” کچھ لو اور کچھ دو “
07 جولائی 2019 2019-07-07

6 جولائی 2019ءکی سہ پہر ساڑھے چار بجے تک نواز شریف العزیزیہ کیس میں مجرم تھے، سزا یافتہ تھے مگر ساڑھے چار بجے شریف فیملی کی پرانی رہائش گاہ اور نواز لیگ کے سیکرٹریٹ 180 ایچ ماڈل ٹاون لاہور میں ہونے والی پریس کانفرنس اوراس میں جاری ہونے والی ویڈیو نے ایک نئی ایف آئی آر کاٹ دی ہے، مولوی تمیز الدین کیس سے نواز شریف کی نااہلی اور سزا تک سیاستدانوں کے خلاف استعمال ہونے والے ادارے کو ایک مرتبہ پھر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ مجھے یہ مطالبہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ مسلم لیگ نون کے کارکن ناصر ملک کی طرف سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی بنائی ہوئی ویڈیو کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہئے کہ اس ویڈیو میں بعض جگہوں پر آواز اورتصویر مبہم ہے مگر یہ بات بھی کامن سینس سے تعلق رکھتی ہے کہ پاکستان کا ایک طاقت ور سیاسی خاندان ایک ایسی ویڈیو استعمال نہیں کرے گا جو جعلی ہو گی کیونکہ اس کے اپنے اثرات اور نتائج ہوں گے ، انہوں نے اس ویڈیو کے بارے میں یقینی طور پر تسلی کرنے کے بعد ہی پریس کانفرنس میں پیش کیا ہو گا۔

جی ہاں ! یہ عدلیہ پر مقدمہ ہے کہ وہ بلیک میل ہوتی ہے مگر مقدمہ ان پر بھی ہے جو اسے بلیک میل کرتے ہیں۔ حکومت کے ایک حامی صحافی میرے ٹی وی چینل پر دلیل دے رہے تھے کہ اس ویڈیوپر بات کرتے ہوئے جسٹس قیوم کو بھی ڈسکس کیاجائے، وہ کہہ رہے تھے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی دباو ¿میں لایا جاتا رہا ہے، میرے بھائی، اصل مقدمہ ہی یہ ہے کہ جس ادارے کو انصاف کے لئے بنایا گیا ہے وہ انصاف نہیں کرتا، وہ ہردور میں طاقت ور کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بن جاتا ہے۔ آپ اس ویڈیو کو مبہم اور غیر واضح کہتے ہوئے جو دلیل دے رہے ہیں وہ اس ویڈیو کو جواز دے رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کا کارکن ناصر، جج صاحب کو کہتا ہے کہ وہ ان کے یعنی شریف فیملی کے ساتھ مل جائیں مگر وہ بتاتے ہیں کہ انہیں کئی برس پرانی ایک ویڈیو دکھائی گئی اور ان کے لئے پھر یہی راستہ ہے کہ وہ خود کشی کرلیں۔ ہو سکتا ہے کہ جج صاحب خود کشی نہ کریں اور اپنے عہدے سے استعفا بھی نہ دیں کیونکہ اس سے پہلے بھی چیئرمین نیب نے اپنے خلاف ویڈیو آنے پر نہ خود کشی کی اور نہ ہی اپنے عہدے سے استعفا دیا مگر یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد سے کام لینے کا یہ ایک باقاعدہ طور پر اپنایا گیا طریقہ ہے۔ جج ارشد ملک کے الفاظ سامنے آئے کہ ان کا ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے اور انہیں ڈراو¿نے خواب بھی آتے ہیں مگر اس کے باوجود ابھی انہوں نے چند روز قبل ایک اور فیصلہ دیا ہے جس میں انہوںنے نندی پور پاور پلانٹ کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے بابر اعوان کو بری کر دیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے راجا پرویزاشرف سمیت دیگر کو نہیں۔

اس منظر نامے میں عمران خان سے لے کر فردوس عاشق اعوان تک سب بے معنی ہو گئے ہیں۔ اب وہ اپنے سپیکر قومی اسمبلی کی ایک رولنگ اور پابندی کے ذریعے خود کو سلیکٹڈ کہلوانے سے نہیں روک سکیں گے اور یوں بھی تاریخ کسے کس نام سے یاد رکھتی ہے کیا اس کا فیصلہ سرکاری عہد ے دار اور کاغذات کرتے ہیں، ہرگز نہیں۔ ایک معروف مثال دینے دیجئے کہ کیا آپ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک قاتل کے طور پر یاد رکھتے ہیں جسے اس وقت کی سپریم کورٹ آف پاکستان نے سزا دی، میرے پاس ان کو یاد رکھنے کے دیگر سینکڑوں جواز موجود ہیں جن میں سے ان کا قاتل ہونا ایک بھی نہیںاور کیا جب تعصب اور جہالت کا ایک سونامی گزر جائے گا تو کیا پاکستان کی تاریخ نواز شریف کو اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی غلط بیانی کرنے والے یا العزیزیہ کیس میں سزا پانے والے مجرم کے طور پر یاد رکھے گی، جب بھی ان نااہلیوں اور سزاو¿ں کا ذکر ہو گا وہ عدلیہ کے ایک ماضی کے ساتھ جڑا ہوگا۔مریم نواز شریف کے ساتھ شہباز شریف کا اس پریس کانفرنس میںموجود ہونا ثابت کر رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ شریف خاندان کو توڑنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی ویڈیو اگر مریم نواز شریف اکیلے جاری کرتیں تو اس کا مطلب کچھ اور ہوتا۔ مجھے اس دلیل میں وزن نظر آتا ہے کہ شریف فیملی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مصالحت نہ ہونا شریف خاندان کی نہیں بلکہ خود اسٹیبلشمنٹ کی ناکامی ہے کہ وہ شہباز شریف کو نواز شریف سے توڑنے میں ناکام رہی ہے۔

ہماری کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ سے آو¿ٹ ہو کر واپس آ رہی ہے تو کچھ کرکٹ کی ٹرمز میں بات ہوجائے۔ سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان قیام پاکستان سے ہی ایک ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے۔ سیاستدانوں نے دوباریاں لے لی تھیں اور اب اسٹیبلشمنٹ نے اپنے کھلاڑی اتارے۔مریم نواز شریف نے اس ٹیسٹ میچ میں ایک چھکا مارا ہے جسے جمہوریت پسند اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ یہ کامیابی نواز شریف کی ذات کی حد تو ہو سکتی ہے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسری طرف سے اس کا کیا جواب آتا ہے۔سیاستدانوں کو سمجھنا ہوگا کہ وہ پاکستان میں فوری طور پر برطانیہ جیسی جمہوریت اورانڈیا جیسی فوج نہیں لا سکتے۔ پاکستان کا اتحاد امریکا سے رہا ہے اور امریکا کے چار جولائی کو بھرپور جشن آزادی منانے کی جو خبریں آئی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ وہاں فوجی طاقت کا بھرپور مظاہرہ ہوا ہے۔ ٹرمپ بارش سے بھیگتے جس کیبن سے پینتالیس منٹ تک خطاب کرتے رہے وہاں سٹیج کے ارد گرد” امریکا کو دوبارہ عظیم بناو¿‘ ‘ کے نعرے درج تھے ،سرخیاں” ڈیموکریٹک رہنماو¿ں کا خزانے کے بے دریغ استعمال، پینٹاگون کا فوج کی ٹرمپ کے سیاسی مظاہرے میں شرکت پر تحفظات کا اظہار “ کی بھی ہیں۔ اب علم نہیں کہ پاکستان امریکا بن رہا ہے یا امریکا پاکستان بن رہا ہے۔

اگر ہمارے جمہوریت پسند دوست یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس چھکے سے میچ جیت جائیں گے تو وہ غلطی پر ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ نواز شریف پر کی گئی قانونی ایف آئی آر کے جواب میں سیاسی ، تاریخی اور عوامی سطح پر ایک دوسری ایف آئی آر درج ہو گئی ہے مگر اس کا فیصلہ کیا ہوتا ہے، اس بارے میں وقت ہی بتائے گا۔مجھے یہ کہنے اور بتانے میں عار نہیں کہ بات کسی ایک یا دو جرنیلوں کی نہیں ہے بلکہ ہماری فوج اس وقت بطور ادارہ اپنے مفادات کے تحفظ پر یک سُو ہے۔بہت سارے دوست امید رکھ رہے ہیں کہ اس برس کے آخر میں موجودہ آرمی چیف کے جانے کے بعد کوئی بڑی تبدیلی آجائے تو یہ عین ممکن ہے کہ درمیان میں ایک یا دو جرنیل ایسے آجائیں جو نرم رویّے کے حامل ہوں، وہ سیاستدانوں اور سیاست کو راستہ دیں مگر مجموعی مقاصد پر کوئی بھی کمپرومائز نہیں کرے گا۔ گمان رکھئے کہ تبدیلی ایسی بھی ہوسکتی ہے جیسی جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کے آ نے سے آئی۔ یہ بات مجھ سے بہتر دوسرے جانتے ہیں کہ کیا اور کتنی تبدیلی آئی۔ مسلم لیگ نون کو بھی راستہ شہباز شریف کی سوچ کے ساتھ ہی نکالنا پڑے گا مگر یہ سوچ اس وقت تک کارگر نہیں ہوسکتی جب تک اسے دوسری طرف سے بھی قبولیت نہ ملے۔ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ ہماری فوج ملک کی اقتصادی حالت کی تباہی کسی طور پر نہیں چاہتی اور یہ بات اب تک ثابت ہوچکی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور خود اسٹیبلشمنٹ کے نامزد کردہ معاشی ماہرین کے پاس اقتصادی مسائل کا حل نہیں ہے۔ آپ کو ہوسکتا ہے کہ میرے اس کالم کا اختتام عجیب وغریب لگے کہ جس وقت مریم نواز شاہد آفریدی کی طرز پر بیٹنگ پر اتر آئی ہیں تو میں مصالحت اور مفاہمت کے راستے کی بات کر رہا ہوں۔ میں پھر کہوں گا کہ مجھے نہیں علم کہ مریم نواز کے اس چھکے کا جواب کیا آئے گا مگر مجھے اتنا علم ہے کہ اگر یہ لڑائی بڑھی تو فوج، سیاستدان اور پاکستان تینوں ہی خسارے میں رہیں گے۔عمران خان کی قیادت کچرا ثابت ہو چکی اوریہی وقت ہے کہ ماضی کی غلطیوں پر ایک دوسرے سے معافی مانگتے ہوئے ” کچھ لو اور کچھ دو “ کی بنیاد پر معاملہ کر لیا جائے ورنہ وہ وقت آجائے گا کہ کسی فریق کے پاس کسی دوسر ے کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔


ای پیپر