From Kargil to Coup
07 جولائی 2018 2018-07-07

ویسے تو پاکستان میں چار دفعہ مار شل لا لگا۔ دو دفعہ قائداعظمؒ کے اصلی پاکستان میں 1958ء میں ایوب خان اور 1969میں یحیےٰ خان نے مارشل لا لگایا۔موجودہ پاکستان میں 5جولائی 1977میں جنرل ضیا الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر حکومت پر قبضہ کرلیا اس کے بعد 12۔اکتوبر 1999کو جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگا دیا۔ کسی بھی ملک میں فوجی حکومت قوم کی نفسیات پر بہت منفی اثر ڈالتی ہے اور سب سے زیادہ نقصان فوج کے اپنے ادارے کو ہوتا ہے ۔ آ ج 5جولائی کو جب میں یہ لکھ رہا ہوں سب دانشور جنرل ضیا کے مارشل لا کی بات کررہے ہیں میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوں لیکن کیونکہ میرے ہاتھ نسیم زہرہ کی کتاب جنرل مشرف یعنی آخری ماشل لا کے بارے میں ہے سو میں نے بہتر جانا کہ قارین کے ساتھ اس پر بات کی جائے۔
محترمہ نسیم زہرہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔وہ ایک سینیر صحافی ہیں اورایک ٹی وی چینل پر اینکر بھی ہیں مگر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ایک بہت بڑی دانشور اور ریسرچر ہیں۔ انہوں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھایا بھی ہے۔زیر نظر کتاب From Kargil to Coupانہوں نے بہت محنت اور عرق ریزی سے لکھی ہے ۔یہ اس لئے بھی بہت اہم ہے کہ محترمہ کی کتاب میں فراہم کردہ معلومات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ محترمہ اور خلائی مخلوق میں کوئی پردہ نہیں ہے۔ پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ ہمارے ہاں اہم سیاسی اور عسکری معاملات پر بہت کم لکھا گیا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ زیادہ تر establishmnetکا نقطہ نظر ہی پیش کیا جاتا ہے اور اس میں حقائق کو بتانے کی بجائے ان کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ بات خاص کر 1948, 1965, 1971کی پاک بھارت جنگوں کے بارے میں تو یہ بالکل درست ہے۔پھر بھی ایسے حالات اور پس منظر میں کہیں نہ کہیں سے کسی نہ کسی طریقے سے حقائق سامنے �آہی جاتے ہیں۔
1948کے بارے میں راؤ رشید نے لوگوں کو پہلی دفعہ بتایا کہ ہمارے کشمیر میں جانے والے مجاہدین کیا کرتے تھے اور پاکستان سری نگر پر قبضہ کیوں نہیں کرسکا۔۔1965کے بارے میں گو جنرل محمود نے بہت ضخیم کتاب لکھی ہے مگر گھوم گام کر سرکاری نقطہ نظر ہی پیش کیا گیا ہے۔بھلا ہو مرحوم ایر مارشل اصغر خان کا جنہوں
نے اپنی تقریروں اور تحریروں سے حقائق سے پردہ اٹھایا۔ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ساری جنگیں پاکستان نے شروع کی تھیں۔اب تو شائد لوگ بھول گئے ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان پر فوج کشی کی سب سے پہلے انہوں نے مخالفت کی تھی۔پاکستان میں فیصلے بدقسمتی سے چند لوگ کرتے ہیں اور دوسروں کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔1965کی جنگ کو ہی لے لیں بقول ایر مارشل اصغر خان کے فضایہ کو اپریشن جبرالٹر کے بارے میں کچھ معلو نہیں تھا۔بات دوسری طرف نکل گئی ۔ ٓٓٓآج بھی پاکستان میں بحث چل رہی ہے کہ کارگل آپریشن کے بارے میں جنرل مشرف نے میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان کو اعتماد میں لیا تھا یا ان سے ا سکی اجازت لی تھی؟ محترمہ نسیم زہرہ نے ایک خفیہ میٹنگ کا حال لکھا ہے’7مئی 1999 ء کو آئی ایس آئی کے اوجڑی کیمپ کے قریب آ فس میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی تھی جس میں میا ں نواز شریف وزیر اعظم پاکستان ۔ وزیر خارجہ سرتاج عزیز ۔وزیر کشمیر جنرل عبدالمجید ملک، سیکریڑی خارجہ شمشاد۔سیکریڑی دفاع جنرل افتخار اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریڑی سعید مہدی۔فوج کی طرف سے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف۔ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز ۔10کور کے کمانڈر جنرل محمود۔ ISI D G جنرل ضیا الدین بٹ ۔DGMI جنرل جمشید گلزار۔میجر جنرل شاہد عزیز اور NLICommnader بریگیڈیر جاوید حسن شامل تھے۔ DG Operationsجنرل توقیر ضیا نے میٹنگ کو بریفنگ دی۔اس نے کارگل اپریشن جس کو اپریشن کوہ پیما کا نام دیا گیا تھا کے فوائد کے بارے میں بتایا ا اور کہا کہ ہم ہندوستا ن کی گردن دبوچ لیں گے اور وہ ہمارے پاؤں پڑ جائے گا اس طرح پاکستان کشمیر کے بارے میں اپنی مرضی کا فیصلہ کروا لے گا۔اس اپریشن کے پانچ مرحلوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔جو نقشہ جات پیش کئے گئے ان پر جگہوں کے نام نہیں تھے بلکہ سمبلز تھے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان کے فوجی کشمیر میں لائین آف کنڑول پار کرکے مقبوضہ کشمیر میں کارگل میں ہندوستانی مورچوں پر قبضہ کر چکے تھے ۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ یہ کام مجاہدین کریں گے۔ بقول نسیم زہرہ پریفنگ میں فوجیوں نے وزیر اعظم کو خوب پھوک دی اور کہا کہ آپ کا نام تاریخ میں فاتح کشمیر کے طور پر زندہ رہے گا۔ وزیر اعظم سے اجازت لینے کا سوال ہی پید ا نہیں ہوتا تھا کیونکہ پاکستانی فوجی تو پہلے ہی لائین آ ف کنڑول عبور کرکے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر پر اگلے مورچوں پر قبضہ کر چکے تھے۔ وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے پریشانی کا اظہار کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ ہمیں بین الاقوامی طور پر کوئی مدد نہیں ملے گی۔سیکریڑی دفاع جنرل افتخار نے بھی اپریشن کوہ پیما پر تنقید کی۔ جنرل مجید ملک جو خود بھی 10کور کمانڈ کر چکے تھے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بگڑتے ہوئے موسم میں پاکستا ن اپنے فوجیوں کو کمک نہیں پہنچا سکے گا۔ جنرل محمود نے جنرل ملک مجید کو کافی ترش جواب دیا۔آخر میں چیف آف جنرل سٹاف نے دعا کروائی۔ میٹنگ کے بعد سیکریڑی دفاح جنرل افتخار نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ کیا فوج نے آپ سے لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت لے ہے؟نواز شریف نے جواباً پوچھا کہ کیا فوج نے لائین آف کنڑول پار کر لی ہے؟ جنرل افتخار نے کہا کہ لائن آف کنڑول پار کرنے کا مطلب ہندوستان سے جنگ ہے۔فوراً جنرل مشرف کو بلایا گیا ۔ جنرل مشرف سے نواز شریف نے سوال کیا کہ کیا فوج نے لائین آف کنڑول پار کرلی ہے۔جنرل مشرف نے کہا کہ ہاں سر۔سوال کیا گیا کہ کس کے حکم پر ؟جنرل نے جواب دیا میں نے خود یہ فیصلہ کیا تھا اگر آپ کہتے ہیں تو میں فوج واپس بلا لیتا ہوں۔نواز شریف نے سیکریڑی دفاع کو کہا کہ فوج ذمہ داری لے رہی ہے۔ آج سے ہم فوج کی ہر طرح کی مدد کریں گے۔ اس کے بعد ایک کیبنٹ میٹنگ بلائی گئی جس میں سرتاج عزیز ۔جنرل
مجید ملک۔راجہ ظفر الحق اور مشاہد حسین شریک ہوئے۔اس میٹنگ میں بھی سیکریڑی دفاح نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہندوستان اس صورت حال کو برداشت نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ چند کاغذی شیروں نے کارگل کا اڈونچر کر دیا ہے۔ اس کے بعد وزارت خارجہ میں اس سلسلہ میں ایک میٹنگ ہوئی۔جہاں یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ وزارت خارجہ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ریاض محمد خان جو اسوقت Additional Secretary تھے نے کہا کہ اس مسلہ پر ہمیں UNسے کوئی حمائت نہیں ملے گی اور چین بھی ہمیں فوجیں واپس بلانے کے لئے کہے گا۔سیکریڑی خارجہ نے کہا کہ ہندوستان حملہ کر سکتا ہے۔انہوں نے 1965کی جنگ کا حوالہ بھی دیا۔جواب میں جنرل مشرف نے کہا کہ ہماری ہندوستان سے ازلی اور ابدی دشمنی ہے۔ جنرل احسان DGMI نے غیر ملکی سفارت خانوں کے ملڑی اتاشیوں کو بلایا اور بتایا کہ پاکستان نے لائن آف کنڑول پار کر لی ہے جنہوں نے اپنی اپنی حکومتوں کو فوراً صورت حال سے مطلع کیا۔۔وزیر خارجہ نے ڈی جی ایم آئی کے بیان پر تنقید دکی جس کے جواب میں اس نے کہا کہ اسے misquote کیا گیا ہے۔
پھر وزیر اعظم میاں نواز شریف واشنگٹن گئے اور پاکستان کو ہزاروں فوجیوں کی قربانی دینی پڑی اور فوج واپس بلائی گئی۔ 12 ۔اکتوبر 1999میں جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔مصنف کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کتاب 2003میں لکھنی شروع کی تھی۔پاکستانی تاریخ کے طالب علموں کو پتہ ہے کہ پھر اکتوبر میں کیا ہوا۔ نسیم زہرہ نے جنرل مشرف کی برطرفی پر بھی روشنی ڈالی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف نے جنرل مشرف کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے اپنے ملڑی سیکریڑی کو اعتماد میں لیا جس نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا مگر نواز شریف کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف اس کے خلاف بیان دیتا ہے(یہ 5 ۔ اکتوبر 1999کا واقعہ ہے اس شام کو جرمنی کی ایمبیسی میں German Reunification Day کی تقریب تھی ۔جہاں جنرل مشرف بھی موجود تھا جب صحافیوں نے اس سے پوچھا کہ ملک میں امن و امان کی کیا صورت حال ہے تو جنرل مشرف نے کہا بہت بری(یہ بات فدوی نے بھی سنی)۔اگلے دن اخبارات کی یہ شہ سرخی تھی)۔ سب سے پہلے جنرل اسد درانی اور جنرل علی قلی خان نے کارگل اپریشن پر تنقید شروع کی۔
مصنف نے جنرل شاہد عزیز کی کارگل کے بارے میں رائے بھی پیش کی ہے ۔۔An unsound military plan based on assumptions launched with little preparations and total disregard of the regional and international environment was bound to fail----It was a total disastor
میں اگلے روز فاروق عبداللہ کا انٹرویو دیکھ رہا تھا جس میں اس نے کہا کہ کارگل کے وقت جب وہ اگلے مورچو ں پر گیا تو اسے بتایا گیا کہ ایر فورس کی مدد کی سخت ضرورت ہے۔اس نے کہا کہ وہ فوراً دلی گیا اور باجپائی کو قائل کیا کہ کارگل میں ایر فورس بھیجی جائے۔بہر حال ایک بات طے ہے کہ کارگل adventureکا ذمہ دار جنرل مشرف ہی تھا پھر اس نے چند جرنیلوں کے ساتھ مل کر 12۔اکتوبر 1999ء کو نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی تاریخ کے ہر طالب علم کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔


ای پیپر