سرمغیث الدین شیخ! ....(چوتھی وآخری قسط)
07 جولائی 2020 2020-07-07

سرمغیث الدین شیخ کی شخصیت وخدمات پر یہ میرا چوتھا اور آخری کالم ہے، میں شاید اُن کے شایان شان نہیں لکھ سکا، میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا مجھے اُن کے شاگرد ہونے کا باقاعدہ اعزاز حاصل نہیں ہوا، پر میں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا، میرے اعمال اگر اُن کی تربیت کے مطابق ہو جائیں میں ایک مکمل انسان ہونے کا حقدار ٹھہرایا جاسکتا ہوں، اپنے گزشتہ تین کالموں میں سے کسی ایک کالم میں،میں پہلے بھی یہ عرض کرچکا ہوں جب میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے بطورطالب علم وابستہ تھا وہ پی ایچ ڈی کرنے امریکہ گئے ہوئے تھے، شعبہ صحافت کے بے شمار اساتذہ کا خیال تھا، بلکہ اُن کے علم اور اہلیت سے خوفزدہ کچھ اساتذہ باقاعدہ یہ دعائیں کررہے تھے وہ واپس نہ آئیں، پر پاکستان اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کی محبت میں وہ واپس آئے اور ایسا وقت بھی آیا بطور چیئرمین شعبہ صحافت، اس شعبے کو ایسا وقار اُنہوں نے بخشا ، صحافت کے جدید ترین رجحانات سے اس شعبے کو ایسے ہم آہنگ کیا، یہ شعبہ یونیورسٹی کے دیگر تمام شعبوں سے ممتاز حیثیت کا حامل ہوگیا، اُنہوں نے اس شعبے کو باقاعدہ ایک ”میڈیا انسٹی ٹیوٹ“ بنادیا، البتہ ایک بات کا مجھے دُکھ ہے، وہ بھی یہ دُکھ یقیناً اپنے ساتھ لے کر گئے ہوں گے اُن کا ”میڈیا یونیورسٹی “ بنانے کا خواب پورا نہیں ہوسکا، اور جو دوسرا خواب اُن کا پورا نہیں ہوسکا، وہ یہ تھا، اپنے طلبہ کی جس انداز میں اُنہوں نے تربیت کی، جس علم سے اُنہیں نوازا ، عملی صحافت میں وہ اُس کے مطابق کردار ادانہیں کرسکے، ہمارے ہاں صحافت میں جو کچھ آج کل ہورہا ہے، جس انداز میں پگڑیاں اُچھالی جاتی ہیں، لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت کی جاتی ہے، اور انفرادی واجتماعی صورت میں حکمرانوں سے جس طرح جائز ناجائز فوائد اُٹھائے جاتے ہیں، سرمغیث الدین شیخ ایسی گھٹیا صحافت کے سخت خلاف تھے، اس پر وہ کُڑھتے رہتے تھے، ....وہ خود بہت شرم وحیا والے، بہت دھیمے لہجے والے، بہت مرنجامرنج ، انتہائی شفیق اور نفیس انسان تھے، معاشرے کی مختلف بداخلاقیوں پر وہ رنجیدہ رہتے تھے، خصوصاً ریاست کے چوتھے ستون کو ہلتا ہوا گرتا ہوا دیکھ کر اُنہیں بڑا دُکھ ہوتا تھا، وہ اکثر اِس کا اظہار مجھ سے کرتے، وہ اکثر مجھ سے کہتے ”تم بہت لکھ لیتے ہو، بہت اچھا بول لیتے ہو، تمہارا کالم بھی پڑھا جاتا ہے، میرا مشورہ ہے کالم لکھنے کے ساتھ ساتھ اب تمہیں الیکٹرانک میڈیا کی طرف آنا چاہیے، اگر بطور اینکر نہیں آسکتے، مختلف ٹاک شوز میں بطور تجزیہ نگار ہی اپنی رائے کا اظہار کیا کرو“ .... میں اُن سے کہتا ” سر مجھ سے بہت بہتر لوگ اس شعبے میں موجود ہیں، میں اُن جیسی ”ریٹنگ“ نہیں لے سکتا “، میری بات سن کر مسکراتے ہوئے وہ فرماتے” یہی ہمارا المیہ ہے ہماری توجہ صرف ”ریٹنگ“ پر رہتی ہے، نہ کہ معاشرے کی اصلاح پر.... میں اُن کے ادب کی وجہ سے اُن کے سامنے زیادہ خاموش رہتا تھا، ورنہ جی بہت چاہتا تھا اُن کی خدمت میں عرض کروں ”سراب ہمیں یہ بھی دیکھنا پڑے گا معاشرہ قابل اصلاح رہا بھی ہے یا نہیں ؟“.... میرے ذہن اپنے وزیراعظم خان صاحب کا خیال ہوتا تھا، اپنی طرف سے وہ بے چارے سسٹم تبدیل کرنے آئے تھے، سسٹم نے اُنہیں تبدیل کردیا، وہ وزیراعظم بن گئے، اور اُسی طرح کے وزیراعظم بن گئے جو، اُن سے پہلے تھے، .... شکر ہے اب میری بار بار گزارش اوراصرار پر وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی زیادہ بات نہیں کرتے، یہ اصل میں ایک طرح کی منافقت تھی جس کی طرف میں اُن کی توجہ دلانے میں کامیاب ہوگیا، جس کی کابینہ اور ٹیم میں ہرطرح کی مالی و اخلاقی بداعمالیوں سے لبالب بھرے ہوئے لوگ ہوں، وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کیسے کرسکتا ہے؟، اس کے لیے سب سے پہلے اُسے خود مکمل طورپر پاک ہونا پڑے گا، پھر اپنی ٹیم اور کابینہ کو پاک کرنا پڑے گا، ....” گر، یہ نہیں باقی سب کہانیاں ہیں بابا “ .... بات اور طرف نکل گئی، سرمغیث الدین شیخ اول وآخر پاکستانی تھے، دنیا اُن کی صلاحیتوں، اُن کے علم کی قدر دان تھی ، وہ دنیا کے جس کونے میں چاہتے چلے جاتے، مال کماتے، پر اُنہوں نے علم کے چراغ روشن کرنے کے لیے پاکستان کا انتخاب شاید اس لیے کیا یہاں اندھیرا زیادہ تھا، ”عقل کے اندھے“ تو بہت ہی زیادہ تھے، اُن کی تربیت کرنی تھی،.... اُن کے کچھ چاہنے والوں کی خواہش ہے پنجابی یونیورسٹی کے لیے جتنی اُن کی خدمات ہیں اُس کی بنیاد پر پنجاب یونیورسٹی کو اُن کے نام کا سکالر شپ کرنا چاہیے، ضرور کرنا چاہیے، اِس سکالر شپ سے پنجاب یونیورسٹی اپنے ہی وقار میں اضافہ ہوگا، جوکہ بے شمار وجوہات کی بناءپر کافی عرصے سے نہیں ہورہا، بلکہ میری خواہش یہ ہوگی ”انسٹی ٹیوٹ آف کیمونیکیشن سٹڈیز“ پنجاب یونیورسٹی کا نام تبدیل کرکے ” ڈاکٹر مغیث الدین انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز“ رکھ دیا جائے، کیونکہ محدود سے شعبہ صحافت کو باقاعدہ ایک انسٹی ٹیوٹ“ میں تبدیل کرنے کا کریڈٹ سرمغیث الدین شیخ کوہی جاتا ہے، مجھے یہ سن کر اطمینان ہوا سرمغیث الدین شیخ کی نماز جنازہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے پڑھائی، تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل کرنے کے لیے بالا دوکارنامے بھی اُنہیں کرگزرنے چاہئیں،.... سرمغیث الدین شیخ کی ایک اور خوبی کا ذکر کیے بغیر میرا خیال ہے یہ کالم شاید مکمل نہیں ہوگا، وہ کمال کے مہمان نواز تھے، ایک بار اُنہوں نے اپنے گھر پر مجھے دعوت افطار دی، تب شاید کینال ویو میں انہوں نے نیا نیا گھر بنایا تھا، افطاری میں اتنی زیادہ ڈشزتھیں میں سوچ رہا تھا اب اس کے بعدکھانا نہیں ہوگا، اُس کے بعد ” کھانے “ کی کوئی گنجائش بھی نہیں تھی، پر تیسری بار جب میں نے فروٹ چاٹ جو انتہائی مزیدار تھی، پلیٹ میں ڈالی سرمغیث فرمانے لگے ”برخوردار ہاتھ روک لو، ابھی آپ نے کھانا بھی کھانا ہے“ ،....اُن کی محبت ہرقسم کی دنیاوی ملاوٹوں سے پاک تھی، وہ تعلق نبھانا جانتے تھے، وہ اتنے وضح دار تھے آپ ان سے کوئی گزارش کرکے بھول جاتے، وہ مگر نہیں بھولتے تھے، کسی سے اول تو ناراض نہیں ہوتے تھے، اور ہوتے اگلے کو بتادیا کرتے تھے، بات دل میں نہیں رکھتے تھے، منافق نہیں تھے، وہ دنیا میں نہیں رہے، یقین کریں، یوں محسوس ہوتا ہے دنیا نہیں رہی !!


ای پیپر