فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

جج ارشد ملک نے ویڈیو کو حقائق سے برطرف قرار دیدیا
07 جولائی 2019 (13:08) 2019-07-07

اسلام آباد: احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو کا معاملہ، فاضل جج نے وضاحتی بیان جاری کر دیا

جج ارشد ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز مریم صفدر کی پریس کانفرنس اور مجھ سے منسوب کی جانے والی ویڈیو دیکھی ہے، اس پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر سنگین الزامات لگائے گئے۔

مریم صفدر کی پریس کانفرنس کے بعد یہ ضروری ہے کہ سچ کو منظرعام پر لایا جائے، نواز شریف اور ان کے خاندان کیخلاف مقدمات کی سماعت کے دوران مجھے رشوت کی پیشکش کی گئی۔ نواز شریف کے نمائندوں نے تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔

میں نے تمام دھمکیوں کو سختی سے رد کرتے ہوئے حق پر قائم رہنے کا عزم کیا، میں نے اگر دباؤ یا رشوت کے لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا تو ایک مقدمے میں سز اور دوسرے میں بری نہ کرتا۔ میں نے انصاف کرتے ہوئے شواہد کی بنا پر نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سزا سنائی اور فلیگ شپ کیس میں بری کیا،

مجھ پر بالواسطہ اور بلاوسطہ نہ دباؤ تھا اور نہ ہی کوئی لالچ میرے پیش نظر تھا۔ میں نے یہ فیصلے خدا کو حاضر و ناظر جان کر قانون اور شواہد کی بنیاد پر کئے ہیں۔

یہ پریس کانفرنس محض میرے فیصلوں کو متنازعہ بنانے، سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے کی گئی، پریس کانفرنس میں دکھائی گئی ویڈیوز جھوٹی، جعلی اور مفروضوں پر مبنی ہیں۔ اس میں ملوث افراد کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہئے۔

میرے ادارے، میری ذات اور میری ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی ہے، ناصر بٹ راولپنڈی کے رہائشی ہیں اور میری ان سے پرانی شناسائی ہے، ناصر بٹ اور اس کا بھائی مختلف اوقات میں مجھ سے مل چکے ہیں۔

مریم صفدر کی پریس کانفرنس میں دکھائی جانے والی ویڈیوز حقائق کے برعکس ہیں، ان ویڈیوز میں مختلف مواقع اور موضوعات پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔


ای پیپر