید جیکٹ خون میں سرخ ہو چکی تھی اور کچھ دیر بعد وہ کلی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو کر بے حس ملت اسلامیہ کیلئے سوالات کا ایک ہجوم چھوڑ کر چلی گئی۔

زندگی اتنی غنیمت بھی نہیں جس کے لئے

عہد کم ظرف کی ہر بات گوارا کر لیں

رزان پہلی صنف نازک تھی جس نے جامعہ ازہر میں طبی امداد اور نرسنگ کی تعلیم ایک سال تک حاصل کی۔ 2014ء میں اس کے گھریلو حالات بگڑتے چلے گئے، اس کا باپ قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا۔ سو وہ اپنی تعلیم چھوڑ کر واپس فلسطین پہنچ کر مریضوں اور زخمیوں کی رضا کارانہ طبی امداد کرنے لگی۔ رزان کے اس ذوق پر نظم و نثر کے عقیدت آفریں الفاظ قربان کہ وہ اکثر اوقات طبی آلات بھی اپنی جیب سے خریدتی۔ رزان کی جرأت اور شجاعت کو سلام کہ اسرائیل کے خلاف ریلیوں میں وہ دس سے زاید بار زخمی بھی ہوئی لیکن اپنے ارادوں سے پسپائی اختیار نہ کی۔ نہ جانے وہ عظیم لڑکی عزم و یقین کے کس دل نشین لمس سے آشنا تھی کہ متعدد بار زخمی ہو کر موت سے سرگوشی کرنے کے باوجود موت کے خوف و ہراس میں مبتلا نہ تھی۔

اسرائیل نے 2006ء سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی میں محصور کر رکھا ہے اور باہر کی دنیا سے ان کے رابطے پر پابندی ہے، دنیا کا یہ سب سے بڑا واحد ایسا عقوبت خانہ ہے کہ جہاں صرف مسلمان اذیت برداشت کر رہے ہیں، مگر اقتدار کے حریض لوگوں کے لبوں پر آج تک فلسطین پر ظلم کے خلاف کلمہ خیر ادا نہیں ہو پایا جس کا بنیادی سبب فکری انتشار ہی تو ہے۔ رزان نجار کی خون آلود جیکٹ کو اپنی چھاتی سے لگائے اس کی ماں زار و قطار روتی چلی جا رہی تھی، شاید �آپ ان آہوں اور سسکیوں کو بیٹی کی جدائی سے تعبیر کریں۔ یہ بھی درست ہو گا مگر آپ جانیں کہ رزان جن پرخطر راستوں پر گامزن تھی ان کی منزل شہادت ہی ہوا کرتی ہے۔ سورزان اور اس کے اہل خانہ تو شہادت کے لئے پہلے ہی سے ذہنی طور پر تیار ہوں گے، پھر یہ آنسو چہ معنی دارد؟ جی ہاں! ان آنسوؤں کا مطلوب و مقصود یہ تھا کہ شاید آنسوؤں کے یہ سوتے پھوٹتے دیکھ کر مسلم امہ میں کوئی بھونچال آ جائے۔ شاید یہ گریہ و زاری سن کر مسلم امہ کے شعور میں وحدت پیدا ہو جائے مگر رزان نجار کی والدہ کو خبر ہی نہیں کہ مسلم امہ کی ساری قیادت اپنی اپنی ذات اور مفادات کے حجروں میں دھونی رمائے بیٹھی ہے۔ یہاں تو سیاسی اکھاڑے اور دنگل مکمل آب و تاب کے ساتھ سجنے جا رہے ہیں۔ نئے پاکستان کی تخلیق کے لئے اپنے مخالفین کو شکست دینا ہی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ بہ صورت دیگر پاکستان ترقی کی منزلوں پر گامزن نہیں ہو سکے گا۔ سو پاکستان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے صرف ان کا اقتدار میں

آنا اشد ضروری ہے۔ چاہے اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے لئے ممبئی حملوں کا ملبہ اپنے ملک اور فوج پر ڈالنا پڑے تو کوئی پروا نہیں۔ اقتدار پر چوتھی مرتبہ براجمان ہونے کے لئے انہیں فوج کے خلاف محاذ آرائی کرنی پڑے تب بھی ان کے لئے جائز اور درست ہے۔ اقتدار کے ان نشیؤں کا اقتدار میں آنا اتنا ناگزیر ہے کہ اگر انہیں عدلیہ اور نیب کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا پڑے تو یہ سب بھی بہ درجہ اولیٰ درست سمجھتے ہیں۔ اقتدار کا نشہ ان کے اعصاب پر اس قدر حاوی ہے کہ کلبھوشن کے خلاف ایک لفظ تک ریکارڈ پر موجود نہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر استبداد کے خلاف کوئی ایک جملہ تک ان کی زبان سے پھسل نہیں پایا۔

جی بھر کے چور ڈاکو لٹیروں پہ خاک ڈال

کوفہ مزاج سارے وڈیروں پہ خاک ڈال

کوئی جہاں پہ بولے نہیں ظلم کے خلاف

اس شہر کے تمام دلیروں پہ خاک ڈال

رزان نجار کی ماں کی آنکھیں اشکوں سے لدی ہیں کہ شاید بہادری سے منسوب ان لوگوں میں بہادری کی کوئی رمق پیدا ہو جائے۔ ممکن ہے اجلے ناموں پر مشتمل سیاسی تحاریک کے جذبات میں کھلبلی مچ جائے۔ ہو سکتا ہے کہ ان آہوں اور سسکیوں کی بازگشت سن کر سیاست اور مذہب کے نام پر پلنے والی تنظیموں میں کسی جذبہ ہمدردی کو انگیخت مل جائے۔

منسوب تو سورج سے کئی نام یہاں ہیں

جو تیرگی کو تار کرے کوئی نہیں ہے

سب نیند کی گولی ہی کھلاتے ہیں مسیحا

جو نیند سے بیدار کرے کوئی نہیں ہے

برادرم ندیم اعوان اور میاں سہیل نے ملتان کے تمام صحافیوں کو شنگریلا ہوٹل میں جمع کر رکھا تھا اور حافظ محمد سعید میڈیا کے تمام نمائندوں کو ان کے فرائض منصبی سے آگاہ کر رہے تھے کہ قوم کی تربیت کی ذمہ داری میڈیا پر عاید ہوتی ہے۔ جو لوگ پاکستان میں بیٹھ کر بھارتی مفادات کی بات کرتے ہیں ان کی نشان دہی کرنا صحافیوں کی ذمہ داری ہے۔ آیئے! ہم بھی کسی شام خلوت میں بیٹھ کر حافظ محمد سعید کے تجویز کردہ نسخہ خاص پر غور کریں اور فکری انتشار اور تضادات کو جڑوں سے اکھاڑ کر سوچ اور شعور میں وحدانیت پیدا کریں۔ اگر شعور اور ادراک کی اس طرح تنظیم اور ترتیب کر لی گئی تو پھر رزان کی چیخیں آنا بند ہو جائیں گی۔ پھر یقیناًکشمیر کی مغموم اور مسموم فضاؤں میں آزادی کا سورج طلوع ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو جائیں گے۔ (ان شاء اللہ)


ای پیپر