شاہین اڑ گیا تیرا
07 جولائی 2018 2018-07-07

چیف جسٹس نے چہار جانب ازخود نوٹس لے کر ملک بھر میں ترتھلی مچادی۔ سب ہی اپنی اپنی کھال میں لرزرہے ہیں۔ اسی خوش گمانی پہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کی درخواست بھی دے ڈالی گئی ۔ قوم کے غم میں گھلتا دیکھ کر محمد بن قاسم کا گمان ہونے لگا تھا۔ مگر خوابوں کا ہوائی، خلائی محل زمین بوس ہوگیا۔ 9/11کے بعد اسلام سے وابستگی کا جرم ایسا بن چکا کہ اس جرم پر اٹھائے، غائب کئے جہاں کہیں بھی ہوں تمام انسانی حقوق کھودیتے ہیں۔ اگر پاکستان میں غائب شدگان ہوں تو زمین کھا جاتی، آسمان نگل جاتا ہے۔ کوئی ادارہ قبول نہیں کرتا کہ فرد کہاں گیا ۔ اگر بازیاب ہو جائے تو ’جنات‘ کی دنیا سے لوٹنے کے بعد زبان کھولنے کے قابل نہیں بچتا۔ تاہم یہ عجب حقیقت ضرور اچھنبے میں ڈالتی ہے کہ مسلمانوں کی قید میں رہ کر بھی نہ رمضان کے روزے نہ عید کی آمد کی خبر ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہواور خود تاریخوں کا حساب رکھ لے تو اور بات۔ ورنہ انسانی، مسلمانی تمام حقوق ساقط ہوجاتے ہیں۔ رہی عافیہ کی بات۔ تو ان کا پرسان حال کوئی نہیں۔ نہ حکومت نہ فوج نہ عدلیہ۔ سبھی کے پر جلتے ہیں امریکہ کے حضور۔ !سوچیف جسٹس بھی انکاری ہوگئے کہ ہمارا حکم امریکہ پر نہیں چلتا ورنہ ہم تو سمجھنے لگے تھے کہ اب آسمان کے تارے بھی توڑ لائے جائیں گے۔ بحریہ والے ملک ریاض سے بھاؤ تاؤ قالین بیچنے والوں کی مانند ہوا۔ 50ارب سے بات شروع ہوئی اور منت سماجت اور یقین دہانیاں کہ ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی۔ سونیب کی کارروائی روک دی گئی۔ اور پھر 5ارب پر معاملہ طے ہوگیا۔ ڈیم فنڈ میں پیسے جارہے ہیں۔ حالانکہ کالا باغ ڈیم تو صرف ملک ریاض ہی سے پیسہ نچوڑ کر بنایا جاسکتا تھا !ایک کام اور پھر عزت مآب چیف جسٹس نے کیا۔ پی آئی اے طیاروں پر مارخور کی تصویر لگانے سے روک دیا۔ طیارے کی دم پر پاکستانی سرسبز وشاداب لہلہاتے جھنڈے پر دمکتا خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا، والی تصویر جگمگاتی تھی۔ اب چاند تارے کی جگہ مار خورلینے کو تھا۔ مذکورہ تبدیلی والی تصاویر دیکھی جاسکتی ہیں جس میں طیارے کی دم پر پہاڑی بکرا (اگرچہ ہلکی سی داڑھی ہے مگر تسلی بخش ہے کیونکہ فیشنی داڑھی سے مشابہ ہے ۔ دہشت گردانہ تاثر نہیں ہے) گھنگھریالے سینگ دکھاتا کھڑا ہے۔ شاید اقبال ؒ نے جھنڈے کو ’خنجر ہلال کا‘ سے تعبیر نہ کیا ہوتا تو یہ نشان بدلنا نہ پڑتا۔ مشرف کے زمانے میں تمام شہروں سے میزائل اور ایٹم بم کی یاد دلانے والے تمام نشان ہٹا دیئے گئے تھے۔ اسلام آباد میں میزائل چوک تو موجود ہے۔ مگر اب وہ صرف چوک ہے میزائل تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ایٹم بم کے گناہ پر معافی منگوانے کے فوراً بعد ہی ہٹا دیا گیا تھا۔ سواسی تسلسل میں قومی ایئر لائن سے ہلال ہٹایا جانا بھی لازم ٹھہرا۔ ہریالی اب صرف جھنڈے پر باقی ہے۔ وگرنہ دریاؤں کے ہونٹوں پر تو پپڑیاں جمی ہیں۔ پانچ دریاؤں والا پنجاب خشک ، خشک سالی کا مارا اب صرف اورنج ہوا پڑا ہے (ٹرین بھی اسی لیے سبز قومی رنگ ہونے کی بجائے نارنجی ہے!)سواب سفید پس منظر میں سینگوں والا مارخور ہی ہمیں زیبا ہے۔ اتنا ہی شکر کافی ہے کہ ہلال کی جگہ صلیب نہ سجادی ! اقبال نے بھی تو حد کردی۔ عالمگیر امت کی باتیں۔ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر۔ (حرم کی پاسبانی کے لیے مسلم کو ایک ہونے کی ہرگز اجازت نہیں۔ وہ کشنر کا دوست محمد بن سلمان حرم کے لیے لے آئے ہیں جو رازداری سے اسرائیلی وزیراعظم سے اردن میں ملا ہے!چین وعرب ہمارا ہندوستان ہمارا۔ مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔ ایسے اشعار کی پاداش میں اقبال کو نصابوں سے نکال کر قوالوں اور دھمالوں کے حوالے کردیا۔ ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست کہہ کہہ کر طارق بن زیاد ، سپین پر قبضے کی دیومالائی کہانی نوجوانوں کو بہکاتی بھٹکاتی !مٹھی بھر جن نوجوانوں نے اقبال مند ہونے کی کوشش کی۔ وہ سب اب صفحہ ہستی سے غائب ہیں یا زندانی ہیں ! سوایسی ہر علامت جو شاہینی صفات اجاگر کرے، امت کا استعارہ ہو، قوت وشوکت کا اظہار ہو۔ آج کے پاکستان میں اس کا کیا کام۔ ؟ تبدیلی تو آچکی !اب صرف تبدیلی والا باقی ہے۔ آیا ہی چاہتا ہے۔ چاہنے والوں کے قوی ہاتھوں سے !ویسے قومی نشانوں، پرندوں، جانوروں پر بھی نظرثانی ضروری ہے۔ ایک شاعر نے تپ کر کہا تھا۔ کوئی اقبال سے کہہ دے کہ شاہین مر گیا تیرا ۔ سوقومی نشان ’دیگ‘ بھی ہوسکتی تھی۔ شکم پروری اور شکم وروں کی دنیا کا بہترین نشان !انتخابات میں یوں بھی دیگوں کا بول بالا ہوتا ہے۔ مار خور بھی گورے آقاؤں کو جارحانہ علامت لگے گی۔ سینگوں، کھروں اور منحنی داڑھی سے بھی ڈریں گے۔ گدھا شریف النفس جانور ہوتا ہے غلامی کی خوبووالا ۔ ہمارے آقاؤں کے ہاں معزز ہے۔ ڈیموکریٹس کی علامت بھی ہے۔ سو چیف جسٹس صاحب نے مارخور سے روک رکھا ہے۔ شاید گدھا بہتر رہے۔ (اگرچہ وہ اتنا بھی گدھا نہیں ہوتا۔) جمہوریت کی خبر یہ ہے کہ ن لیگ خالی کرنے کا عمل دھڑا دھڑ جاری ہے ۔ 12ٹکٹ واپس ہوگئے۔ امیدوار دھمکائے، ہشکارے ، ہانکے جارہے ہیں۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر دھاندلی ہوئی تو طوفان اٹھے گا !عجب پپو بیان ہے۔ گویا دھاندلی ابھی باقی ہے۔ ؟ جمہوریت کی خوبصورتیاں چہار جانب عشوے غمزے دکھارہی ہیں ۔ آمدورفت کا بازار گرم ہے۔ سارے پرندے اڑ اڑ کر تحریک انصاف کی منڈیر پر آبیٹھ رہے ہیں۔ سارے ووٹ ان کے ڈبوں سے برآمد ہونے کا امکان قوی ہے۔ سو چلو چلو تحریک انصاف کو چلو کا سماں ہے۔ عمران خان سرخوشی میں سجدہ ریز ہوگئے۔ مگر بھول گئے کہ سجدہ کہاں اور کس کو کیا جاتا ہے۔ عمران خان کو ایاک نعبدو ایاک نستعین ، پڑھانے والوں نے انہیں ترجمہ تشریح پڑھا دی ہوتی تو یہ شرمندگی تو نہ اٹھانی پڑتی۔ خاتون خانہ کی امامت میں مزار کی چوکھٹ پر سربسجدہ ہوگئے۔ کیونکہ اس سجدے سے وہ اقبالی پکار نہیں آتی۔ تیرا دل تو ہے صنم آشنا! انتخابات میں ایک معجزہ یہ تو ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ قبروں سے اٹھ کر ووٹ دینے آتے ہیں۔ انتقال کر جانے والوں سے ملاقات کی جاسکتی ہے۔ اگرچہ چہرے کچھ بدلے بدلے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ۔ خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں! پاکستان میں تو ہم اپنی روشن خیالیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے نوجوان نسل میں کم لباسی کا عذاب دم سادھے، سہتے، دیکھتے رہے۔ ادھر شمالی کوریا کے مرد آہن نے اپنی قومی اقدار کے تحفظ کے لیے لڑکیوں کو منی سکرٹ پھول دار ٹائٹس (تنگ پاجامے جو ہمارے ہاں حددرجے تنگ ہیں) شوخ اور توجہ مبذول کروانے والے پاجامے، نیلی جینز (جوبقول ان کے سرمایہ دار معاشروں کی علامت ہیں) جالی دار باریک سٹاکنگ (ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے !پاجامے) ممنوع قرار دے دی گئی ہیں قانوناً ۔ لڑکیاں بال ہلکے رنگ (سنہری، بلانڈ) میں نہیں رنگیں گی۔ کپڑوں پر انگریزی الفاظ لکھے ہوئے نہ ہو۔ فیشن پولیس خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کرے گی۔ چارڈالر گھٹنوں سے اوپر سکرٹ پر ہوگا۔ جنوبی کورین ومغربی موسیقی رقص ، ہیجان خیز پاپ میوزک کی ممانعت (اور خلاف ورزی والا حوالہ حوالات کیا جائے گا) کردی گئی ہے۔ شمالی کوریا طالبان نما ہورہا ہے۔ امریکہ کی مزید تھرتھری چھوٹے گی۔ قوموں کی زندگی، پائندگی اور حرارت قومی اقدار وتہذیب کے تحفظ میں ہوتی ہے۔ ہم اعلیٰ ترین آسمانی تہذیب کے حامل اپنا سب کچھ بھلا بیٹھے۔ عورت اسلام میں حیا، وقار اور تقدس مآب تھی۔ اسے آزادی اور برہنگی پر رواں کرکے اس پر فخر کیا گیا ۔ حالانکہ یہ کم لباسی جس پر کوریا تڑپ اٹھا وہ ہے جو حدیث میں شدید تنبیہہ کی حامل ہے۔ (جنت کی خوشبو تک نہ پائے گی ایسی عورت ، اگرچہ جنت کی خوشبو دور دور سے آتی ہے) ہم قومی ملی شناخت مٹی میں ملانے کو سامان فخر جان رہے ہیں !ادھر طالبان نے مسلم امت کے علماء ، دینی جماعتوں، مدارس کے نام خط جاری کیا ہے، امریکی فوج کے سربراہ جنرل نیکولسن کی پریس کانفرنس کے تناظر میں۔ امریکہ ہر حربہ آزما کر بھی طالبان کو زیر کرنے میں ناکام
رہا۔ اب وہ عسکری سیاسی ناکامی کے بعد مذہبی دباؤ کا حربہ استعمال کرنے کو ہے۔ کانفرنس کرکے علماء سے فتاویٰ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مسلم عوام کو گمراہ کرنے کے لیے افغانستان میں جہاد کی شرعی حیثیت اور طالبان کی مزاحمت (کفر کی فوجوں اور قبضے کے خلاف ) کو منتازعہ بنایا جائے گا۔ سو طالبان نے علماء سے اپنی دینی ذمہ داری پہچانتے ہوئے ایسی نام نہاد اسلامی کانفرنسوں، میں شرکت سے دوررہنے کی درخواست نما تاکید کی ہے۔ مسلم عوام کو بھی قرآن، مسلم تاریخ، جہاد کے زریں ابواب پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی نگاہیں علماء کی طرف اٹھتی ہیں اور بحمد للہ اپنے تمام بگاڑ کے باوجود عوام حق پہچاننے کی صلاحیت آج بھی رکھتے ہیں۔ مداہنیت بھری آوازیں پہچان جاتے ہیں۔ سواحتیاط صد احتیاط ۔ امت فکری زوال کے اعتبار سے اس وقت تشویشناک صورت حال سے دوچار ہے۔ آپؐ کا فرمان پورا ہورہا ہے:میری امت میں ایسی اقوام رونما ہوں گی جن میں اھوأ (فکری ٹیڑھ ، خواہشاتِ نفس) یوں سرایت کریں گے جیسے کتے کے کاٹے کا اثر کہ آدمی کی کوئی رگ اور جوڑ اس کی تاثیر سے سلامت نہیں رہتا۔ سوآج مغرب کی فکری نظری عملی غلامی کا زہر رگ وپے میں اتر کر اپنے اثرات بدچہار جانب دکھارہا ہے۔ اللھم اعاذنا من ذلک۔


ای پیپر