بھارت معاملات کا پر امن حل نہیں چاہتا تو ہم بھی تیار ہیں، پاکستان
07 جون 2018 (16:41)

اسلام آ با د:پا کستان نے گلگت بلتستان آ رڈر پر بھا رتی اعترا ضات کو مسترد کر تے ہو ئے بھارت کو چیلنج کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرا ردادو ں کے مطا بق استصواب را ئے کروا یا جا ئے ، بھا رت پر امن ہمسا ئیگی اور با و قار مذاکرات کے لیئے تیار نہ ہوا تو جلد ٹوٹ جا ئے گا ، بھارت خطے کو ہتھیاروں کی دوڑ میں جھونک رہا ہے، پاکستان کو بھی تیار رہنا پڑے گاپاک فوج ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے عالمی برادری کا رد عمل مثبت ہے،عام انتخابات آزادانہ اور شفاف ہو ں گے، پا کستان اور روس کے ما بین سفا رتی تعلقات با ہمی احترام پر مبنی پا لیسی کے ساتھ خو ش اسلو بی سے آ گے بڑ ھ رہے ہیں.

کابل میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہیں، دھماکے میں معصوم جانوں کے ضیاع پر شد ید دکھ ہ ہوا ہے، صدرممنو ن حسین 9جون سے چین میں شروع ہو نے والے شنگھا ئی تعاون تنظیم کے سر برا ہی اجلاس میں شر کت کر یں گے ، صدر ممنو ن حسین کی بھا رتی ہم منصب کے ساتھ کو ئی بھی ملا قات ایجنڈے کاحصہ نہیں ہے ، کشن گنگا ڈیم پر ذمہ داری عالمی بینک کی ہے، پاکستان اس مسئلے پر مسلسل آواز اٹھاتا رہے گا۔تر جمان دفتر خا ر جہ ڈاکٹر فیصل نے جمعرات کو ہفتہ وار پر یس بر یفنگ میں کہا کہ گلگت بلتستان آ رڈر پر بھا رتی اعترا ضات کی کو ئی بنیاد نہیں ہے ، بھارت کو اگر ز عم ہے تو اقوا م متحدہ کی قرار دادو ں کے مطا بق استصواب را ئے کروا ئے تو حقیقت سا منے آ جا ئے گی، مقبو ضہ کشمیر کو ہر حا لت میں پا کستان کاحصہ بننا ہے اور اس میں کو ئی شک نہیں ہے ، بھارت خطے کو اسلحے کی دوڑ میں دھکیل رہا ہے،ہندوستان کے رویئے اور اسلحہ کی دوڑ کی وجہ سے ہم اپنے دفاع پر مجبور ہو جاتے ہیں.

پا کستان سے متعلق بھارت کے جنگی جنو ن با رے بیانات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، پا کستان معاملات پر امن طور پر حل کرنے کا خواہاں ہے، پا کستان بھا رت کے ساتھ پر امن ، با و قار اور با معنی مذاکرات کا خوا ہشمند ہے ، اگر بھارت دوستا نہ ہمسا ئیگی کے اصول پر را ضی نہ ہوا تو جلد ٹو ٹ جا ئے گا، بھارت کو اپنے روئیے میں سنجیدگی لانا ہو گی،ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پا کستان اور بھارت کے ما بین حا لیہ ٹر یک ٹو ڈائیلا گ کے با رے میں کو ئی علم نہیں ہے، انہو ں نے کہا کہ بھارتی فوج کی کنڑول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی مذمت کرتے ہیں، بھارت کا مقبو ضہ کشمیر میں انسا نیت سوز مظا لم کا سلسلہ جا ری ہے .

بھا رت نے گز شتہ ایک ہفتہ میں 7 کشمیریوں کو شہید کیا احتجاج کے دوران ایک جوان پر فوجی جیپ چڑھا دی گئی عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کو بھا رتی مظالم پر تو جہ دینا ہو گی،شبیر احمد شاہ ، آسیہ اندرابی سمیت سینکڑوں حریت رہنماوں کی گرفتاری بھی قا بل مذ مت ہے، شبیر شاہ کو بد نا م ز ما نہ تہاڑ جیل میں قید کیا گیا ہے جو کہ انسا نی حقو ق کی سنگین تر ین خلاف ورزی ہے ،مقبو ضہ فو رسز کی جا نب سے سر ی نگر میں انٹر نیٹ سروسز بھی گز شتہ ہفتہ بند کر دی گئی جو کہ آزادی اظہار پر قد غن لگا نے کے مترادف ہے، ان کا کہنا تھا کہ کشن گنگا ڈیم پر ذمہ داری عالمی بینک کی ہے، پاکستان اس مسئلے پر مسلسل آواز اٹھاتا رہے گا، پانی کا مسئلہ ہماری شہہ رگ ہے اور اس معا ملہ پر فتر خا رجہ سے کو ئی کو تا ہی نہیں ہو گی.

ڈاکٹر فیصل نے پا کستان او ر روس کے ما بین گر مجو شی اختیار کر تے سفا رتی تعلقات کے با رے میں پو چھے گئے سوال کا جواب دیتے ہو ئے کہا کہ دو نو ں مما لک کے ما بین تعلقات با ہمی احترام پر مبنی پا لیسی کے ساتھ خو ش اسلو بی سے آ گے بڑ ھ رہے ہیں،پا کستان اور روس توا نا ئی کے شعبہ میں اہم شرا کت دار ہیں، روس کی جا نب سے پا کستان میں توا نا ئی کے منصو بو ں پر کام ہو ر ہا ہے ، دو نو ں مما لک کے ما بین زیر سمندر گیس پا ئپ لا ئن کا ایک منصو بہ بھی زیر غور ہے جس پر 2017سے مذاکرات جا ر ی ہیں،انہو ں نے مز ید کہا کہ پا کستان کابل میں علما کے اجتماع پر دہشتگردی کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، دھما کے میں زخمی ہو نے وا لو ں کی جلد صحتیا بی کیلئے دعا گو ہیں.

ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ پاکستان ماحولیات کی بہتری کے لیے دنیا کے ساتھ ملکر کام کر رہا ہے ، پاکستان ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لئے پلاسٹک کے استعمال کے خلاف مہم کا حصہ ہے ، چینی سفا رتخا نے میں ہلا ک ہو نے والے چینی شہر ی کے حوالے سے سوال کو جواب دیتے ہو ئے انہو ں نے کہا کہ یہ ہلا کت دل کا دورہ پڑ نے کے با عث ہو ئی، دفتر خا رجہ چینی سفا رتخا نہ سے را بطہ میں ہے ، ہلاک ہو نے والے شہری کی نعش چین روا نہ کر نے کیلئے ہر سہو لت فرا ہم کی جا ئے گی،انہو ں نے مز ید کہا کہ صدر مملکت ممنو ن حسین 9 جون کو چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سر برا ہی اجلاس میں شرکت کریں گے ، صدر مملکت چینی صدر شی جن پھنگ سمیت دیگر عا لمی رہ نما ﺅ ں سے ملا قاتیں کر یں گے تا ہم بھا رتی ہممنصب کے ساتھ کو ئی ملا قات طے شد ہ ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔


ای پیپر