نگران حکومت کا قیام اور انتخابی چہ میگوئیاں
07 جون 2018 2018-06-07



’’ نگران حکومت کا قیام اور انتخابات کے راستے میں حائل روکاوٹیں‘‘موجودہ ملکی صورت حال میں یہ ایک اہم موضوع ہے ۔جس پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنا پانچ سالہ دور حکومت تو مکمل کر لیا مگر عوام کو ان کی کارکردگی سے شدید مایوسی ہوئی ہے ۔ اب چونکہ اقتدار کی منتقلی کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے اور جسٹس (ر)ناصر الملک کی سربراہی میں چھ رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے ۔ملک میں تما م تر خطرات و خدشات کے باجود نگراں حکومت کا قیام خوش آئند اقدام ہے ۔اس سے جمہوری ا قدار مظبوط ہونگی اور سیاسی استحکام آئے گا۔ ایوان صد ر میں صدر مملکت ممنون حسین وزراء سے نے حلف لیا ۔ نگران وزیر اعظم نے اپنی کابینہ میں جن چھ وزراء کو شامل کیا ہے ان میں شمشاد اختر کو وزیر خزانہ
مقر ر کیا گیا ہے۔ ان کے پاس وزارت تجارت اوروزارت انڈسٹریز و پیداوارکا اضافی چارج ہوگا ۔ عبد اللہ حسین ہارون کو وزیر خارجہ اور نیشنل فوڈ سکیورٹی کا قلمدان دیا گیا ہے ۔جبکہ وزارت دفاعی پیداوار کا چارج بھی ان کے پاس ہوگا ۔اعظم خان کو وزیر داخلہ مقر ر کیا گیا ہے جبکہ ان کے پاس وزارت بین الصوبائی رابطہ کا اضافی چارج دیا گیا ہے ۔سید علی ظفر کو وزارت قانون و انصاف ،وزارت پارلیمانی امور اور وزارت اطلاعات کا قلمدان دیا گیا ہے ۔یوسف شیخ کو وزار ت وفاقی تعلیم پروفیشنل ٹریننگ کا چارج دیا گیا ہے۔جبکہ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز اور وزارت مذہبی امور کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہو گا ۔روشن خورشید بھروچہ کو وزارت انسانی حقوق ،کشمیر و گلگت بلتستان امور اور وزار ت سیفران کا قلمدان دیا گیا ہے ۔بلاشبہ نگران وزیر اعظم جسٹس ناصر الملک کی دو ترجیحات ہونی چاہیں ایک آئین کے مطابق صاف شفاف اوربروقت انتخابات کا انعقاد اور دوسرا ملک میں سیاسی استحکام ۔موجودہ حالات کے تناظر میں دونوں کام بہت بڑے چیلنجز دکھائی دیتے ہیں ۔کیوں ؟۔۔۔ ملک میں چیف جسٹس ، نگران وزیر اعظم اور چیف الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات 25جولائی کو کروانے کے واضح اعلان کے باوجود انتخابات کو ستمبر تک ملتوی کرنے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔سیاسی و صحافتی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ کچھ ایسی قوتیں جنہوں نے سینٹ کے انتخابات کے موقع پر بلوچستان اسمبلی میں اپنا کھیل کھیلا اور مرضی کا سیٹ اپ لایا گیا ۔ اب بھی پس پردہ سرگرم ہیں۔بہرکیف ملک میں الیکشن بروقت ہونگے ۔تمام اسٹیک ہولڈر التواء کے نقصانات سے بخوبی واقف ہیں۔ملک و قوم مزید کسی بھی قسم کی مہم جوئی کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔
ایک طرف نظر ڈالیں تو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہے ۔جس میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ ’’ حکومت نے وقت پور اکیا ا ہم سے زیادہ کسی کو خوشی نہیں ، ملک میں بروقت انتخابات سب کی خواہش ہے‘‘ یہ اسٹیٹمنٹ شکوک و شہبات کو بڑی حد تک کم کر دیتا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف سپریم کورٹ کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ جس میں
کاغذات نامزدگی میں پارلیمنٹ کی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے آرٹیکل 62,63 کے تقاضے پورے کرنے کا حکم دیا تھا کو کالعدم قرار دینا اور حکم نامہ جاری کرنا کہ اگر انتخابات میں تاخیر ہوئی توذمہ دار الیکشن کمیشن ہو گا اہم ہے ۔ ملک میں اس وقت امیدواران کے کاغذات نامزگی وصول کئے جا رہے ہیں ۔جو کہ 8جون تک وصول کئے جائیں گے ۔تمام جماعتیں اپنے اپنے امیدوار فائنل کرنے میں مشغول ہیں اور کوششیں کی جارہی ہیں طاقت وار اور توانا امیدواروں کو میدان میں اتارا جائے ۔مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی ،ایم ایم ائے سمیت دیگر جماعتیں پارلیمنٹ میں اپنی عددی قوت کو بڑھانا چاہتی ہیں۔خیر یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کو نسی جماعت اپنی اس کاو ش میں کامیاب ہوتی اور اقتدار میں اپنا کتنا حصہ وصول کر پاتی ہے ۔
آخر میں صرف اتنا ہی ۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم کو اپنے مسائل کے حل کے لئے مخلص اور محب وطن افرادکا چناؤ کرنا ہوگا۔ محض برادری ازم اور سیاسی نسبت سے آنکھیں بند کر کے ملک کی تقدیر کے ساتھ کھیلنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہے ۔ بحیثیت قوم ہمیں ووٹ کی پرچی کی اہمیت کا شعور ہونا چاہے اس سے زندہ قومیں اپنا مستقبل محفوظ کرتی ہیں۔میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں مسلم لیگ ن کی کارکردگی پر تفصیل سے لکھا تھا ن لیگ کے 2013ء کے انتخابی منشور کا جائزہ بھی لیا تھا صرف اس لئے کہ عوام 2018ء میں جب اپنی قیمتی رائے کا اظہار کریں تو ماضی کی کارکردگی کو ضرور مد نظر رکھیں تاکہ فیصلہ سازی میں رہنمائی مل سکے ۔


ای پیپر