’نیا عہد‘ اور اس کی شروعات

07 جولائی 2018

عطاء الرحمن

سابق اور تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو جس طرح دس اور سات سالوں کی قید سمیت بھاری جرمانوں اور جائیدادیں ضبطی کا سزا وار ٹھہرایا گیا ہے۔۔۔ نواز کے دونوں بیٹوں حسین اور حسن کو اشتہاری مجرم قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے یوں اس خاندان کو جس کے سربراہ کا شمار پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دینے والے دو تین فرزندان وطن میں ہوتا ہے سیاست کے میدان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باہر نکال پھینکنے اور انہیں کاروباری لحاظ سے مفلوج کر کے رکھ دینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ وہ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری عمل کو ’منفرد‘ راستے پر ڈال دے گا۔ عمران خاں نے درست کہا ہے نئے عہد کی شروعات ہوا چاہتی ہیں۔ سزا کے فیصلے میں باقاعدہ اعتراف کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔۔۔ جس بھاری رقم کے بارے میں الزام لگایا گیا کہ نوے کی دہائی کے آغاز پر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کر کے جائیدادیں بنائی گئی ہیں، اس کے زمانے میں ایسا کوئی قانون نہیں تھا۔۔۔ بعد میں نافذ ہوا۔۔۔ فرمایا گیا ہے یہ کنبہ آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا مالک ہے۔۔۔ یہ وہ پیمانہ ہے جسے سامنے رکھ کر پاکستان کے ہر خوشحال اور آسودہ تر زندگی بسر کرنے والے فرد یا خاندان کی گردن مروڑی جا سکتی ہے بس اس کا راندہ درگاہ ہونا ضروری ہے۔۔۔ اس سارے عمل کی گہرائی میں اتر کر جائزہ لیں تو امور مملکت پاکستان کے حال اور مستقبل کے بارے میں کچھ سبق ملتے ہیں۔۔۔ نئے عہد کے کھلاڑیوں کو انہیں ازبر کر لینا چاہئے۔۔۔ اگر موجودہ اور آنے والے دور کے سیاستدان انہیں حرز جان بنا لیں گے تو وہ بھٹو اور نواز جیسے انجام سے بچے رہیں گے۔۔۔ سبق صحیح طرح یاد ہو گیا اور اس پر سختی کے ساتھ عمل پیرا رہے تو سہروردی فیروز خان نون اور محمد خان جونیجو جیسی ہزیمت کا شکار ہونے سے بھی محفوظ رہیں گے۔۔۔ لازم ہے ہر سیاستدان نئے دور کی مقتضیات کو دل و دماغ میں اتارلے۔۔۔ انہیں اپنے کردار کے اندر سمو لے۔۔۔ اور عوامی زندگی کے کسی بھی مرحلے پر ان سے سر مو انحراف کی لاشعوری کوشش بھی نہ کرے ورنہ منہ کی کھائے گا۔
سبق کا بنیادی اور لازمی جزو یہ ہے کہ وہ ادارہ جسے پاکستان کے سیاسی روزمرہ میں اسٹیبلشمنٹ کا نام دیا جاتا ہے اس ملک کے اندر اس کے مقام و مرتبہ کا پوری طرح ادراک کر لینا چاہیے۔۔۔ عافیت اسی میں ہے کہ سیاست کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے اس کا عرفان حاصل کر لیا جائے اور اچھی طرح جان لیا جائے کہ اقتدار حقیقی کا مالک بس یہی عظیم ادارہ ہے۔۔۔ باقی سب طفیلی Subsidiaries ہیں۔ عوامی حکومت ہو، منتخب پارلیمنٹ یا کوئی ادارہ ۔۔۔ امور مملکت چلانے کے لیے جیسی دانائی ، حکمت اور ہر موڑ پر صحیح راستہ اختیار کرنے کی جو صفت مبدائے فیض کی جانب سے اس ادارے کے افراد کو ودیعت کر دی گئی ہے پاکستان کی حد تک کسی اور کے نصیب میں نہیں۔۔۔ لہٰذا ضروری بلکہ اشد ضروری ہے ہر سیاسی رہنما اور اس کی جماعت یا گروہ اس کا تابع فرمان بن کر رہے، اس کے حضور سر تسلیم خم کرے اور اوپر سے جو حکم نازل ہو سختی کے ساتھ اس پر عمل پیرا رہے۔۔۔ معلوم ہونا چاہیے یہ اسٹیبلشمنٹ ہماری نہ صرف حب الوطنی کا مرقع ہے بلکہ کارکنان قضا و قدر نے اسے کسوٹی بنا دیا ہے جسے بھی قومی اور عوامی زندگی کے جس مرحلے پر بھی اپنی حب الوطنی کا جائزہ لینا ہو اس پر پرکھ کر اپنی اوقات جان لے، مقام پہچان لے۔۔۔ اصلاح احوال کرتا رہے مبادا اس کے بارے میں اندیشہ پیدا ہو جائے (اگر سیاستدان ہے تو خاص طور پر ) دشمن کے ہاتھ چڑھ گیا ہے یا اس کے ساتھ ساز باز کرنے والا ہے۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ ہی جانتی ہے کب کس کے آگے جھکنا یا سینہ تان کر کھڑے ہو جانا ہے۔۔۔ امریکہ ہو یا کوئی اور طاقت کب پاکستان کے بہترین مفاد میں پرائی لڑائی کو اپنی جنگ بنا کر لڑنا ہے اور کب نہیں۔۔۔ ملکی سرحدوں کے اس پار کس طرح کے حالات میں بھارتی حکومت یا افغان انتظامیہ کے ساتھ معاملات طے کرنے ہیں یا تعلقات کو اعلیٰ ترین قومی مفاد میں کھنڈت میں ڈالے رکھنا یا کشیدگی کو جاری رکھنا ہے۔۔۔ نیز کس گروہ سے کب پراکسی جنگجووءں کا کام لینا ہے اور کب انہیں دہشت گرد قرار دے کر ملیا میٹ کر کے رکھ دینا ہے۔۔۔ تنازع کشمیر کے بارے میں کب سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے انحراف کی پالیسی اختیار کرنی ہے اور کب اصولی مؤقف پر ڈٹے رہنا ہے۔۔۔ کوئی سیاستدان ان معاملات کو اپنے تئیں زیادہ چابکدستی یا وقار کے ساتھ حل کرنے کی کوشش یا وہم میں مبتلا ہوا تو دشمن یا بیرونی قوتوں کا ایجنٹ بنا کر رکھ دیا جائے گا تا کہ آئندہ ایسی جسارت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے کیونکہ پاکستان کے دفاعی اور خارجہ امور پر کسی قسم کا فیصلہ دینا صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ کا حق ہے۔۔۔ آئین اس باب میں کیا کہتا ہے اس سے ہمیں سروکار نہیں ویسے بھی کاغذ کا ٹکڑا ہے۔۔۔ کسی بھی دوسرے کے اندر مطلوبہ حب الوطنی پائی جاتی ہے نہ اتنی دانائی اور فراست کا مالک ہے کہ نازک معاملات سے نمٹ سکے یا اس پر اعتماد کیا جا سکے۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ ہماری کے اندر بادشاہوں والی ساری صفات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں وہ
اتنی رحم دل اور اتنا بڑا ظرف رکھتی ہے کہ جسے چاہے زیر و سے ہیرو بنا کر رکھ دے اس کے ساتھ وہ قہاری اور جبروت کے وصف کی بھی مالک ہے کہ جو اس کے ساتھ ٹکر لے گا یا سامنے کھڑا ہونے کی جسارت کرے گا پاش پاش ہو جائے گا خواہ بھٹو ہو یا نواز شریف دوسروں کا مذکور کیا یہاں تک کہ مشرقی پاکستان نے بھی اپنا وجود منوانے کی ٹھان لی تو اسے ہمارے یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کرنا پڑا۔۔۔ ہر سیاستدان یا عوامی خدمت کے کسی بھی منصب پر فائز شخص کو اس وادی میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے اور پیچھے پیچھے چلنا چاہیے مبادا نازک آبگینوں کو ٹھیس پہنچ جائے۔ اسی لیے کچھ باخبر حلقوں کی رائے ہے نوازشریف کے ساتھ جو کچھ ہوا ڈان لیکس کا شاخسانہ ہے۔
سبق کا دوسرا جزو یہ ہے کہ عدلیہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی سب سے بڑی اتحادی ہے اور اعلیٰ ترین قومی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جنہیں بسا اوقات نظر یہ ضرورت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اس کے قدم سے قدم ملا کر چلتی ہے۔۔۔ پاکستان کی عدلیہ پر خدا کا خاص فضل ہے کہ روز اوّل سے آزاد چلی آ رہی ہے جیسا کہ جسٹس محمد منیر کے زمانے میں تھی یا جسٹس انوار الحق اور بعد میں جسٹس ارشاد کے سالوں میں تھی۔۔۔ اب وہ آزادی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔۔۔ اسی سبب اولیٰ و اعلیٰ کی بنیاد پر اس نے تھوک کے حساب سے سوو موٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے انتظامی معاملات یا حکومتی اختیارات کی باگیں عملاً اپنے ہاتھوں میں لے لی ہیں۔۔۔ ہسپتالوں کی صفائی کا مسئلہ ہو یا کسی کی سرکاری ملازمت کو جائز یا ناجائز قرار دینے کا قضیہ سب پر منصف اعلیٰ کا حکم چلے گا۔۔۔ جو بولے گا توہین عدالت کا مرتکب ٹھہرے گا اور سزا کا حقدار قرار پائے گا۔۔۔ وہ جو آئین کے صفحات یا علم سیاسیات کی کتابوں میں انتظامیہ اور عدلیہ کے علیحدہ علیحدہ ہونے کا زوردار تصور پایا جاتا ہے۔۔۔ یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔۔۔ قانون کی کتابوں میں اس کی گتھیاں سلجھائی گئی ہیں۔۔۔ دنیا کے ہر جمہوری ملک کے اندر راسخ ہو چکا ہے۔۔۔ پاکستان کے اندر بھی عزیز تر گردانا جاتا تھا۔۔۔ مگر اب ہمارے ملک میں قابل عمل نہیں رہا۔۔۔ پچھلے چند ماہ سے عدلیہ اور انتظامیہ کچھ اس طرح گڈ مڈ ہو گئی ہیں کہ حکومت یا سول انتظامیہ جس چڑیا کا نام تھا وہ ایوان عدل کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئی ہے۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی چونکہ اس طرح کا نظم مملکت منظور ہے لہٰذا کسی کو چوں چراں کی ہمت نہیں ہوتی۔۔۔ جان لینا چاہیے کہ نیب کا ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا قائم کردہ ادارہ بھی ہمارے عدالتی نظام کا جزو لا ینفک ہے اسی کے یہاں سے نواز شریف جیسے نا پسندیدہ یا باغی سیاستدانوں کو ٹھکانے لگانے اور کیفر کردار تک پہنچانے کے فیصلے صادر ہو رہے ہیں۔۔۔ ڈکٹیٹر مشرف نے جب آئین مملکت کی زبان میں اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا تو اس کے اولین اقدامات میں نیب کا قیام شامل تھا تب ہر کہ وہ مہ پر واضح کر دیا گیا تھا کہ جرنیل جج اور جرنلسٹ اس کی پکڑ دھکڑ پا گرفت سے محفوظ رہیں گے۔۔۔ ان پر اس کا قانون لاگو نہیں ہو گا۔۔۔ نواز شریف کے ماقبل دور کے تقریباً ہر سیاستدان کے خلاف کرپشن کی فائلیں کھلیں ان میں سے جو جو غیر مشروط وفاداری کا یقین دلا کر مشرف کی ’کنگر پارٹی‘ موسومہ بہ ق لیگ میں شامل ہو جاتا۔۔۔ اس کی فائل سرد خانے میں ڈال دی جاتی۔۔۔ انتقام کو احتساب کا نام دینے والے اس ادارے کے قوانین کے تحت یا ثبوت کی ذمہ داری ملزم پر عائد کی گئی نہ کہ مدعی یا الزام لگانے والے پر دنیا بھر کے قانون دان اس پر انگشت بدنداں ہوئے۔۔۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2006-07ء کے میثاق جمہوریت میں جو طے ہوا تھا کہ نیب جیسے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنے والے ادارے کو تبدیل کر کے نیا احتساب کمیشن قائم کیا جائے گا جو کرپشن کے خلاف بلا امتیاز اقدامات کرے گا۔۔۔ اس بلا امتیاز کی ذیل میں جج اور جرنیل بھی آتے ہیں لہٰذا اس قانون کا مسودہ دن کی روشنی نہ دیکھ سکا۔۔۔ اب اسی نیب کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم کے تحت اور اس کے ایک محترم جج کی نگرانی میں تازہ ترین فیصلے کا صدور ہوا ہے۔۔۔ دوسرے الفاظ میں ہمارے مخصوص مبنی بر انصاف نظام عدل کی ابتدا نیب اور انتہا اعلیٰ عدالتیں ہیں۔۔۔ آپ اپیل لے کر بھی جائیں گے تو کس کے پاس۔۔۔ نئے دور کی اس حقیقت نفس امری کو اچھی طرح سمجھ لو ورنہ خطا کھاؤ گے۔۔۔
تیسرا اور اہم سبق اس عہد کا جسے ’کھلاڑی‘ عمران خان نے خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے نئے دور کی شروعات کہا ہے یہ ہے کہ آنے والے انتخابات کی کوکھ سے جو جماعت بھی اکثریت کا دعویٰ لے کر برآمد ہو گی وہ اکیلی نہ ہو گی۔۔۔ اس کا ساتھ دینے یا نہ دینے کے لیے جیپ والوں کی ایک جماعت بھی ہو گی جس کے بغیر حکومت نہ بن پائے گی۔۔۔ پہلے ادوار میں انہیں آزاد ارکان کا نام دیا جاتا تھا۔۔۔ یہ ہوا کا رخ دیکھ کر پارلیمان کے اندر اکثر و پیشتر اس جماعت کا انتخاب کر لیتے تھے جس کے ہاتھ میں حکومت آتی تھی۔۔۔ اس کے زوال کی گھڑی قریب آتی تو وفاداریاں بدلنے میں دیر نہ لگاتے تھے۔۔۔ لیکن اب اوپر والوں نے انہیں جداگانہ نظم کے تحت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے چناؤ میں بمقدار کثیر کامیاب ہوں گے۔۔۔ انہیں جیپ کے انتخابی اور امتیازی نشان سے مزین کیا جا رہا ہے۔۔۔ خلائی رضا کاروں کی اس پارلیمانی جماعت کا لیڈر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہمیشہ سے قرب رکھنے اور نواز شریف کے ساتھ 35 سال کا سیاسی ناطہ توڑ دینے والی جانی پہچانی شخصیت ہو گی۔۔۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے معلق پارلیمنٹ کی صورت میں جب کوئی بڑی جماعت اکثریت ثابت نہ کر سکے گی تو جیپ والوں کی جماعت آگے بڑھے گی۔۔۔ نازل شدہ ہدایات کے تحت جس جماعت کا بھی ساتھ دے گی اقتدار کا ہما اس کے کاندھوں پر آن بیٹھے گا وزیراعظم اسی کا ہو گا۔۔۔ وہ عمران خان بھی ہو سکتے ہیں اور کوئی دوسرا نیاز مند خاص بھی۔۔۔ اگر کسی شخصیت پر اتفاق نہ ہو پایا تو جیپ والوں کا چکری والا لیڈر خانہ پری کے لیے موجود ہو گا۔۔۔ ہر دو صورتوں میں جیپ سواروں کی جماعت کا کردار فیصلہ کن ہو گا۔۔۔ اگرچہ ان دنوں نئی کنگز پارٹی کا نام عمران کی تحریک انصاف کو دیا جا رہا ہے۔۔۔ اس میں خاصی حد تک صداقت بھی نظرآتی ہے لیکن یہ واحد پارٹی نہ ہو گی جو اس اعزاز کی مستحق ٹھہرے گی۔۔۔ جیپ والوں کی جماعت بھی کم درجے کی دعویدار نہ ہو گی۔۔۔ اس سے اگر فوری طور پر امامت کا کام نہ بھی لیا گیا تو امام وقت کے نصب و عزل میں اس کا کردار سب کو نظر آئے گا۔۔۔ امور پارلیمنٹ کے باب میں بنیادی ہدایات اسی پر نازل ہوا کریں گے۔۔۔ اسی کے تیور دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکے گا کہ ہوا کا رخ کس طرف ہے۔۔۔ اس کے دم قدم کی بدولت مگر جو پارٹی بھی حکومت سنبھانے گی لڑکھڑاتی رہے گی کیونکہ اپنی عددی اکثریت ثابت کرنے کے لیے ہر دم اس کی رہیں منت رہے گی۔۔۔ یوں جیپ والے جنہیں اتفاق رائے کے ساتھ عظیم المرتبت اسٹیبلشمنٹ کی ایجاد نو قرار دیا جا رہا ہے۔۔۔ ہر نام نہاد جمہوری حکومت کو ’’راہ راست‘‘ پر رکھنے کے لیے پارلیمانی فرائض سر انجام دیتے رہیں گے۔۔۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا جس کے آثار ہویدا ہیں تو سمجھ لیجیے آنے والے ہر پارلیمانی دور میں جیپ والوں یا اس سے ملتے جلتے نام کی ۔۔۔ جماعت یا صحیح معنوں میں ’اوپر‘ والوں کی منشا اور مرضی کے بغیر کوئی حکومت قائم ہو پائے گی نہ چل سکے گی۔۔۔ سبق تو اس نادر روزگار فیصلے کے جس میں عوامی مینڈیٹ یافتہ وزیراعظم کو کرپشن کا ایک پیسہ ثابت ہوئے بغیر آمدنی سے زائد اثاثوں کے مبہم الزام کے تحت اپنی بیٹی سمیت سخت تر سزاؤں کا مستحق قرار دیا گیا ہے اور بھی ہیں لیکن ابھی انہی پر اکتفا کیجیے۔۔۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

مزیدخبریں