شہید ہم سے یہ کہہ رہے ہیں لہو ہمارا بھلا نہ دینا
07 جولائی 2019 2019-07-07

آٹھ جولائی کشمیرکی تاریخ کا وہ دن ہے کہ جب بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز، پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف نے مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے برہان مظفر وانی اور اس کے دو ساتھیوں کو شہید کر دیا۔ بارود لگا کر مکان کو اڑاتے ہوئے بھارتی فورسز اہلکاروں کے بھی شاید وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ان شہادتوں کے بعد پورے کشمیر میں وہ آگ لگے کی کہ جسے بجھانا پھر ان کے بس میں نہیں رہے گا۔ شہادت کے بعد برہان کا جسد خاکی جب پلوامہ کے ترال علاقہ میں لیجایا گیا تو زبردست احتجاج شروع ہوا اور پھر پورا کشمیر جل اٹھا۔لاکھوں کشمیر ی سڑکوں پر نکلے اور کئی مرتبہ شہداء کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی یوں تو ستر برس سے جاری ہے لیکن وانی کی شہادت کے بعد تحریک کوزبردست عروج پر ملا۔ آج تین سال بیت گئے۔ سینکڑوں مزید کشمیری شہید ہزاروں زخمی کر دیے گئے۔ بھارتی فوج نے پیلٹ گن جیسے متنازعہ ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں معصوم کشمیری بچوں، بچیوں اور نوجوانوں کی بینائی چھین لی۔ کشمیری تاجروں کا کاروبار چھین کر اربوں روپے مالیت کانقصان پہنچایا گیا۔ ان کی املاک تباہ کی گئیں۔ گھروں ،دکانوں ،مارکیٹوں اور فصلوں و باغات کو آگ لگائی گئی۔ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ پوری حریت قیادت نظربند ہے۔ سنگبازوں کیخلاف آپریشن کے نام پر جگہ جگہ سرچ آپریشن کے ذریعہ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے۔ بھارتی فوج جہاں چاہتی ہے گھروں کو بارود سے اڑا رہی ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ حریت میں کسی قسم کی کمزوری واقع نہیں ہوئی۔ بھارت کے اس ظلم کے خلا ف کشمیر جنت نظیر کے چپے چپے پر آزادی کے نعرے لگ رہے ہیںاور جموں کشمیر کی ہر گلی محلے میں پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ،کشمیر بنے گا پاکستان ، ہم کیا چاہتے آزادی کے نعرے گونج رہے ہیں۔بھارتی فوج جب چاہتی کسی کشمیری نوجوان کو مجاہد کہہ کر شہید کر دیتی ہے۔ آفرین ہے ان مائوں پر جو بیٹوں کی شہادت پر آنسو بہانے کی بجائے مٹھائیاں تقسیم کرتی ہیں۔آفرین ہے ان بہنوں پر جو اپنے بھائی کی شہادت پرماتم کی بجائے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوا کر کشمیریوں کو حوصلہ اور پاکستان کو پیغام دیتی ہیں۔آفرین ہے ان بیٹوں پر جو تکیمل پاکستان کے لئے ،آزادی کشمیر کے لئے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں اور قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ایک کے بعد دوسرا بیٹا شہیدہو رہا ہے مگرکشمیری میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں ۔

برہان مظفر وانی کی عمر محض پندرہ برس تھی جب اس نے تحریک آزادی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ ایک سکول پرنسپل کا بیٹا اور شاندارتعلیمی ریکارڈ رکھتا تھا۔ جب اس نے عسکریت کاراستہ اختیا رکیا تو اس فیلڈ میں بھی وہ نوجوانوں کیلئے رول ماڈل بن کر ابھرا۔ سوشل میڈیا پر اس کے پیغامات اور ویڈیوز آنا شروع ہوئے تو نوجوان تیزی سے تحریک میں شمولیت اختیار کرنے لگے۔ اس کے دل و دماغ میں بھارتی فورسز سے انتقام کی چنگاری اس وقت بھڑکی جب اس کے بڑے بھائی خالد وانی گھر سے کسی کام کیلئے نکلے تو بھارتی فوج نے انہیں بلاوجہ حراست میں لیا اور پھر ایک جعلی مقابلہ میں شہید کر دیا ۔برہان کے والد مظفر وانی نے کچھ عرصہ قبل ہندوستان ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا بیٹا صرف اس لیے عسکریت پسند نہیں بنا تھا کہ اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس نے اس لیے ہتھیار اٹھائے کہ اس نے ہندوستانی فوج کو دیگر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان سے آزادی حاصل کرنا صرف اس کا ہی نصب العین نہیں تھا بلکہ یہ ہر کشمیری کا مطالبہ ہے، یہاں تک کہ میرا بھی۔ حزب المجاہدین کے 21 سالہ کمانڈر برہان مظفر وانی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو ہندوستان کے خلاف مسلح جدوجہد کا حصہ بننے کی دعوت دی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کشمیر کی کسی عسکری تنظیم کی جانب سے باقاعدہ طور پر نوجوانوں کو عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے کی اپیل کی گئی۔کشمیری نوجوان کے نزدیک برہان وانی حریت پسند اورایک ہیرو تھے، جبکہ ہندوستانی فورسز کا دعویٰ تھا کہ وہ ریاست میں ہونے والے متعدد حملوں میں ملوث ہیں۔برہان وانی نے سوشل میڈیا کا استعمال اس بھرپور انداز میں کیا کہ بھارتی فوج کے ہوش اڑا دیے اور اکیس سالہ کمانڈر کے حوالہ سے کسی قسم کی اطلاع دینے والے کو دس لاکھ روپے انعام دینے کااعلان کر دیا۔ وقت یونہی گزر رہا تھا ، نوجوانوں میں عسکریت پسندی مقبول ہو رہی تھی کہ بھارتی فورسز نے ریاستی مشینری اور طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے برہان کو شہید کر دیا۔ بھارتی فوج کشمیر سے عسکری پسندی ختم کرنا چاہتی ہے تاہم اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کشمیر کے گلی کوچوں میں لاکھوں برہان وانی پیدا ہو چکے ہیں۔کشمیر میں پیلٹ متاثرہ زخمیوں کی ایسی تصاویر سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر قلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کمانڈر ابوالقاسم اور برہان کی شہادت کے بعد سبزار بھٹ، جنید متو اور بشیر لشکری جیسے عظیم کمانڈر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں جس سے تحریک کو ایک نئی قوت ملی ہے۔ پورا کشمیر بھارتی ریاستی دہشت گردی کیخلاف سراپا احتجاج ہے۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کشمیر میں احتجاجی مظاہرے نہ ہوئے ہوں۔ کشمیری مسلمان پاکستان کو اپنا سب سے بڑا وکیل سمجھتے ہیں اور سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں ۔ تحریک آزادی دن بدن مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔ کشمیر کے گلی کوچوں میں ہر طرف پاکستانی پرچم لہراتے دکھائی دیتے ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ بھارتی جرنیل اور عسکری ماہرین جنت ارضی کشمیر کے بھارت کے ہاتھ سے نکلنے کی باتیں کرنے پر مجبور ہیں۔ پور ے کشمیر میں ہر طرف پاکستان سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال پوری دنیا کے سامنے ریفرنڈم ہے کہ کشمیری کسی صورت بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ۔انکی نظریں پاکستان کی طرف ہیںوہ پاکستان کو مدینہ ثانی سمجھتے ہیں۔ انکی گھڑیوں کے اوقات پاکستان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں،برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہوجس دن کشمیریوں نے پاکستان کا پرچم نہ لہرایا ہو۔بھارتی فوج کے کارندوں کو سبز ہلالی پرچم لہرانے والے نوجوانوں کو خصوصی نشانہ بنانے کے احکامات دیئے جاتے ہیں۔کشمیریوں نے پاکستانی پرچم لہرانے کے جرم میں بڑی تعداد میں شہادتیں بھی پیش کی ہیں لیکن اس کے باوجود انہوںنے غاصب بھارتی فوج اور حکومت کے سامنے جھکنا گوارا نہیں کیا۔ کشمیری قیادت اور عوام نے قربانیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کا سب سے بڑا وکیل ہے ،کشمیری پاکستان کی خاطر جانیں قربان کر رہے ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں میں حکومت پاکستان نے کشمیر کے حوالہ سے مضبوط کردار ادا نہیں کیا۔ بھارتی فورسز اہلکار کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے کشمیریوں کی نئی نسل کو اپاہج بنا رہے ہیں لیکن اقوام متحدہ اورسلامتی کونسل جیسے اداروں نے بھی مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور پاکستانی حکمران بھی کشمیر کامقدمہ دنیا کے سامنے صحیح انداز میں پیش نہیں کر رہے۔ ماضی میں ہندوستان کی جارحانہ پالیسیوں کے مقابلہ میں موجود ہ حکومت کی طرف سے فدویانہ رویہ اختیا رکیا گیاجس سے تحریک آزادی کونقصان اور کشمیریوں کا اعتمادمجروح ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت کشمیرکے تازہ ترین حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کشمیری و پاکستانی قوم کے جذبات کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرے۔ کشمیریوں کے حق میں ایک دوبیانات دے دینا کافی نہیں ہے۔انہیں اپنی پالیسیوں کی اصلاح کرنی چاہیے ، دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرتے ہوئے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کشمیریوں کی پشتیبانی کا حق ادا کرنا چاہیے۔اسی سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور زیادہ مضبوط ہو گی اور غاصب بھارت کے ظلم و استبداد سے نجات مل سکے گی۔


ای پیپر