سرخیاں ان کی…؟
07 جولائی 2020 (23:41) 2020-07-07

٭… مائنس ہوا تو مائنس تھری ہو گا…؟

٭ سب سے پہلے وفاقی وزیر ریلوے جناب شیخ رشید احمد کو کرونا کو شکست دینے پر مبارکباد! بہرحال اپنی عادت سے مجبور وہ اکثر ہوا میں باتیں کرتے رہتے ہیں حالانکہ انہیں نظام ریلوے کے لئے کام کرنا چاہئے کیونکہ وہ دیگر کئی سیاستدانوں سے اس لئے بھی بہتر ہیں کہ ان کے بدن میں بے چین روح بستی ہے۔ شاید اسی لئے وہ وزیر ریلوے کم اور وزیر اطلاعات و معاون خصوصی زیادہ لگتے ہیں۔ بہرحال انہوں نے فرمایا ہے کہ اب مائنس ہوا تو مائنس تھری ہو گا مگر میں کہتا ہوں کہ کیوں شیر کو چھڑیاں مارتے ہو اور سوئے ہوئے کو جگاتے ہو۔ وہ اپنا کام کر رہے ہیں آپ بندے کے پتر بنیں اور اپنے اپنے کام پہ فوکس کریں۔ کچھ ہوسکتا ہے تو ووٹروں پہ رحم کریں ان کی کچھ نہ کچھ حالت بدلیں ورنہ ہاتھ کھڑے کر دیں تاکہ اگلے کوئی کوئی اور بندوبست کریں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ تحریک انصاف نے آپ کو ایک خاص مقام دے رکھا ہے ایسا مقام جو شاید کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے۔ آپ کو چاہئے تو یہ تھا کہ خبریں پڑھنے اور کڑھنے کی بجائے اپنے تمام تر سیاسی تجربے اور سیاسی بصیرت کی بدولت پی ٹی آئی کو وہ مقام دلواتے جو تاریخ یاد کرتی کیونکہ ریاست مدینہ کا نظریہ محض نان نفقے پر مبنی نہیں تھا ایک ایسی ثقافتی تحریک تھی ایک عظیم اور قابل فخر نظریہ اور اسلام کی روح تھی جسے آپ کو بھی آگے بڑھانا چاہئے تھا۔ مگر افسوس کہ آپ نے اپنا سیاسی اور تاریخی کردار ادا ہی نہیں کیا اور اب جبکہ جان لبوں پہ ہے آپ ایک کوتاہ اندیش دانشور کے آمریت کی طرف واپس دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ آپ سب سے زیادہ محب وطن، باصلاحیت اور باکردار بہادر شخص ہیں۔ مگر لوگ اب آپ کے شعلہ زباں بیانات پر قہقہے لگاتے ہوئے ان پہ دھیان ہی نہیں دیتے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ گپ شپ کی بجائے اصل مسائل حل کرنے کی طرف دھیان دیں اور دوسروں کے کاموں یا کارناموں میں نہ مداخلت کریں اور نہ ہی نکتہ چینی اور نہ ہی پی ٹی آئی کے کچھ نادان وزراء کی دانشورانہ دہشت گردی کو خاطر میں لائیں ورنہ میرے سائیں عظیم صوفی بزرگ سائیں بلھے شاہؒ نے کہا تھا

کر کتن وَل تیان کڑے

نہ رہ سی نام نشان کڑے

………………

٭… پی آئی اے کے مشکوک پائلٹس کا معاملہ ہے۔؟

٭ خدا کا شکر ہے کہ دیر آید درست آید کے مصداق چیئرمین پی آئی اے ائرمارشل جناب ارشد ملک نے لب کشائی کی ہے۔ بلاشبہ وہ ایک ایماندار، پُرعزم اور نڈر افسر ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں بھی وہ کسی دبائو میں نہیں آئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مشتبہ پائلٹس کا معاملہ بہتر انداز میں حل کیا جاسکتا تھا۔ حالانکہ یہ بات پی آئی اے کے ریکارڈ پر ہے کہ وفاقی وزیر جناب غلام سرور خان نے جونہی فلور آف دی ہائوس مشکوک پائلٹس کی دھماکہ دار خبر سنائی تھی تو میں پہلا شخص تھا جس نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت جبکہ پی آئی اے اپنی کمرشل بنیادوں پر اوپر اُٹھ رہی تھی۔ ایسا اقدام دانشمندانہ نہیں ہے بلکہ اس سے ایسا نقصان ہو گا کہ دفاع کرنا مشکل ہوجائے گا۔ بہرحال اب بھی وقت ہے کہ نہ صرف سب مل جل کر پی آئی اے کی مجروح ساکھ کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں بلکہ پی آئی اے کا بھرپور ساتھ دیں نہ کہ سازش کریں جبکہ ایک عربی کہاوت ہے کہ ایک سرپھرا کنویں میں ایک پتھر پھینکتا ہے تو دس دانشور اس کو نہیں نکال سکتے۔ میرے دوست شاعر نے کہا تھا

کیسے سنبھال رکھی ہے تو نے یہ کائنات

ہم سے تو ایک دَل بھی سنبھالا نہیں جاتا

………………

٭… شارٹ فال زیرو، پھر بھی لوڈشیڈنگ…؟

٭ آج کراچی سے میرے کالم پڑھنے والے کئی معزز قارئین کے فون، میسجز اور ای میلز موصول ہوئیں جن کے مطابق کراچی کے عوام لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں تڑپ رہے ہیں حالانکہ میرے ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے گورنر ہائوس میں اس سلسلہ میں اہم میٹنگ ہوئی تھی۔ جس میں جناب وفاقی وزیر عمر ایوب، اور کے الیکٹرک کے سی ای او کا ویڈیو لنک خطاب بھی ہوا تھا۔ حکومتی وزراء کے مطابق کے الیکٹرک کے کہنے پر اسے اس کی ڈیمانڈ کے مطابق بجلی، گیس اور تیل مہیا کر دیا گیا ہے مگر افسوس کہ اس کے باوجود شہریوں کو بجلی فراہم نہیں کی جا رہی جس سے وہ شدید گرمی میں بلبلا اٹھے ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ ہمارے ہاں اگر کسی حکمران سے کوئی گلہ ہو تو فوری اس کے خلاف نئے سے نیا

اتحاد جنم لے لیتا ہے اور متبادل کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ مگر عوام کو لوٹنے والے جو دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں نہیں اربوں اکٹھے کرتے ہیں، کسی نہ کسی طرح اثاثوں میں بھی ظاہر کرتے ہیں بلکہ بیرون ملک ان کی خریدی گئی جائیدادیں بھی اخبارات میں شائع ہو جاتی ہیں مگر نہ انہیں کوئی پوچھتا ہے کہ یہ سب کہاں سے آیا اور اتنا مال کہاں سے بنایا۔؟ اور نہ ہی عوام بھوک بیماری یا اندھیروں میں ڈوب رہے ہوں تو جن کے رحم و کرم پر انہیںچھوڑا جاتا ہے وہ ملکی ادارہ ہو یا غیرملکی کمپنی، انہیں کوئی نہیں پوچھتا کہ کیا یہ عوام لاوارث ہیں؟ جو تم اس قدر ظلم و بربریت ان پہ ڈھا رہے ہو۔ خدارا کے الیکٹرک کو پوچھا جائے؟ ورنہ اسے فارغ کیا جائے۔

………………

٭…52 لاکھ خاندانوں میں ہیلتھ کارڈ کی تقسیم…؟

٭ فولادی عزم کی حامل پی ٹی آئی کی روح رواں بہادر خاتون محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد صوبائی وزیر صحت نے جس طرح سے دن رات ایک کر کے کرونا کے خلاف تاریخی جنگ لڑی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اگرچہ اس دوران وقتاً فوقتاً میں بھی انہیں فون کال کر کے ان کے عزم اور حوصلے کو ’’شاباشی‘‘ دیتا تھا انہیں ہمیشہ باہمت پاتا تھا۔ اگر ان کی نجی زندگی کو دیکھا جائے تو میں انہیں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ ٹیبل ٹینس کھیلا کرتی تھیں اور ان کے ٹینس شاٹس اور بیک ہینڈ شاٹس دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ ایک نہ ایک دن ان شاٹس کی طاقت اور فوکس رنگ دکھائے گی۔ بہرحال پھر جب ایک نظر ان کے انتخاب پر ٹھہری تو مجھے بے حد خوشی ہوئی مگر میری ان سے عقیدت ان کا تین بار الیکشن لڑنا اور وہ بھی ایسے سیاسی گڑھ اور گڑھے میں جو مجھے ان کادیوانہ بنا گیا کیونکہ یہ کرونا تو کچھ بھی نہیں ہے؟ بہرحال اب جبکہ اس کرونا کے خلاف بھی وہ جنگ جیتنے کے قریب ہیں، میں یہ کہنے پہ مجبور ہوں کہ وہ کمزور دل خواتین اور سیاستدانوں کے لئے نہ صرف رول ماڈل ہیں بلکہ ایک ایسی دلیر اور انصاف پسند فولادی عورت ہیں، جن کے نزدیک سچائی ہر رشتے اور تعلق سے بڑھ کر ہے۔ بہرحال ان کے سیاسی کرشموں کی یہ بھی ایک کرشماتی کڑی ہے کہ وہ نہ صرف انسانی خدمت پہ یقین رکھتی ہیں بلکہ ہر لمحہ انسانوں کی شکرگزار دکھائی دیتی ہیں اور اللہ کے نبیؐ کا یہ بھی فرمان ہے کہ ’’جس نے انسانوں کا شکریہ ادا نہیں کیا، اس نے اللہ کا شکریہ بھی ادا نہیں کیا‘‘۔ میں سمجھتا ہوں یہی ان کی اصل سیاست ہے اور بندگی کا اصل مزہ بھی اسی میں ہے۔


ای پیپر