سارک کا مستقبل
07 جولائی 2020 (23:43) 2020-07-07

سارک تنظیم آبادی اور وسائل کے لحاظ سے دنیا میں منفرد مقام رکھتی ہے اور اِس میں بھی کوئی شائبہ نہیں کہ اگر ممبرممالک باہمی تنازعات حل کرلیں تونہ صرف پورا خطہ خوشحال ہو سکتا ہے بلکہ کسی بیرونی طاقت کو دخل اندازی سے بھی روک سکتے ہیں لیکن ایسا سوچا جا سکتا ہے مگرممکن نظر نہیں آتاکیونکہ تصفیہ طلب مسائل کے خاتمے میں بھارت مسلسل رکاوٹ ہے جسے دور کرناکسی اور ملک کے بس میں نہیں جب تک بھارت خود اپنے رویے پر نظر ثانی نہیں کرتا مسائل جوں کے توںبرقرار رہیں گے ایک طرف خطے سے باہر ممالک سے قریبی تعلقات اُستوار کرنے کے لیے دہلی بے قرار ہے مگر اپنے ہمسایہ ممالک سے بگاڑ درست نہیں کررہا حالانکہ کسی کو خوفزدہ کرکے مراسم بڑھائے نہیں جا سکتے بھارت یہ حربہ اختیار کرکے نیپال اور بھوٹان سے ناراضگی پیدا کر چکا ہے جبکہ شہریت کے متعلق متنازعہ قانون بنا نے سے بنگلہ دیش سے دوری بھی نوشتہ دیوا ر ہے پاکستان سے پہلے ہی کشیدگی ہے ایسے حالات میں جب سارک کے مستقبل کے بارے میں قیافے لگانے کی کوشش کی جائے تو اچھے آثا ر دکھائی نہیں دیتے ایسا لگتا ہے کہ آج نہیں تو کل سارک اپنی افادیت کھو سکتی ہے۔

چین کو سارک کاممبربنانے کی تجویزکی پاداش میں ناکہ بندی اورتجارتی سرگرمیوں کی بندش کی صورت میں نیپال سزا بھگت چکا ہے حالا نکہ چین پہلے ہی دنیا کی بڑی طاقت ہے اُس کے ممبر بننے سے سارک کی اہمیت اور حیثیت میں اضافہ ہوتاایسا ہونے کی صورت میں دنیا کی نصف آبادی کی تنظیم سے ہر ملک تعلقات بنانے کی کوشش کرتا علاوہ ازیں بھارت چین سے تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کی زیادہ بہترپوزیشن میں ہوجاتا لیکن عقل مانگنے سے تھوڑی ملتی ہے حالات کا تجزیہ کرنے کے لیے بھیجا استعمال کرنا پڑتا ہے لیکن دہلی حکومت کو ہوش سے کوئی غرض نہیں وہ فیصلہ کرتے ہوئے جوش سے کام لیتی ہے لیکن یہ جوش اب خطے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے مسائل کاپہاڑبنارہا ہے جس سے خطے میں امن کے آثار معدوم اور سارک بے جان ہوتی جارہی ہے۔

بھارت کا خیال ہے کہ وہ ڈرا کر ہی خطے کی بالا دست طاقت بن سکتا ہے اور جب سے چین نے شاہراہیں ،ہوائی اڈے ،بندرگاہیں بنا کر دنیا کے قریب ہونااور نئی تجارتی منڈیاں تلاش کر نا شروع کیاہے بھارت نے تقلید کرنے کی کوشش کی ہے مگر طاقت کے بے جا استعمال اور نیپال کے علاقے میں سڑک بنا کر ایک ایسے ملک کو خودسے دور کر لیا ہے جس کی فوج کی تنخواہیں بھارت ادا کرتا ہے جس کے شہری بھارتی فوج میں ملازم ہیں جوتجار ت کے لیے بھی بھارتی سرزمین استعمال کرتا ہے اب صورتحال یہ ہے کہ نیپال بھارت مخالف مظاہروںکا مرکز بن چکا ہے ذرائع ابلاغ میں

بھارت مخالف مُہم عروج پر ہے ثابت ہواڈراکر بالادست طاقت بننادشوار ہے اِس پالیسی سے بھارت سے متنفر ممالک میں اضافہ ہونے کے ساتھ ایک اُس کی ناکہ بندی ہونے لگی ہے اور اِس ناکہ بندی میں چین یا پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں بلکہ یہ انتہا پسند ہندو قیادت کی حماقتوں کا شاخسانہ ہے لیکن پراگنندہ حالات کی بھارتی قیادت کوپرواہ نہیںاِس لیے یہ توقع رکھنا کہ وہ سارک کی بحالی پر توجہ دے گا خام خیالی ہوگی۔

سارک کی بجائے بھارت کی توجہ مخالف ممالک کا گھیرائوکرنے پر ہے وہ چین کو تو سارک کا ممبر بنتا دیکھ نہیں سکتا لیکن آسٹریلیا سے مل کر چین کے خلاف فضا بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے پاکستان کے خلاف کاروائیاں کرنے کے لیے سرزمین دینے پر افغانستان کو جھٹ سارک کا ممبر بنا لیتا ہے اور اب کوشاں ہے کہ افغانستان ،ایران اوروسط ایشیائی ممالک کے ساتھ ایک ایسی تنظیم بنائی جائے جو چین اور پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں میں بھارت کے ساتھ ہو اگر سارک کے خلاف ایسے منصوبے بھارتی ترجیحات کا پردہ چاک کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ اُس کی ترجیحات خطے کے مفاد کے منافی ہیںاگر اُسے خطے کا مفاد ہوتا تو نیپال کی طرف سے 2014میں کٹھمنڈو سربراہ کانفرنس کے دوران چین کو ممبر بنانے کی تجویز کی مخالفت نہ کرتا کیونکہ چین کے سارک میں آنے سے سلامتی کونسل کے مستقل ممبر کا آنا خوشگوار اضافہ ہوتا۔

سارک میں تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے ہوتے ہیں اور اِس شق کا ہمیشہ بھارت نے ناجائز فائدہ اُٹھایا ہے جب بھی سارک کی میزبانی پاکستان کے حصے میں آتی ہے بھارت کی طرف سے اعتراضات سامنے آ جاتے ہیں جوزیادہ تر بلاجوازہوتے ہیں مگر بھارت اِس طرح دراصل اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے اب بھی محض پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے لیے بھارت نے سارک ممالک کے بنگلہ دیش ،نیپال کو ساتھ ملا کر BBINتنظیم بنا لی ہے اِس تنظیم میں برما کوبھی شامل کیا گیا ہے واقفانِ حال تو یہاں تک کہتے ہیں کہ بھارت نے مالدیپ اور سری لنکا کو بھی سارک کے علاوہ بھارت کے ساتھ مل کر الگ تنظیم بنانے کی تجویز پیش کی ہے مگر سری لنکا ہنوز محتاط ہے اور فی الحال پس و پیش سے کام لے رہا ہے کیونکہ سری لنکا کے چین مخالف کسی اتحاد میں شامل ہونے کے امکانا ت نہ ہونے کے برابر ہیںسری لنکن بندرگاہ کاکنٹرول حاصل کرنے اور کئی بڑے منصوبوں کے لیے قرض دیکر چین سری لنکا میں حکومتی سطح تک فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگاہے اِس لیے غالب امکان ہے کہ شاید یہاں نیپال ،بھوٹان اور برما کی طرح بھارت کو پذیرائی نہ ملے مگر بھارتی حکمتِ عملی کو سمجھنے والے بخوبی جان گئے ہیں کہ سارک کو بھارت اپنے مفاد سے متصادم تصور کرنے لگا ہے۔

نیپال ،بھوٹان ،بنگلہ دیش ،سری لنکا اور مالدیپ جیسے ممالک کسی بھی حوالے سے بھارتی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث نہیں بن سکتے پھر بھی دہلی کی کوشش ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف خوف کا حصار قائم کردیا جائے عین ممکن ہے بھارت اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا لیکن جس طرح امریکی مقاصد پورے کرنے کے لیے بھارت نے کندھا پیش کر رکھاہے اسی طرح جنوبی ایشیا کے چھوٹے ممالک نے چین کی چھتری تلے پناہ لے لی ہے افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسیاں متحرک ہیں مگر وہ وقت زیادہ دور نہیں جب اُسے بھی احساس ہو جائے گا کہ بھارتی مقاصد کے لیے پاکستان اور چین کے خلاف استعمال ہونا دانشمندی نہیں بھارت کسی بھی حوالے سے چین کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتاکیونکہ چین کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا یہ اُس کی امن پسندی ہے کہ چودہ میں سے بارہ ممالک کے ساتھ تنازعات حل کر لیے ہیں لیکن بھارت ایسا نہیں کر سکازیادہ تر ہمسایہ ممالک سے تنازعات نہ صرف جوں کے توں ہیں بلکہ چین اور پاکستان کے بعد نیپال اور بھوٹان کی سرحدوں پربھی تنائومیں اضافہ کر لیا ہے اِن حالات میں سارک کی موت بھارتی مفادات پر کاری ضرب ہو سکتی ہے پاکستان چیمبرکے صدراب سارک چیمبر کی صدارت کا منصب سنبھال چکے ہیں عمران خان بھی سارک کو اہم قرار دیکر فعال بنانے کا عزم ظاہر کرنے لگے ہیں مگر سارک چیمبر کے صدر اور عمران خان کو خوشی فہمی کا شکار ہونے کی بجائے زمینی حقائق سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے۔


ای پیپر