نگرانیاں اور ویرانیاں!
07 جون 2018 2018-06-07

سیاسی جماعتوں کی صلاحیت یہ ہے مرکز کے لیے نگران وزیراعظم اور صوبوں کے لیے نگران وزرائے اعلیٰ کی تلاش میں کتنے ہی دن لگادیئے ، یہ معاملہ حکومتوں کی مدت پوری ہونے سے بہت دن پہلے طے ہوجانا چاہیے تھا۔ اگر یہ معاملہ ملک وقوم کے مفاد میں ہونا ہوتا تو فوراً ہو جاتا۔ مگر سیاسی جماعتوں خصوصاً برسرِ اقتدار سیاسی جماعتوں کے بہت سے ذاتی مفادات ہوتے ہیں، خصوصاً اُنہیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کون سی شخصیت ایسی ہے جو نگران وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے طورپر الیکشن میں اُنہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے یا کم ازکم کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ سو یہ تقرریاں وہ بہت سوچ سمجھ کرکرتے ہیں جس میں کئی دن ضائع ہوجاتے ہیں۔ مرکز میں تو ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس پر اتفاق ہوگیا مگر سوائے ایک آدھ صوبے کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے کسی نام پر اتفاق نہیں ہورہا، پنجاب میں پی ٹی آئی اور نون لیگ کی قیادت سرجوڑ کر بیٹھے اور سابق چیف سیکرٹری پنجاب ناصر کھوسہ کو نگران وزیراعلیٰ نامزد کردیا، وہ بے چارے ابھی اپنی شیروانی کا آرڈر بھی نہیں دے پائے تھے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اُن کا نام واپس لے لیا، میری معلومات کے مطابق پی ٹی آئی ان کے بھائی ایک انتہائی نیک نام ریٹائرڈ پولیس افسر طارق مسعود کھوسہ کو نگران وزیراعلیٰ بنانا چاہتی تھی، پی ٹی آئی کے رہنما اور پنجاب میں اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید، ناصر کھوسہ کو طارق کھوسہ سمجھ کر راضی ہوگئے بعد میں ان کی پارٹی نے اُنہیں اُن کی غلطی کا احساس دلایا ۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا خیال تھا ناصر سعید کھوسہ شریف برادران کے بہت قریب رہے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے وہ پنجاب میں اہم ترین عہدوں پر تعینات رہے۔ اصل میں شریف برادران کسی ایسے افسر کی کسی اہم عہدے پر تقرری کا تصور بھی نہیں کرتے جو ان کی غلامی پر تیار نہ ہو، کسی افسر کی کسی اہم عہدے پر تعیناتی کے لیے مختلف ایجنسیوں سے اُس کی سابقہ کارکردگی ، اہلیت اور ایمانداری سے زیادہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ماضی میں اس کی وفاداریاں کن حکمرانوں کے ساتھ رہی ہیں، اور اگر اُسے اہم عہدے پر تعینات کردیا گیا تو وہ ہمارا یعنی شریف برادران کا وہ کتنا وفادار رہے گا؟ ،....اس حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے 1998ءمیں ایک ڈی ایم جی افسر کو کسی ضلع میں ڈپٹی کمشنر لگانے کے لیے خادم پنجاب نے اس کا انٹرویو کیا، انٹرویو میں اُس سے تفصیل پوچھی گئی کہ آپ کہاں کہاں تعینات رہے ہیں ؟ وہ افسر پیپلزپارٹی کے دور کے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عارف نکئی کاڈپٹی سیکرٹری رہ چکا تھا۔ یہ تعیناتی اس کی ڈپٹی کمشنری کے راستے میں رکاوٹ بن گئی ،....خدا کی قدرت12اکتوبر 1999ءکو شریف برادران کی حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد اسی افسر کو ڈپٹی کمشنر اٹک تعینات کردیا گیا اور شریف برادران اٹک جیل (قلعہ اٹک) میں بند تھے، مجھے نہیں پتہ اس دوران اس ڈپٹی کمشنر کی خادم پنجاب کی کوئی ملاقات ہوئی تھی یا نہیں؟ اگر ہوئی تھی تو خادم پنجاب اُسے دیکھ کر ضرور اس بات پر شرمندہ ہوئے ہوں گے کہ جس افسر کو محض اپنے ایک مخالف سیاستدان حکمران کا ڈپٹی سیکرٹری ہونے کی وجہ سے اُنہوں نے ڈپٹی کمشنر لگانے سے انکار کردیا تھا وہ آج اُسی ضلع میں ڈپٹی کمشنر ہے جہاں وہ جیل میں ہیں، قدرت کا اپنا ایک حساب کتاب اور نظام ہے جس پر شریف برادران کو کبھی اعتماد نہیں رہا، .... یہ بھی ممکن ہے اُس ڈپٹی کمشنر کو دیکھ کر وہ ذرا شرمندہ نہ ہوئے ہوں، اگلے روز چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے صاف پانی کمپنی کیس میں بھی شرمندہ ہونے کے بجائے وہ ”فنکاریاں“ ہی دکھاتے رہے۔ سوالات اُن سے کوئی اور پوچھے جارہے تھے جوابات وہ کوئی اور دے رہے تھے۔ وہ شاید اب اس خواہش میں مبتلا ہیں لوگ ان کی سابقہ کارکردگی کے بجائے اُنہیں کوئی پاگل وغیرہ سمجھ کر ان پر ترس کھاکر ہی اُنہیں ووٹ دے دیں۔ اپنی اکثر تقریروں میں وہ بڑے جذباتی انداز میں فرماتے ہیں ”ہم نے پنجاب میں ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی“ ....پنجاب میں واقعی ”دھیلے“ کی نہیں اربوں کھربوں کی کرپشن ہوئی ہے۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں ” ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے مجھے قبر سے نکال کر پھانسی دے دی جائے“۔....اپنے لیے وہ سزا بھی ایسی تجویز کررہے ہیں جو عملی طورپر ممکن ہی نہیں۔ کسی کو قبر سے نکال کر پھانسی دینے کی کوئی
روایت موجود ہوتی تویہ سزا کبھی اپنے لیے تجویز کرنے کی ہمت نہ کرتے....بہرحال میں ناصر کھوسہ کی بات کررہا تھا جو بے چارے نگران وزیراعلیٰ بنتے بنتے رہ گئے، سنا ہے پی ٹی آئی اور نون لیگ سابق آئی جی کے پی کے ناصر خان درانی کے نام پر بھی رضامند ہوگئی تھیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بننے سے معذرت کرلی ، اس کے لیے بظاہر انہوں نے جواز یہ تراشا کہ ان کی صحت اجازت نہیں دیتی، مگر جتنا میں اُنہیں جانتا ہوں، سیاست میں جتنا گند پڑ گیا ہے ، اور الیکشن میں جتنا گند پڑنے والا ہے میرے خیال میں ان کی صحت نہیں ان کی طبیعت اور اچھی فطرت نے اُنہیں اجازت نہیں دی ہوگی۔ جس شخص نے ساری زندگی عزت آبرو سے گزاری ہو وہ ایک گندگی کا حصہ بننے کے لیے آسانی سے کیسے رضامند ہوسکتا ہے؟ ۔ وہ کیا کوئی بھی شریف آدمی نہیں ہوسکتا۔ البتہ ”شریفوں کا کوئی آدمی ”ضرور ہوسکتا ہے۔ ریٹائرڈ آئی جی طارق سلیم ڈوگر اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ اوریا مقبول جان کے نام بھی سامنے آئے ہیں، فی الحال کوئی نام فائنل نہیں ہورہا ، اُمید ہے یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو ہی طے کرنا پڑے گا ....ویسے شریف برادران کا بس چلے ایک بار پھر نجم سیٹھی کو ہی نگران وزیراعلیٰ بنوادیں۔ یہ الگ بات ہے حالات اب تبدیل ہوچکے ہیں اور نجم سیٹھی پوری کوشش کے باوجود ان کے لیے وہ ”خدمات“ انجام نہیں دے سکیں گے جو پہلے وہ دے چکے ہیں، سنا ہے اس بار اُن کی بیگم جگنو محسن اوکاڑہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہی ہیں، اصولی طورپر تو اُنہیں نون لیگ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہیے۔ یہ الگ بات ہے وہ کسی سینما کی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ سنا ہے وہ آزاد الیکشن لڑرہی ہیں، وہ چاہیں تو مادر پدر آزاد الیکشن بھی لڑ سکتی ہیں، ان کی کامیابی کے چانسز بہت کم ہیں۔ مگر پچھلے دنوں ہمارے آرمی چیف یعنی ہمارے رشک قمر نے اُن کے شوہر محترم جناب نجم سیٹھی کو کرکٹ میں اُن کی خصوصی کارکردگی پر ایک زبردست تعریفی خط لکھاتو یار لوگ اپنے طورپر اسے اُن کی بیگم کی الیکشن میں کامیابی کی ضمانت سمجھنے لگے ہیں، ویسے وہ الیکشن نہ لڑرہی ہوتےں تو اُنہیں نگران وزیراعلیٰ بنایا جاسکتا تھا، عورت کے نام پر پی ٹی آئی کو بھی شاید اتنا اعتراض نہ ہوتا۔ البتہ ایک بات پر مجھے حیرت ہے نگرانوں کے لیے اب تک ریٹائرڈ ججوں اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے نام ہی سامنے آئے ہیں، کتنی بدقسمتی ہے ”جمہوریت کے علمبرداروں“ کے پاس ایک ایسا سیاستدان نہیں جسے نگران وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے طورپر وہ پیش کرسکیں!


ای پیپر