بات 15 لیگی لوٹوں سے چلی
07 جولائی 2019 2019-07-07

بات ن لیگ کے 15 لوٹوں سے چلی اور 15 کروڑ کی ہیروئن تک ہوتی ہوئی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری تک جا پہنچی، بقول فانی بدایونی

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا

بات پہنچی تیری جوانی تک

رانا ثناء اللہ نے عام زندگی میں شاید ہی کسی اتنی بھاری بھرکم (15 کروڑ مالیت کی) ہیروئن کو دیکھا ہو، مگر اے این ایف کا بھلا ہو جنہوں نے رانا صاحب کو ڈھلتی عمر میں اتنی مہنگی ہیروئن دکھا دی۔ کمال ہے گود میں بچہ شہر میں ڈھنڈورا، ہیروئن بیگ میں بیگ گاڑی کی ڈگی میں اور رانا صاحب کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ ما شاء اللہ زندگی بھر سیاست کے میدان میں اپنے جوہر دکھانے اور تین عشروں تک مخالفین کو ناکوں چنے چبوانے والے اتنے معصوم اور بھلے مانس کیسے ہوگئے کہ ناکے پر رکتے ہی انہوں نے بتا دیا کہ ڈگی میں بیگ اور بیگ میں ہیروئن ہے۔ بہت کچھ طے ہوناباقی ہے کہ وہ ن لیگ کے اجلاس میں شرکت کے لیے آرہے تھے یا ہیروئن سپلائی کرنے گھر سے نکلے تھے لیکن سیانے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سارا قصور ان 15 ن لیگی ارکان اسمبلی کا ہے جنہوں نے یونس انصاری کے کہنے پر وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ رانا ثناء اللہ ان لیگی ارکان پر تنقید کرتے نہ ہیروئن کے چکر میں پڑ کر گرفتار ہوتے، بظاہر کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر وہ جو کسی نے کہا تھا نا کہ

مگس کو باغ میں جانے نہ دینا

کہ نا حق خون پروانے کا ہوگا

واقعات کا ایک تسلسل ہے مگس کو باغ میں جانے سے پروانے کے خون ناحق تک ایک سال کا عرصہ لگا ہے۔ جو بولے وہی کنڈی کھولے، بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے سارے کس بل نکل گئے چار آدمی سہارا دے کر احتساب عدالت لائے عدالت نے بھی 15 دن کا ریمانڈ دے دیا کسی نے پوچھا کہ ہوش میں کب تھے اب کب آئو گے آئندہ 15 دنوں میں بہت کچھ ثابت ہوچکا ہوگا۔ جنہوں نے نکیل ڈالی ہے ان کے پاس بہت سے ثبوت ہوں گے۔ رانا صاحب کے پاس کیا ثبوت ہے کہ بیگ میں دو جوڑے کپڑے تھے بال اور مونچھیں رنگنے کا سامان تھا۔ ہیروئن کہاں سے آگئی؟ مگر انہوں نے تو ابھی تک کچھ کہا نہیں، ذرا سی دیر کو آنکھ کھلی تھی بولے ’’ظلم کی حکومت زیادہ دیرنہیں چلے گی۔ یہ کہا اور پھر آنکھیں موندھ لیں۔ جسٹس وجیہہ الدین ’’گوواں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں۔‘‘ نے قابل غور تبصرہ کیا کہ رانا ثناء اللہ اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے اپنے ساتھ ہیروئن کیوں لے کر گئے۔ معاف کیجیے یہ تسلیم کرنا ذرا مشکل ہے کہ وہ 15 کروڑ کی ہیروئن ساتھ لیے گھومتے پھریں گے کہانی پرانی اسکرپٹ نیا، سابق وزیر داخلہ تھے ڈائریکٹر ان کے اپنے ہی ہوں گے۔ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔ ان ہی بازوئوں سے وہ آصف زرداری اور دیگر بہت سے مخالفین کو قابو کرنے میں مدد لے چکے ہوں گے۔ رانا صاحب عرصہ تک پیپلز پارٹی کے جیالے رہے پتا نہیں انہیں یاد ہے یا نہیں کہ 1970ء کی دہائی میں بر صغیر کے مشہور پنجابی شاعر استاد دامن کا بڑا چرچا تھا ان کی ایک طویل نظم ’’کی کری جانا ایں کی کری جانا ایں‘‘ زباں زد عام ہوئی حکم ہوا اس گستاخ کی زبان بند کرو، دوسرے روز ان کی کھولی سے بم برآمد ہوگیا۔ استاد جیل پہنچا دیے گئے لوگوں کو یقین نہ آیا چالیس سال بعد بھی نہیں آیا ایسے مقدمات ناقابل یقین ہوتے ہیں لیکن قبر کھود کر مردہ تلاش کرنے والے ہڈیوں سے مردے کی شناخت کرلیتے ہیں۔ اصغر خان اور چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس اور مرغی چوری کے مقدمات ہماری بد قسمت تاریخ کا حصہ ہیں ،آصف زرداری نے کھلے عام بتایا کہ میرے خلاف بھی منشیات کا کیس بنا تھا برآمدگی نہیں ہوئی تھی۔ مگر کیس سے باہر نکلنے میں 5 سال لگ گئے رانا کے کیس میں تو برآمدگی بھی ہوگئی، بقول آصف زرداری منشیات کی اسمگلنگ کی سزا موت یہاں کیا ہوگا؟ موت مقدر ہے تو کون روک سکتا ہے۔ لیکن باہر نکلنے میں وہی پانچ سال لگ سکتے ہیں، حنیف عباسی سے ہی سبق حاصل کرلیا جاتا۔ بڑھ چڑ کر بولا کرتے تھے۔ شیخ رشید کی ضمانت ضبط کرانے کی باتیں راس نہ آسکیں، ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا ہوئی۔ قسمت اچھی تھی کہ ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کردیا۔ شیخ رشید پھولے نہ سمائے (ماشاء اللہ پہلے سے دگنے ہوگئے ہیں) کہ ایک موثر مخالف آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دب گئی۔ حنیف عباسی اتنے خوفزدہ ہوئے کہ انہیں چپ لگ گئی۔ رانا ثناء اللہ کو سوچ سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اس وقت فیصل آبادی جگتیں اور بڑھکیں کام آئیں گی یا نہیں، قیادت تا حیات نا اہل ہو کر جیل میں پڑی ہے۔ سیکنڈ ان کمانڈ حتیٰ کہ تیسری صف کے لیڈر زیر عتاب ہیں ہر ہفتہ دس دن میں طلبی تفتیش سے انویسٹی گیشن انویسٹی گیشن سے گرفتاری، گرفتاری کے بعد ریمانڈ اور ریمانڈ کے بعد جیل کتنے مراحل طے کرنے پڑ رہے ہیں۔ رانا صاحب بے نقط سنا رہے تھے۔ سننے والوں کو احساس تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ جس کے ساتھ ہونے والا تھا کمال ہے اسے احساس ہی نہیں ہوا پتا نہیں وہ مقدمہ جیتیں گے یا نہیں لیکن ان کے لیے یہ سب کچھ نیا نہیں، مشرف دور میں حکومت پر تنقید کرنے پر چند نقاب پوشوں نے انہیں اغوا کیا۔ اذیتیں دیں لوہے کی راڈیں برسائیں اور ہاتھ پائوں باندھ کر موٹر وے پر پھینک گئے۔ جنہوں نے اغوا کیا تھا سب چہرے جانے پہچانے تھے اب بھی وہی ہوں گے اتنی جلدی ریٹائر نہیں ہوتے کہانی 15 لیگی ارکان سے شروع ہو کر رانا صاحب پر ختم ہوئی ہے ارکان کی ملاقاتوں پر ناراض ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ کہنے لگے ن لیگ نظریاتی پارٹی ہے اور نظریہ سے انحراف جرم ہے۔ سیانے نے کہنے والے کو ٹوک دیا کہ ملک میں کوئی نظریاتی پارٹی نہیں قومیتیں ہیں قوم نہیں، پارٹیاں ہیں نظریات نہیں سب وقت کی پیداوار ہیں۔ جنہیں ضرورت کے تحت اقتدار میں لایا جاتا ہے اقتدار ملک کو نہیں پارٹی کو مضبوط کرتا ہے۔ اقتدار سے محروم ہوتے ہی پارٹی بھی تنکوں کی طرح بکھر جاتی ہے۔ مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کی مثال سامنے ہے پیپلز پارٹی مضبوط ترین جماعت جس کے پاس کم یا زیادہ سہی افرادی قوت موجود ہے۔ لیکن مشرف دور میں اس کے گیارہ ارکان رسیاں تڑا کر بھاگ نکلے۔ ن لیگ تین بار اقتدار میں رہی لیکن دو درجن وفاداروں سے زیادہ لیڈر پروڈیوس نہ کرسکی۔ باقی سارے بھگوڑے موسمیاتی پرندے، موسم بدلتے ہی نقل مکانی کو ترجیح دینے کے قائل، پرویز رشید اور رانا ثناء اللہ پیپلز پارٹی سے ن لیگ میں آئے، تھک گئے ہوں گے اس لیے یو ٹرن کی ہمت نہیں کر پائے ورنہ کتنوں نے نواز شریف کے سینے پر زخم لگائے، مونگ دلے، جاوید ہاشمی کی مثال سامنے ہے، گھوم پھر رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں، نواز شریف کا سینہ اوپن ہارٹ سرجری کے لیے کھل چکاہے۔ ورنہ وہ اپنوں کے لگائے ان زخموں کی نشاندہی کرتے، ن لیگی الیکٹیبلز نے یہ کہتے ہوئے وقت آنے پر دوڑیں لگا دیں کہ

دوستی، عشق، وفا، پیار، محبت، عزت

قیمتی چیزوں کا بازار نہیں ہوتا کیا؟

نواز شریف اپنے تینوں ادوار میں پارٹی کی تنظیم پر توجہ نہ دے سکے سڑکیں بناتے رہے لیکن وقت آنے پر حمایت کرنے اور سڑکوں پر لیٹ کر راستہ روکنے والے ارکان کی تعداد نہ بڑھا سکے۔ سو دوسو بندے تو گلی محلے میں جمع ہوجاتے ہیں۔ ووٹ دینے والے ڈیڑھ کروڑ افراد کہاں گئے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر کتنے لوگوں نے احتجاج کیا۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے۔ دو درجن لوگ تھے باقی کہاں ہیں؟ نہیں ہیں تو کس برتے پر مخالف سیاست کی جا رہی ہے؟ 15 لیگی ارکان کی دوڑیں ابتدا ہے مزید بھاگنے کے لیے پیڈ باندھ رہے ہیں۔ بیانات کے گولے داغنے سے کچھ وقت بچا کر تنظیمی معاملات پر بھی توجہ دی جائے۔اسلام آباد میںچند سو نہیں لاکھوںافراد کہاں سے آئیں گے؟


ای پیپر