”مینڈا سائیں “ سے ”خان “ تک
07 جون 2018 2018-06-07

عزیزان من!
بہت ساری اچھی خبریں ہیں سپریم کورٹ آف پاکستان نے وطن عزیز میں پانی کی قلت پر نوٹس لیتے ہوئے ڈیموں اور پانی کے ذخائر کی تعمیر پر سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی ہے۔15 مارچ کو2018ءمیں پانی کی قلت اور متعلقہ مسائل پر انہی سطور میں کالم بعنوان ” ڈیم بناﺅ....ڈیم فول نہیں“ اظہار خیال کیا اور 16 مارچ کو روزنامہ ”نئی بات“ میں تفصیلی اور سب سے پہلے خبر شائع ہوئی۔ گزشتہ روز کے اخبارات اور تین دن سے سوشل میڈیا نے پانی کا مسئلہ جس شدت سے اٹھایا ہے اس سے لگتا یہ ہے کہ پانی کے مسئلہ کے حل کے لیے اب تجاویز اور لائحہ عمل سامنے آئے گا۔ گزشتہ روز ہی ایک سیاسی جماعت کے لیڈر نے ایک مرتبہ پھر اپنے خبث کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی مائی کا لعل کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکتا اور پنجاب اپنی بادشاہت قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جو پختونوں کے حقوق کے چمپئین بنتے ہیں اور صوبے کا اہم ایئر پورٹ اپنے دادا کے نام سے موسوم کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں جس نے پاکستان میں دفن ہونا بھی پسند نہیں کیا اور افغانستاان میں جا دفن ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی مائی کا لعل کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکتا چلیں اب وہ وقت آ گیا ہے جس میں پاکستان کو خشک سالی سے قحط کی طرف دھکیلنے والوں کے چہرے بے نقاب ہوں گے یہ سب وہی ہیں جنہوں نے (میرے منہ میں خاک) پاکستان کو توڑنے کی دھمکیاں دیں کوئی جماعت ڈیم مخالف تو کوئی فاٹا انضمام کی اور یا پھر وہ ہیں جنہوں نے منظور پشتین کو پالا پوسا اوراب اپنی گود میں اٹھائے اٹھائے پھر رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ان سب کے چہرے آ شکار ہوں بے شک میرے رب کا وعدہ سچا ہے کہ ظاہر و باطن سامنے آ کر رہے گا۔
ظاہر و باطن سے مجھے یاد آیا کہ تحریک انصاف کی صفوں میں بڑی کھلبلی مچی ہوئی ہے کہ ریحام خان کی کتاب آنے والی ہے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ اب پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی ذات بطور جماعت اور سیاسی رہنما اپنی جگہ بنا چکے ہیں اور اب مجھے اور آپ کو پسند ہو یا نہ ہو اس کے لیے ایسے چاہنے والے اور ورکر موجود ہیں جنہیں اپنے قائد کی غلطی، غلطی نظر نہیں آتی اور میاں نواز شریف اور عمران خان بھی قسمت کے دھنی ہیں، چاہنے والے آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے کھڑے ہیں!
محترمہ بے نظیر بھٹو کی وفات یا شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کے پاس وہ ”کرزما“ نہیں رہا اور آصف علی زرداری کو مقبولیت نہیں مل سکی جو کسی بڑے لیڈر کی شخصیت کا حصہ ہوا کرتی ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ وہ یہ کمی اپنی چالاکی اور ہوشیاری سے پوری کر لیں گے۔ خیر یہ ان کی اپنی سوچ ہے اور اس ”چالاکی“ اور ”ہوشیاری“ کے فائدے یا نقصان کچھ انہوں نے 2013ءکے انتخابات میں دیکھ لیے اور کچھ وہ 2018ءمیں دیکھ ہی لیں گے۔ ہوشیاری کبھی بھی دانائی اور حکمت کا نعم البدل نہیں ہوا کرتی۔ نوے کی دہائی میں پیپلز پارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کشی کی کوششیں ان کے مخالفین نے بہت کیں مگر افسوس اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ محترمہ نے دوبار اقتدار کے حصول میں کامیابی حاصل کی حالانکہ ان کے خلاف بھی بہت کچھ لکھا اور چھاپا گیا بلکہ پمفلٹ ہیلی کاپٹر سے پھنکوائے گئے لیکن ہونی کو ، کوئی نہیں ٹال سکا۔ اب وہی طریقہ کار عمران خان کے حوالے سے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مجھے نہیں لگتا کہ ان کوششوں سے ریحام بی بی کسی طرح عمران خان کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکیں گی، اس مرتبہ صورت حال یہی ہے کہ ”مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مر سکدا“ اگر اقتدار سے کسی طور عمران خان کو کوئی دور کر سکتا ہے تو وہ خود عمران خان ہے اور جو کچھ ابھی تک عمران خان کرتے آ رہے ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ خود کو کافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔
کے پی کے اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کے تعین کے معاملے کو تو لوگ لطیفے کے طور پر یاد کر کے ہنسا کریں گے۔ سنجیدہ طبع لوگ ، فیصلہ نہ کر سکنے کی خامی کو ایک بڑا عیب سمجھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو جو مرضی کہہ لیں اور ان پر جتنے بھی الزام لگا لیں لیکن یہ کریڈٹ بہرحال انہیں دینا پڑے گا وہ دو جگہ پر نگران کا فیصلہ کرنے کے لیے بطور فریق موجود تھے اور دونوں جگہوں پر انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے تقرر میں کامیابی حاصل کی۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اپنے کام کو کتنا سنجیدگی سے لیتے اور کرتے ہیں، لوگ بھی اتنی سنجیدگی سے آپ کے بارے میں ذمہ داری دینے کے لیے غور کرتے ہیں۔ غیر سنجیدگی کی انتہا ہے کہ آپ دونوں جگہوں پر نام پر اتفاق کرنے کے بعد پیچھے ہٹ گئے یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ آپ کو طارق کھوسہ اور ناصر کھوسہ میں فرق پتا نہیں یا کے پی کے میں نگرانی کے لیے جس آفریدی کو آپ نے چنا وہ سوشل میڈیا والوں کو پسند نہیں تھا۔ ان دونوں واقعات سے جتنا نقصان پی ٹی آئی کو ہو چکا ہے کیا آپ کے خیال میں ریحام خان کی کتاب کوئی زیادہ نقصان کرے گی؟ لیڈر بھی انسان ہوتے ہیں غلطی کا احتمال تو ہر لمحے رہتا ہے لیکن جس شان اور متانت کے ساتھ آپ غلطی درست کرتے ہیں یا غلطی کے ساتھ نبھاہ کرتے ہیں وہی رویہ عوام کو گرویدہ کرتا ہے یا پھر دور کر دیتا ہے۔
ریحام خان سے شادی کو بھی ایک انسانی غلطی سمجھیے کہ دنیا میں جارج واشنگٹن سمیت کئی بڑے لوگ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ نبھا نہیں کر سکے لیکن لیڈر اپنے چوری شدہ بلیک بیری سے خوفزدہ ہے........
اللہ معاف کرے جو لوگ اپنے موبائل کی حفاظت نہیں کر سکتے انہیں خفیہ معاشقے لڑانے اور اہم لوگوں سے سیاسی معاملات ٹیلی فون پر نہیں کرنے چاہئیں۔ ریحام کی کتاب شاید کوئی پڑھتا یا نہ پڑھتا اب اس کے ایک مبینہ یا مجوزہ مسودے کو لے کر الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہے اس کے بعد کتاب کی اشاعت ہو نہ ہو فرق نہیں پڑتا۔
ریحام خان نے الزامات کی جو گرد اڑائی، جواب دینے والوں نے اس پر اپنا پیشاب کرکے اسے کیچڑ بنا دیا ہے، اب اس کیچڑ سے اپنے آپ کو کس طرح سے بچانا ہے،یہ عمران خان کے لیے اہم امتحان بن جائے گا کیونکہ ریحام مطلب براری کے لیے جس سطح پر آ گئی تھیں اس کے بعد صرف فیاض الحسن چوہان جیسے رد عمل سے ہی مجھے ریحام زیادہ قابل رحم لگ سکتی تھیں۔ کپتان کو دشمنوں کی ضرورت کیا ہے؟
تریا چلتر تو صدیوں سے مشہور ے اور ریحام خان اس وقت ایک زخم خوردہ عورت ہے جس نے جو کچھ سوچا تھا وہ پا کر کھو دیا اس کی مایوسی اس کی خطرناکی میں اضافہ ضرور کرتی ہے لیکن اگر اسے نظر انداز کر دیا جاتا تو شاید اتنا تماشا نہ بنتا مگر اب تو ڈگڈگی بجائی جا رہی ہے، تماشائی اکٹھے ہو رہے ہیں، تماشا تو ہو گا لیکن اگر یہ تماشا لاہور کے کسی ”سکریپ ڈیلر“ (پرانی اشیائ، کتابیں اور ان کے متعلقین جمع کرنے کے شوقین) کے اشارے پر ہو رہا ہے تو شاید تماشائی ناراض ہو جائیں کیونکہ ضروری تو نہیں کہ جس پروڈکشن ہاﺅس کی ”مینڈا سائیں “ ہٹ ہو جائے وہ ”خان“ نامی ڈرامہ سیریل بھی ہٹ کرانے میں کامیاب ہو جائے!
آپ نہیں بدلے تو ضروری نہیں کہ عوام کا ”ٹیسٹ“ بھی نہ بدلا ہو۔


ای پیپر