تھائی لینڈ بھئی تھائی لینڈ
07 جون 2018

تھائی لینڈ جانے کی خبر بھائی کے پاس فرانس پہنچی تو ان کا مجھے فوراً فون آیا کہ تھائی لینڈ کیوں جارہے ہوں؟ میں نے کہا ظاہر سی بات ہے سیر کرنے ہی جانا ہے ہمارے رشتے دار تو وہاں کوئی رہتے نہیں، جن سے ملنے جانا ہو ۔ ایک دوست کو پتہ چلا تو وہ ساتھ میں ایک اور دوست کو لے کر آگیا پہلی فرصت میں ہی ہمیں یہ باور کرانے کہ تھائی لینڈ تمھیں نہیں جانا چاہیے۔ میں تھائی لینڈ کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا تھا مگر اس قسم کے تجسس سے میرا شوق اور بڑھ گیا اور میں نے اگلی صبح پہلی فرصت میں ہی تھائی لینڈ کی ٹکٹیں خرید لیں۔جانے سے دو چار دن پہلے بھائی کا پھر مجھے فون آیا کہ آخر تھائی لینڈ ہی کیوں جانا ہے؟میں نے کہا، تھائی لینڈ ہی نہیں سنگاپوراور ملائشیا بھی جانا ہے۔بھائی کہنے لگے، اوہومیرا مطلب یہ نہیں تھا، خیر اپنے سامان کا اور اپنا خیال رکھنا۔ایک دن پہلے پھر وہی دوست اوران کے ساتھ وہی دوست جو میرے بھی مکمل دوست تھے آئے اورکہنے لگے: تھائی لینڈ کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں جایا جائے ۔
میں نے کہا، وضاحت فرمادیں۔
کہنے لگے:یار بے حیائی وہاں بہت عام ہے بس تمھیں کیا بتاؤں؟
میں نے کہا:بتائیں بتائیں میں سننے کے لیے بے تاب ہوں۔
آنکھیں پھاڑ کے کہنے لگے :کیا مطلب اور ساتھ ہی اس نے دوسرے دوست کی طرف دیکھا ،دوسرے دوست نے پہلے کی طرف مسکراتے ہوئے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ میں تو تمھیں کہہ رہا تھا کہ کتھے سر مارن چلاں(کسے سمجھانے لگے ہو)۔وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پر میں نے کسی کو نہ دیکھا اور تھائی لینڈ دیکھنے کے لیے نکل پڑا۔ ہم تھائی ائیرویز پہ جا رہے تھے۔ جہاز کے اندر داخل ہوتے ہی دو تھائی لڑکیاں میری ’’ تھائی ‘‘ تک جھک گئیں۔ میں بھی تھوڑا سا جھک کے واپس اپنی پوزیشن پر آیا۔ وہ پھر اچھا خاصہ جھک گئیں۔ دل نے کہا کہ اگر انہوں نے مجھے بادشاہ سلامت تسلیم کر ہی لیا ہے۔ تو کرنے دو۔اب میں خراماں خراماں جہاز کے اندر چلنے لگا۔ آگے ایک اور ہوسٹسِ دو شیزہ پوری کی پوری بچھ ہی گئی۔ دوستوں پہ بڑا غصہ آیا جو تھائی لینڈ جانے سے روک رہے تھے۔ادھر یہ مجھے بادشاہ بنا کر سلامیاں پیش کر رہے تھے اُدھر دوست اور خیر بھائی بھی اس عمل میں برابر کے شریک تھے۔جب میں اپنی سیٹ پر بیٹھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ’’ ائیر ہوسٹسیں‘‘ سب کو باری باری بادشاہ بنا رہی تھیں۔ میں یہ منظر دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا، میں نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ اب مزید اپنے آپ کو بادشاہ سمجھنا مناسب نہیں، اس لیے میں واپس رعایا میں شامل ہو گیا۔بیل مارنے پر اتنی جلدی خدمت میں حاضر ہوتیں جیسے۔۔۔جیسے ۔۔۔ (کوئی فقرہ ذہن میں نہیں آیا، اپنی مدد آپ کے تحت فقرہ لگا کر مہربانی فرمائیں)۔پھر Seatکے پاس آ کر اتنا جھک جاتیں کہ سر پر لگا گیند ے کا پھول منہ کے بالکل قریب آجاتا ۔ اس پھول کی خوشبو سے لوگ مہک سے جاتے۔ اب یہ بتانا مشکل ہے کہ فقط اس پھول کی خوشبو سے مہکتے یا۔۔۔
بنکاک پہنچے تو بنکاکی پریوں نے پھر ہمیں بادشاہ بنانے کی ناکام کوشش کی۔ بندہ اگر بندہ ہو تو دوبارہ بیوقوف تو نہیں بنتا، پر میرا دل بڑا چاہ رہا تھا(بیوقوف نہیں بادشاہ بننے کو)۔وہاں سے ٹیکسی پر ہوٹل پہنچے۔ ٹیکسی والے نے پیسے مانگے تو مجھے لگا کہ شاید اسے پتہ
ہی نہیں کہ یہ ٹیکسی پہ ہمیں لے کر آیا ہے، کیونکہ اس سے زیادہ پیسے تو پاکستان میں رکشے والے لے لیتے ہیں۔ رسیپشن سے کمرے کی چابی لی ،کمرہ کھولا تو کمرہ اچھا خاصہ کھلا تھا۔ یعنی کشادہ کمرہ اور خوبصورت بھی، واش روم بھی بڑا تھا۔ سنگاپور میں جو ہمیں کمرہ ملا تھا وہ اس واش روم جتنا تھا۔بلکہُ اس ہوٹل کے سارے کمرے اِس واش روم جتنے ہی تھے۔سب سے اوپر کی منزل پر Saunaتھا اور فری تھا، میںSaunaلیتا اور منظر سہانا سہانا ہو جاتا ۔ ہم ہر روز Suan lum night bazar پہنچ جاتے۔ یہ اوپن مارکیٹ تھی بہت بڑی اور خوبصورت ۔ ہوٹل والے فری میں ٹک ٹک (رکشے) پر قریبی سکائی ٹرین یا جہاں ہم نے جانا ہوتا ہمیں چھوڑ آتے۔
ایک دن ’’سوان لم نائٹ بازار‘‘ پہنچے تو زبردست بارش اور ساتھ ہی اولے پڑنے لگے، اولے نہیں گولے ہی تھے برف کے ۔ ایک دن پہلے ہی بال کٹوائے تھے،آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ’’ سر منڈواتے ہی اولے پڑے‘‘ بازار سے باہر نکلنے کو تو دل نہیں چاہ رہا تھا، ویسے بھی جیسے اولے برس رہے تھے دل چاہ بھی لیتا تو کیاکرتے۔ایک شاپ پر ونڈو شاپنک کرتے ہوئے میں کسی نہ کسی کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔ اس دُکان کی لڑکی کے بارے میں، میں نے بیگم سے کہا کہ اس کے خدوخال’’ تھائی لینڈوں‘‘ والے نہیں لگ رہے، ناک بھی چھوٹا لگ رہا ہے اور قد تویہاں کے قدوں سے قدرے چھوٹا ہے ۔ وہ ہمارے پاس ہی کھڑی تھی لیکن اسے کونسا ہماری سمجھ آرہی تھی، اس لیے میں بے خوف وخطریہ حرکتیں (باتیں) جاری رکھے ہوئے تھا۔ میں نے انگلش میں اُس سے پوچھا کہ اس شرٹ میں نیلا رنگ مل جائے گا؟ اس نے مسکراتے ہوئے اردو میں جواب دیا، نیلے کے ساتھ ساتھ میں آپ کو اور رنگ بھی دکھا دیتی ہوں ۔ یہ سنتے ہی مجھے تارے دکھائی دئیے، رنگ کیا دیکھتا؟میں نے کہا ........ جی.......ہاں جی جی .......دکھا دیں جی۔ بیگم نے مجھے مسکراتے ہوئے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں (تیرے نال ہونی ایہو چائی دی سی)۔میں نے سوچا یہ تھائی لینڈ یا چینی لڑکی کا اردو سے کیا لینا دینا؟ شرٹ لے کر آئی تو میں نے فوراًخرید لی اور اس سے پوچھا کہ اردو کیسے بول لیتی ہیں آپ ؟ کہنے لگی کہ میں نیپالی ہوں اور نیپال میں لوگ ہندی بول لیتے ہیں۔ میرے لیے یہ حیرانگی کی بات تھی اور خوشی کی بھی اور مزے کی بات یہ کہ ہم سے زیادہ اچھی اردو بول رہی تھی۔ کیونکہ جتنی دیر وہ ہمارے ساتھ گفتگو کرتی رہی کوئی بھی لائن اُسنے انگلش کی نہیں بولی۔


ای پیپر