حکومتی طرزِ عمل اور چیئرمین سینٹ کا قصور
07 جولائی 2019 2019-07-07

احتساب کے نام پر ملک میں پکڑ دھکڑ جاری ہے جاری پکڑدھکڑ کا زیادہ شکار سابق حکمران جماعتوں کی قیادت ہے کئی برسوں بعد نواز شریف سمیت آصف زرداری ملکی سیاست کے نقشے سے اوجھل جیل میں وقت گزار رہے ہیں جس کا حکومت کے لیے مثبت پہلو یہ ہے کہ فوری طور پر کسی تحریک کا خدشہ نہیں اورمضبوط اپوزیشن اتحاد کے دبائو کا شکار حکومت کو سکون مل گیا ہے ہمارے ہاں سیاسی عدمِ استحکام نئی بات نہیں جو بھی حکومت سے باہر ہوتا ہے وہ حکومت میں آنے کے لیے ہاتھ پائوں مارنا شروع کر دیتا ہے مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ جو حکومت میں آتا ہے وہ بھی کچھ کرنے کی بجائے ساراملبہ سابق حکمرانوں پر ڈال کر وقت گزارنے کی کوشش کرتا ہے کیا اب بھی ویسا ہی ہو رہا ہے یا کچھ مختلف ہے ؟ ابھی تو احتساب کے شوروغوغے سے کوئی بات صاف سنائی نہیں دیتی ڈروخوف کی فضا ہے سیاسی لوگ سہمے نظر آتے ہیں لیکن ہراس کی فضا سے بیوروکریسی بھی متاثر ہے جو خوف کی وجہ سے ٹھیک کام بھی کرنے کو تیار نہیں اور سبھی بیوروکریٹ کوشش یہی کرتے ہیں کہ کام کرنے کی بجائے فیصلوں کو التوا میں ڈال دیا جائے تاکہ آنے والے کل کسی پوچھ تاچھ کا خدشہ نہ رہے مگر اِس سوچ کا نتیجہ ہے کہ اب کسی کا جائز کام بھی کم ہوتا ہے گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اسی طرف توجہ مبذول کرائی تھی کہ حکومت سے تقریر کرانی ہو تو کرا لیں کام نہیں یہ سوچ اور طرز عمل بدلنے کی ضرورت ہے وگرنہ لوگوں کی برداشت ختم ہو سکتی ہے اور سیاسی عدمِ استحکام جنم لے سکتا ہے ۔

یہ درست ہے کہ ملک پر زیادہ تر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حکمرانی رہی ہے ظاہر ہے ملک کی خراب معاشی صورتحال اور لوٹ مار کا حساب انھی سے ہونا چاہیے اور اختیاربیوروکریسی کے پاس ہوتا ہے کرپشن کِس نے اور کیسے کی؟ نیز چند خاندانوںکے اثاثے سینکڑوں گُنا اچانک کیسے بڑھے ؟جیسے سوالوں کے جواب میں بیوروکریسی مددگار ہو سکتی ہے مگر بیک وقت سارے محاز کھولنا دانشمندی نہیں اگر حکومت کچھ بہتری لانے میں مخلص ہے تو اُسے معاشی زوال کے تدارک کے لیے خوف وہراس کی فضا کا خاتمہ کرنا ہوگا اور کرپشن روکنے ،کرپٹ لوگوں کی نشاندہی کے لیے سب کو چور سمجھنے کی بجائے کسی پر بھروسہ کرنا ہو گا پکڑو ،جکڑواور کردارکُشی اچھی روش نہیں نہ ہی اس طرح بہتری لائی جا سکتی ہے لوگوں نے موجودہ حکومت سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں ابھی تووہ انتظار میں ہیں اور حکومت کو کارکردگی دکھانے کا موقع دے رہے ہیں لیکن ایسا زیادہ دیر رہنا ممکن نہیں ۔

صاحبانِ اقتدار کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ صادق سنجرانی کا قصور یہ بھی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کی تائید سے چیئرمین منتخب ہوئے مگر اب تائید کرنے والوں کے ایجنڈے پر چلنے کی بجائے حکومت سے تعلقاتِ کار استوار کر چکے ہیں جس کا اپوزیشن کو صدمہ ہے کیونکہ اُس کا خیال تھا کہ عام انتخابات میں اگر شکست ہو بھی گئی تو چیئرمین سینٹ ا پنا ہونے کی صورت میں حکومت کو تنگ کرنے کا ہتھیار پاس رہے گا اور وہ جب چاہے گی حکومت سے شرائط منوانے کی پوزیشن میں ہوگی لیکن ایسا نہیں ہورہابلکہ صادق سنجرانی نے ابتدا میں متوازن پالیسی پر چلنے کی کوشش کی جو آہستہ آہستہ حکومت کے حق میں ہوتی گئی اب حالات اِس نہج پر آگئے ہیں کہ حکومت جو چاہتی ہے چیئرمین سینٹ وہی کرتے ہیں جس کا حل حزبِ مخالف نے یہ سوچا ہے کہ چیئرمین سینٹ کے منصب پر ایسا بندہ لایا جائے جو حکومت کی ایما پر چلنے کی بجائے اپوزیشن کی منشا کے مطابق چلے جس کی وجوہات کئی ہیں ایک بڑی وجہ پکڑ دھکڑ سے حکومت کو باز رکھنا ہے اور احتسابی کاروائیوں کے دوران اپوزیشن رہنمائوں پر ہاتھ نہ ڈالنے کی یقین دہانی حاصل کرنا ہے کیونکہ صادق سنجرانی کی موجودگی میں حکومت کو ٹف ٹائم اور اپوزیشن کو سہولت ملے موجودہ صورت میںممکن نہیںا یسا لگتا ہے کہ رضا ربانی کو نظر انداز کرکے سنجرانی کو فوقیت دینے والے اب پچھتاوے کا شکار ہیں ۔

تین مارچ 2018کوبلوچستان میں سینٹ انتخابات کا قلعہ آصف زرداری کی ہدایت پر قیوم سومرو نے فتح کیا آجکل تو مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر زرداری خاندان حکومت پر دبائو ڈال رہا ہے مگر تلخ سچ یہ ہے کہ بلو چستان میں نواز لیگ کی اکثریت ختم کرنے میں مرکزی کردار آصف زرداری نے ہی ادا کیا دولت کی چمک دمک سے ممبرانِ اسمبلی کی خریدوفروخت کی گئی جس کی بنا پر اکثریتی جماعت نواز لیگ کا بلوچستان سے ایک امیدوار بھی کا میاب نہ ہو سکا اِ س کارنامے کا زرداری جلسوں میں فخریہ زکر کرتے رہے اب صورتحال بدل گئی ہے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے کے مصداق منتخب کرانے والے عدمِ اعتماد لانے پر تُلے بیٹھے ہیں۔

اِس حقیقت کو جُھٹلاناممکن نہیںکہ حکومتی اتحاد کے ممبرانِ سینٹ کے بل بوتے پر صادق سنجرانی کا چیئرمین سینٹ رہنا ممکن نہیں کیونکہ اتحاد کے ممبران سے حزبِ مخالف کی تعداد زیادہ ہے ایک اہم اتحادی اختر مینگل اکثر خفگی کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں جو کب کہاں ہوں گے اِس بات کا نہ اپوزیشن کو کچھ پتہ ہوتا ہے نہ ہی حکومت آگاہ ہوتی ہے سینٹ کے اکھاڑے میں حکومت کمزور پوزیشن پر ہے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے 9جولائی کو عدمِ اعتماد جمع کرانے کا علان بھی کر دیا ہے جس کا توڑ حکومت نہیں کرتی تودیگر مشکلات کا شکار ہونے کے ساتھ اپنے ایجنڈے کی تکمیل سے بھی قاصر رہے گی حزبِ اقتدار کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ چیئرمین سینٹ کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک کا علان کرنے کے باوجود اپوزیشن کسی ایک امیدوار پر متفق نہیں بلکہ امیدوار کی نامزدگی گیارہ جولائی تک ملتوی کر دی ہے جس کا مطلب ہے کہ سبھی کی الگ الگ رائے ہے 9 جماعتوں کا نامزدگی پر اختلاف ہے لیکن یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی احتساب کے شکنجے سے نکلنے کے لیے بڑی پارٹیاں قربانی دے کر اتفاق کی راہ نکال سکتی ہیں اگر چیئرمین سینٹ اپوزیشن کاکوئی سخت مزاج رہنما منتخب ہو جاتا ہے تو حکومت کو نہ صرف من مانی کرنے سے روکا جا سکتا ہے بلکہ احتساب کا عمل موقوف کرانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ساتھ ہی حکومت کی کمزور گرفت کا تاثر پیدا ہوگا سیاسی استحکام کا تاثر زائل ہوگا بیوروکریسی مزید بے لگا م ہونے کے ساتھ حکومتی احکامات کی تکمیل کی رفتار مزید سُست کر دے گی۔


ای پیپر