بیشک یزید وقت مرا امتحان لے
07 جولائی 2020 2020-07-07

پچھلے دنوں یکے بعددیگرے برصغیر میں اور پاکستان میں خصوصاً کچھ عالم باعمل کا وصال ہوا، اور وہ خالق حقیقی سے جاملے ، اسلام کی روسے ہم اسے نیک یا بدشگون سے تعبیر نہیں کرسکتے، منورحسن، مولانا لدھیانولی تاہم ، ہم یہ سوچنے پہ تو یقیناً حق بجانب ہیں، کہ ایک عالم کی موت ایک عالم کی موت ہوتی ہے۔ لفظی اور لغوی مطلب، عالم کا، صاحب علم و فضل بہت پڑھے لکھے شخص کو کہتے ہیں، عالم الغیب نے ان علماءباعمل کو اپنے پاس بلالینے کی حکمت تو وہ خود ہی جانتا ہے، کہ عالم غیب سے عالم قدس میں جانے کی سعادت تو بخش دی ہے، مگر یہ بھی تو سچ ہے، جو میں نے متذکرہ بالا سطور میں تحریر کیا ہے، عالم وقت میں علم وحکمت عالم سبت وبود، سے عالم کائنات سے ہوتا ہوا حضرت امام حسین ؓ کے ہاتھوں اسلام کربلا میں دوبارہ زندہ ہوا، جس سے باطل قوتوں کو نیست ونابود ہونا پڑا، اسی لیے تو شاعر سید مظفرشاہ کی پکار دل سوختہ دجاں کردیتی ہے، کہ

بے شک یزید وقت مرا امتحان لے!

بیعت کے سلسلے میں میں آبا کے ساتھ ہوں

تشنہ لبی نصیب تھی، میں سوکھتا گیا

ویسے تو ایک عمر سے دریا کے ساتھ ہوں

قارئین کرام ، اس حوالے سے میں اپنے محدودعلم کو حضرت علی ہجویری ؒ کے ساتھ شامل کرکے وسیع کرلیتے ہیں ،جن کا فرمان ہے، کہ اہل سنت کے احوال کے مطابق جادو بھی ٹھیک ہے، یعنی جادو لوگ کرتے ہیں اسی طرح کرامت بھی ٹھیک ہے۔ مگر عالم باکمال کا جادو کا مرتکب ہونا ٹھیک نہیں اور وہ کفر ہے کرامت کا سرزد ہونامعرفت ہے، جادو قہر خداوندی کا مظہر ہے۔ اہل سنت میں اہل بصیرت اور ماہر علم وفضل اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ جادو گر مسلمان نہیں ہوسکتا، اور کافر صاحب کرامت نہیں ہوسکتا، کیونکہ متضاد اور مختلف چیزیں باہم جمع نہیں ہوسکتیں قارئین یہ موضوع اتنا وسیع اوراتنا طویل ہے، کہ اسپہ ایک نہیں متعدد دلائل کے ساتھ، اس کے مثبت اور منفی پہلو پہ لکھا جاسکتا ہے۔ تاہم میں مختصراً استفادہ کرکے لکھے دیتا ہوں، کہ ہمارے زمانے میں کچھ لوگ ریاضت کا بوجھ نہیں اٹھاسکتے، واضع رہے، کہ یہ الفاظ میرے نہیں آج سے تقریباً ہزار سال قبل حضرت علی ہجویریؒ نے لکھے ہیں وہ مزید کہتے ہیں کہ ریاضت کا بوجھ نہ اٹھانے والے ریاست کے طلب گار ہیں، ان کے خیالات پڑھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے، کہ وہ موجودہ صورت حال کی طرف واضح اشارہ فرما رہے ہیں، وہ تمام اہل طریقت کو اپنے جیسا خیال کرتے ہیں۔

جب بزرگان سلف کے بیانات سنتے ہیں ، اور ان کی شان وعظمت کو دیکھتے ہیں، ان کے معاملات اور ان کے بارے میں ان کی سوانح عمری پڑھتے ، اور لوگوں کا ان کی شان میںلکھا ہوا سنتے اور پڑھتے ہیں، تو پھر اپنے اوپر نظر کرتے ہیں، مثلاً حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ ، قطب الدین بختیار کاکیؒ ، حضرت خواجہ غلام فریدؒ ، حضرت نظام الدین اولیاؒ ، اور حضرت صابر کلیر شریف والوں جیسوں کا پڑھتے ہیں، تو پھر ان کو بلند وبالا جگہ پاکر اپنے آپ کو پس ماندہ، اور کم تر سمجھ کر کہتے ہیں بھلا ان کا اور ہمارا کیا مقابلہ ؟

وہ لوگ تو ختم ہوچکے بھلا ان جیسے اب کہاں پیدا ہوتے ہیں، یہ بات سرا سر غلط ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ رب العزت کبھی اہل زمین کو تنہا نہیںچھوڑتا، اور امت نبی کو زمین میں بغیر ولی نہیں رہنے دیتا۔ اس لیے تو ہمارے پیغمبر اعظم حضرت محمد مصطفیٰ کا فرمان ہے میری امت میں ایک گروہ تاقیامت، حق وصداقت پر رہے گا، نیز فرمایا کہ میری امت میں چالیس آدمی خلق ابراہیمی ؑ پر رہیں گے۔

مگر قارئین، ہماری عوام بے حد پریشان ہے، کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے، کبھی چاند گرہن ، اورکبھی سورج گرہن ختم ہونے کا نام نہیں لیتا، میں آپ سے پوچھتا ہوں؟ کہ کیا یہ رب کی نافرمانی کا صلہ ہے کیونکہ ہمارے نبی محترم کا فرمان ہے، کہ مسلمان کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا؟ اب آپ دل میں سوچیں، اور اپنے آپ سے پوچھیں کہ ہم میں عوام سے کون جھوٹ پہ جھوٹ بولتا جارہا ہے۔ ”یوٹرن“ انگریزی میں بول دینے سے جھوٹ سچ نہیں ہوجاتا، میں یہ نہیں کہتا کہ میری تحریر کا غلط مطلب لیا جائے، کہ حضور کے صاحبزادے حضرت ابراہیم ؓ کا انتقال سورج گرہن والے دن ہوا تھا، جس پہ حضور انتہائی رنجیدہ ہوکر بہت روئے تھے۔ اور ٹڈی دل کے بارے میری بجائے ابوعبداللہ بسطائی بھی جو بادشاہ یعنی حکمران تھے ان کے عمل سے اندازہ لگالیں کہ اصول باانصاف حکمران کیسے ہوتے ہیں ایک موقعے پر بسطام پر ٹڈی دل امڈ آیا، تمام کھیت اور درخت سیاہ ہوگئے لوگ چلارہے تھے، شیخ بسطامیؓ نے سبب پوچھا ، تو خادم نے بتایا کہ ٹڈی دل کا حملہ ہوا ہے، یہ سن کر آپ چھت پر چڑھ گئے اور آسمان کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوگئے۔ حکمران کو چھت پر کھڑا دیکھ ٹڈی دل ختم ہونا شروع ہوگیا، ظہر تک فضا صاف ہونا شروع ہوگئی اور کسی کو گھاس کے تنکے برابر بھی نقصان نہ پہنچا۔

قارئین.... اگر یہ صورت حال دیکھ کر جس سے وطن کا ہر کسان پریشان ہے، اگر عمران خان ایوان سے نکل کر ویران جگہ پر کسی بستی کے کسان کے گھر کی چھت پر چڑھ کر ایسی کرامت نہیں دکھا سکتے.... تو کیا فواد چودھری، اسد عمر ، فیصل واوڈا، فیصل سلطان یا شیخ رشید ایسا کرسکتے ہیں؟ اگرحکم ہو، تو میں حکمرانوں کے ایسے بے شمار واقعات لکھنے کو تیار ہوں، ان شاءاللہ


ای پیپر