کاغذات نامزدگی فارم تنازع
07 جون 2018

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی جانب سے نئے کاغذات ِ نامزدگی کی منسوخی کا حکم معطل کیے جانے کے بعد 2018ء کے عام انتخابات کے لیے امیدواروں سے کاغذات وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے کاغذات ِ نامزدگی کے موجودہ فارم کے خلاف دسمبر 2017ء میں دائر کردہ درخواست پر گذشتہ ہفتے فیصلہ سناتے ہوئے ان کاغذات کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہو گا۔اب عام انتخابات 2018ء کے لیے کاغذات ِ نامزدگی آٹھ جون تک وصول کیے جائیں گے۔
اس بارکاغذات نامزدگی کے حوالے سے نئے سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ کاغذات نامزدگی میں سابقہ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے اپنے مطلب کی ترامیم کیں۔ خاص طورپر اثاثے ظاہر کرنے، آمدن کے ذرائع بتانے ، تعلیمی قابلیت اور بیرون ملک کاروبار، دوہری شہریت کے حوالے سے تمام نکات جو 2013 ء کے کاغذات نامزدگی میں تھے، نکال دیئے گئے۔ تاکہ اراکین سے اس حوالے سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو۔
2013ء کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نامزدگی فارم میں تعلیمی قابلیت اور پیشے کے بارے میں پوچھا گیا تھا لیکن 2018ء کے انتخابات کے نامزدگی فارم کو پر کرنے کے لیے تعلیمی قابلیت اور پیشہ بتانا ضروری نہیں ہے۔ 2002ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن بننے کے لیے کم سے کم تعلیمی اہلیت گریجویشن مقرر کی گئی تھی لیکن 2008 ء میں منتخب ہونے والی اسمبلی نے کم سے کم تعلیمی اہلیت کی شرط کو ختم کر دیا گیا تھا۔
2013ء کے عام انتخابات کے کاغذات ِ نامزدگی میں امیدوار سے پوچھا گیا تھا کہ اْن کے پاس غیر ملکی شہریت یا پاسپورٹ تو نہیں۔الیکشن کمیشن کے سابق فارم میں نامزد امیدوار کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایک اجازت نامے پر دستخط کریں، جس کے تحت اگر اْن کی غیر ملکی شہریت کے حوالے سے بعد میں کوئی معلومات ملیں تو اْن کا انتخاب کالعدم قرار پائے گا۔ 2018ء کے انتخابات میں دوہری شہریت کے بارے میں معلومات طلب نہیں کی گئی ہیں۔ پاکستان کے آئین کے تحت دوہری شہریت کے حامل افراد قومی و صوبائی اسمبلی کے رکن نہیں بن سکتے۔
2013ء کے انتخابات کے لیے نامزدگی فارم میں گذشتہ تین برسوں میں کل آمدن اور اْس پر ادا کیے گئے انکم ٹیکس کی تفصیلات بتانا ضروری تھا۔اس کے علاوہ گزشتہ فارم میں زرعی ملکیتی اراضی اور اْس سے حاصل آمدن پر ٹیکس کے بارے میں پوچھا گیا تھا لیکن اس بار نامزدگی فارم میں یہ دونوں تفصیلات درکار نہیں ہیں۔
عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سابقہ نامزدگی فارم میں گذشتہ تین برسوں کے دوران بیرون ملک سفر کی تفصیلات اور وہاں کیے جانے والے اخراجات کی تفصیلات پوچھی گئی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے۔2018ء کے انتخابات میں بیرون ملک سفر کی تفصیلات دینا ضروری نہیں ہے۔ اگر 2018ء کے فارم کا جائزہ لیا جائے تو ان کاغذات ِ نامزدگی میں اثاثہ جات کی تفصیل، غیر ملکی قرضوں اور مذہب کے بارے حلف نامے سمیت ایسے بیشتر سوالات موجود ہیں جن کے حذف ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔۔
ترمیم شدہ کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں امیدواروں کے لیے بیان حلفی کو لازمی قرار دیا ہے جس میں وہ تمام معلومات درج ہوں گی جو اس کے اثاثوں اور غیر ملکی شہریت کے بارے میں ہوں گی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے الیکشن کمیشن کو اس بیان حلفی کا متن تیار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اگر اس بیان حلفی میں امیدوار کی طرف سے کوئی حقائق چھپائے گئے تو ایسا تسلیم کیا جائے گا کہ یہ حقائق سپریم کورٹ سے چھپائے گئے ہیں اور ایسا کرنے والے کے خلاف توہین عدالت سمیت دیگر قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ووٹرز کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے امیدوار کے بارے میں ملعومات حاصل کرے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ووٹرز کو آنکھوں پر پٹی باندھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
الیکشن کمیشن نے بھی عام انتخابات 2018 ء کے انتخابی فارم کے ساتھ بیان حلفی میں اندرون اور بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نامزدگی فارم میں امیدواروں کے لئے صادق اور امین کی شرط پر پورا اترنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ختم نبوت پر مکمل ایمان لانے کا عہد لیا گیا۔ فارم میں اثاثوں، قرضہ جات، منقولہ اور غیر، منقولہ جائیدادوں کے بارے تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔موجودہ، ماضی کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے متعلق بھی پوچھا گیا ہے۔ فارم میں امیدوار کی تصانیف کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ بیرون ملک سے پاکستان میں لائے گئے اثاثوں اور ترسیلات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ پاکستان سے وفادری ،خودمختاری اور سالمیت کا عہد بھی لیاگیا ہے۔


ای پیپر