جانا تھا جدھر تجھ کو اُدھر کیوں نہیں جاتا
07 جولائی 2019 2019-07-07

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریاست اپنے شہریوں کو تعلیم، صحت اور انصاف مفت فراہم کرتی مگر اس نے ابھی تک ان کی جانب توجہ نہیں دی لہٰذا اب حالت یہ ہے کہ کوئی غریب کا بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کی پہنچ سے دور ہے، صحت کی تمام سہولتیں بھی اسے میسر نہیں اور انصاف تو اس سے کوسوں دُور نظر آتا ہے۔ بات سوچنے کی ہے کہ ریاست کیا کر رہی ہے یہی کہ آئے روز عوام پر ٹیکس لگاتی جائے اور خزانہ بھرتی جائے مگر جب انہیں بنیادی حقوق دینے کی بات ہو تو اس سے رخ پھیرلے۔

وہ روبوٹ نہیں جیتے جاگتے انسان ہیں ان کے جذبات و احساسات ہیں ان کی ضروریات ہیں جن کا خیال رکھا جانا ضروری ہے مگر افسوس کہ یہ پہلو ہمیشہ سے نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ اب لوگوں میں اس ’’حسن سلوک‘‘ کی وجہ سے غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ طویل عرصہ ہو چکا مگر انہیں در پیش مسائل و مشکلات سے نجات نہیں مل سکی۔

بہرحال مذکورہ تینوں شعبے عوام کی دسترس سے باہر ہونے سے ان میں مایوسی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے کہ جب انہیں اچھی صحت، اچھی تعلیم اور شفاف ، آسان و سہل انصاف نہیں ملتے تو ان میں خوشی کی لہر کیسے آئے۔ اب ذرا دیکھیے امیروں کے بچے ملک کے اندر مثالی درسگاہوں میں زیر تعلیم ہیں وہاں سے فارغ ہوں گے تو مغربی درسگاہوں میں جا پہنچیں گے۔ مگر غریبوں کے لائق و ذہین بچوں کو ایسا کوئی موقع نہیں ملتا اور جب انہیں اعلیٰ تعلیم ہی نہیں میسر آتی تو وہ ملک کے بڑے عہدوں پر بھی فائز نہیں ہو سکتے۔ یوں ان کے ساتھ ہر طرح سے ناانصافی ہو رہی ہے اور یہ دانستہ ہے کیونکہ اشرافیہ انہیں جاہل اور بے اختیار دیکھنا چاہتی ہے۔ صحت کے معاملے میں بھی عام آدمی کو جدید اور بہتر علاج معالجے سے محروم رکھا جاتا ہے… سرکاری شفا خانے اسے سہولیات دینے سے قاصر ہیں۔ جس کسی کے پاس پیسے ہیں وہ مہنگے طبی معائنے بھی کرا سکتا ہے اور مہنگی دوائیں بھی خرید سکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت اس حوالے سے تھوڑا بہت کچھ کر بھی رہی ہے مگر اس کی صحت سکیم سے چند خاندان یا چند افراد ہی مستفید ہوں گے جبکہ ہر شہری کو بلا معاوضہ صحت پروگرام سے مستفید ہونے کا موقع ملنا چاہیے مگر نہیں کوئی ایسا قانون و بل پارلیمنٹ میں نہیں لایا جاتا … باہمی جھگڑوں سے متعلق شور مچایا جاتا ہے اصل مسائل سے پہلو تہی کی جاتی ہے… لہٰذا ریاست و حکومت کی عدم توجہی کی بنا پر جگہ جگہ نجی تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں۔ اسی طرح نجی ہسپتال بھی معرض وجود میں آ گئے ہیں جو آہیں بھرتے لوگوں کی آہوں میں مزید اضافہ کر رہے ہیں اور معیار تب بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ جس سے سماجی ڈھانچہ بدحال ہے ایک خوفناک بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے رہی سہی کسر بجٹ دو ہزار انیس بیس نے پوری کر دی ہے… مگر حیرانی یہ ہے کہ عوامی حلقوں میں حکومت مخالف جذبات تو ابھر رہے ہیں مگر سڑکوں پر آنے کے لیے ابھی تک کہیں سے کوئی صدا بلند نہیں ہو رہی شاید اس لیے کہ کوئی آس بھی ہے زندگی میں بہار آنے کی۔ خیر چند بڑے لوگ جو کاروبار وتجارت پر حاوی ہیں ان کی یانچوں گھی میں ہیں کہ وہ اپنی من مرضی کر رہے ہیں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

چند روز پہلے ملک کے ایک بڑے شاعر، ادیب، صحافی اور دانشور جناب نواب ناظم سے ملاقات ہوئی تو وہ موجودہ صورت حال پر متفکر نظر آئے وہ کہہ رہے تھے کہ عام آدمی کا جینا مشکل ہوتا جا رہا ہے جو طاقتور ہے وہ اسے زچ کر رہا ہے اسے اس پر ذرہ بھر تر س نہیں آتا اس طرح بچوں، بوڑھوں اور جوانوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

عرض کرنے کا مقصد ہر کوئی پریشان دکھائی دیتا ہے مگر اہل زر خاموش تماشائی بنے یہ منظر دیکھ رہے ہیں انہیں صرف اور صرف اپنی پڑی ہوئی ہے یعنی انہیں کیوں قانون کے کٹہرے میں لایا جا رہا ہے وہ تو پوتر ہیں وہ عام آدمی نہیں کہ انہیں تھانہ کچہری میں گھمایا جائے اس طرز عمل اور طرز فکر سے لوگوں میں نفرت اور غصے کی فضا جنم لے رہی ہے ایک دوسرا کلچر بھی ابھر رہا ہے اور وہ ہے اذیت پسندی کا کلچر… لاتعلقی اور بیگانگی کے مسلسل عمل سے وہ ایک دوسرے کو ایذا بھی پہنچانے لگے ہیں اس میں انہیں تسکین ملتی ہے کسی محفل میں کسی کو دوسروں کی نگاہوں میں گرانے کی کوشش کرنا یہ کہ ایک کے مخالف کے ساتھ تعلق قائم کرنا۔ اذیت پسند ہونے کی ایک مثال یہ بھی دی جا سکتی ہے کہ گلیوں، محلوں اور ان سے ملحق سڑکوں پر سپیڈ بریکر بنا دینا عام ہو گیا ہے۔ اگر کوئی راہ گیر یا موٹر سائیکل سوار ایک طرف سے جہاں جگہ خالی ہوتی ہے گزرتا ہے تو کچھ دنوں کے بعد اسے بھی بجری سیمنٹ سے پُر کر دیا جاتا ہے کہ جس نے گزرنا ہے وہ بنائے گئے سپیڈ بریکر کے اوپر سے گزرے جو معیاری نہیں ہوتا اور بے دھیانی سے گزرنے پر گرنے کا سخت اندیشہ ہوتا ہے۔ یہ حال ہو گیا ہے ہمارا… بقول نواب ناظم

ٹراتے ہیں مینڈک تو کوئی غم نہیں یارو

کھلتے ہوئے دو موئی کے پھن دیکھ رہا ہوں

اگر غیر جانبدارانہ طور سے دیکھا جائے تو حالات خرابی کی طرف جا رہے ہیں کیونکہ جب تک تعلیم، صحت اور انصاف کے حصول کو عام و آسان نہیں بنایا جاتا اضطراب مجموعی کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور لوگوں کو یہ یقین بھی نہیں ہو سکتا کہ ریاست و حکومت ان کے ساتھ سنجیدہ ہیں لہٰذا ملکی تعمیر و ترقی اور مہذب معاشرے کے لیے لازمی ہے کہ دولتمندوں کو ہی نہ ان تینوں شعبوں کی سہولیات حاصل ہوں۔ عوام کو بھی ان کا ملنا ضروری ہے۔ کیونکہ ٹیکس لگا کر ترقی اور خوشحالی کی منزل تک نہیں پہنچا جا سکتا اس کے لیے علم چاہیے ، صحت مند افراد چاہیں اور انصاف پر مبنی باقاعدہ ایک نظام کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ باقی سب ڈھکوسلے ہیں۔ بائیس کروڑ لوگوں کے اس ملک میں ایک کروڑ کو صحت کارڈ دے کر یہ طے کر لینا کہ وہ اجتماعی کارکردگی میں فعالیت لے آئیں گے تعلیم بڑے بڑے رئیسوں تک محدود کر کے مہذب معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے گی اور انصاف کی عدم فراہمی سے جرائم کو قابو کیا جا سکے گا یہ ممکن ہی نہیں لہٰذا ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان سب کا بندوبست کرے بصورت دیگر پچاس سو برس میں بھی وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے گی۔ حسب حال شعر

چوراہے پہ بیٹھا ہے تساہل کے نگر میں

جانا تھا جدھر تجھ کو اُدھر کیوں نہیں جاتا


ای پیپر