بحث یہ نہیں
07 جولائی 2019 2019-07-07

وطن عزیز میں ہواؤں کے بدلتے رخ کو دیکھ کر سیاسی قبلہ تبدیل کرنے کی خبر نئی ہے ناں کسی اعتراف جرم پر مبنی آڈیو ، ویڈیو کا منظر عام پر آنا کوئی بریکنگ نیوز بنتا ہے۔ پاک سر زمین ایسی سنسنی خیز داستانوں کے باب میں سر پلس واقعہ ہوا ہے۔ دنیا کی مارکیٹ میں کہیں کھپت ہو تو ایسا مال بر آمد کرکے زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا ملک بنظر عمیق دیکھنے سے بھی نہیں ملتا۔ ہماری طرح خودکشی کیلئے ، جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹتے ہوئے تالیاں بجانے کی بے جگری اور کسی قوم میں کہاں۔ بزدل دنیا ہے۔ ان کو کیا معلوم ایسے کھیل تماشوں میں کیسی ایکسائٹمنٹ ہے۔ کمال بات ہے کہ طاقت وروں کے اس دیس میں ایسے کھیلوں کے ریفری ، آرگنائزر، تخلیق کار ، فنانسر ، کوئی بھی پوشیدہ نہیں ۔ بس کھلاڑی بدل جاتے ہیں۔کھلاڑی بھی ایسے کہ حیثیت ان کی مہروں سے زیادہ نہیں ۔بیچارے سمجھتے ہیں کہ ہم جیتے ہوے کھلاڑی ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ بعد پتہ چلتا ہے کہ ہلکان وہ ہوئے اور ٹرافی کوئی اور لے گیا۔ فائدہ میں رہتے ہیں تو پنڈی والے بھائی شیخ رشید جن کہ ذمہ آج کل ریلوے کو عضو معطل بنا دینے کی ذمہ داری ہے۔اب تک دس مہینوں میں بیالیس کے قریب ریلوے حادثات کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ جس انجن کو ہاتھ لگاتے ہیں اس کی جان نکل جاتی ہے۔ موصوف کا دعوی ہے کہ آٹھ مرتبہ وزارتوں پر فائز رہے ہیں۔ جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آے ، جس وزارت میں گئے۔ پھر اس کی کمر سیدھی نہئں ہوئی۔ہفتہ کے روز بڑے طمطراق سے بولے ابھی سینتیس ارکان صوبائی اسمبلی کا فارورڈ بلاک بننے والا ہے۔ یہ بھی انکشاف فرمایا کہ قومی اسمبلی میں ابھی گنتی پوری نہیں ہوئی۔ موصوف درشنی پہلوان ہیں۔ ایک مرتبہ جیل گئے تو بہاولپور سے روزانہ چند کلو برف کیلئے جنرل ر نصیر اللہ بابر کو عریضے بھیجتے تھے۔ کبھی پنکھے کیلئے ترلے اور کبھی پسندیدہ کھانے کی غرض سے سفارشیں۔ خیر انسان کمزور مخلوق ہے۔ ٹارزن ہونے کے دعوے نہیں کرنے چاہئیے۔ان کا دعوی درست ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ فارورڈ بلاک بن چکا ہو۔ انوکھی بات کیا ہے۔ ماضی میں تو ارکان اسمبلی ایک انگلی کے اشارے پر راتوں رات سیاسی منزل بدل لیتے تھے۔ ایک آدھ موقع اور آیا تو شیخ صاحب بھی چھ پارٹیاں بدلنے کے اعزاز یافتہ ہوجائیں گے۔ماضی میں بھی چھانگا مانگا برپا ہوا۔ عوامی نمائندوں نے اپنی قیمتیں لگائیں۔ کوئی جائے اور تحقیق کرے۔ ان میں سے کتنوں کے نام بھی مٹ گئے۔ کتنے ہیں جن کو دوبارہ اسمبلی کی رکنیت نصیب ہوئی۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ دونوں نے بولیاں لگائیں۔ غلام حیدر وائیں ایسے سچے اور کھرے سیاسی کارکن کی صوبائی حکومت کو راتوں رات ختم کر دیا گیا۔ پرویز مشرف نے حرص و طمع کا بازار سجایا۔ دھونس دھاندلی۔ دباؤ کا ہتھیار استعمال کر کے ق لیگ بنائی۔ عوام کے انتقام اور غضب کا پہلا شکار ق لیگ کے سربراہ میاں اظہر ہوئے۔ اس شکست کے بعد میاں اظہر نے وزارت عظمی کا خواب دیکھنا چھوڑ دیا۔ ق لیگ نے کئی روپ بدلے۔ کبھی یونفکیشن گروپ اور کبھی فارورڈ بلاک۔ پیپلز پارٹی سے پیٹریاٹس نکلے اور پھر ہمیشہ کیلئے مٹ گئے۔مسلم لیگ ن پھر اقتدار میں آئی تو ایک مرتبہ پھر وہی غلطی دہرائی اور قابل انتخاب لوٹوں کو ٹکٹ دی۔ آج مسلم لیگ ن پھر ان لوٹوں کے ہاتھوں زخم کھانے کیلئے تیار بیٹھی ہے۔ اور نیا پاکستان کے معمار اس لوٹا کریسی کو اپنی فتح سمجھ بیٹھے ہیں۔

ویڈیو کہانیاں ہوں یاگھوڑوں کے اصطبل کھلنے کی خبریں۔ کچھ بھی نیا نہیں ۔ جونیجو کی اسمبلی ٹوٹی۔ سپریم کورٹ کا بنچ اسمبلی کی بحالی کیلئے تیار تھا کہ ایک ہر کارہ آیا اور وہ فیصلہ رک گیا۔ لیکن راز کبھی را ز نہیں رہتا۔ وہ پیغام رساں بول پڑا۔ قاصد اس وقت کا چیئر مین سینٹ تھا۔۔نواز شریف سیاسی انتقام کی گرفت میں تھا۔ لہٰذا سیف الرحمان کو طاقتور عہدہ دیا ججوں پر دباؤ ڈال کر فیصلے لینے کی سازش کی۔ وقت گزار تو وہ آڈیو کیسٹ بے نقاب ہوئی۔ جھوٹ بے نقاب ہوا۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے۔ احتساب کے ادارے کے سربراہ کا دانشور سے انٹرویو منظر عام پر آیا۔ تردید ہوگئی۔ لیکن کب تک۔ پھر ایک ویڈیو مارکیٹ میں آئی۔جس نے احتسابی عمل کو ننگا کردیا۔ طاقتور ہاتھوں نے مہرے کو بچا لیا۔ اب احتساب عروج پر ہے لیکن ساکھ کوئی نہیں ۔ ایسی ہی ویڈیو آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی۔ بحث یہ نہیں کہ مریم نواز سچی ہے یا جھوٹی ہے۔ یہ بھی نہیں کہ ویڈیو کا کردار قاتل ہے مجرم۔ یہ بھی ایشونہیں کہ ویڈیو کیسے بنی۔ اصل ایشو اس کا مواد ہے۔جس کا فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ ورنہ جیت مریم نواز کی ہوگی۔ لوٹا کریسی ہو یا ویڈیو مہم جوئی۔ یہ سب پرانے پاکستان کی نشانیاں ہیں۔ نئے پاکستان والوں نے اپنے آپ کو کلیئر نہ کرایا تو وہ ہار جائیں گے اور ان کے سیاسی حریف فاتح۔


ای پیپر