آگے کنواں ۔۔۔پیچھے کھائی
07 جولائی 2018 2018-07-07

جو لوگ سمجھ بیٹھے ہیں کہ احتساب عدالت کے میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف فیصلے سے چی گویرا ،امام خمینی یا ’ماوزے تنگ ‘ جیسا انقلابی لیڈر ’میاں صاحب‘ کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے گا یہ ان کی خام خیالی ہے ، ’کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور‘ کے مصداق جناب بڑے میاں صاحب ملک کو لوٹنے والے وہ ’اسٹیمپڈوائٹ کالرڈ ‘چور ہیں جن کا انقلابی سوچ اور انقلاب سے کچھ لینا دینا نہیں، انہیں بس اپنی جائیدادوں اور اقتدار کی پراوہ ہے اور وہ اسی مستی میں مست لندن یاترا میں مصروف ہیں ، شیر کے نشان پر ووٹ مانگ کر ’شیردل ‘کہلانے اور شیر کی دھاڑ پرناز کرنے والے اپنی خاتون خانہ کی بیماری کے پیچھے دبک کر قوم کو نہ جانے کونسے ممکنہ ’انقلاب‘ کا خواب دکھانا چاہتے ہیں۔غیرت مند ، نڈر، وسیع القلب ، امیرِجگر اور اخلاقیات کے دھنی لیڈرز کے لئے تو ’حاضر ہو‘ کی پکار ہی کافی ہوتی ہے، یہاں تو لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کے لئے’ قصہء ناتمام ‘کی کہانی ہر نئی قسط کے ساتھ مزید بل کھا رہی ہے ۔ اخلاقیات سے عاری ، لوٹی ہوئی پکی پکائی دولت کے پجاری، ان سیاستدانوں کو اب بھی توقع ہے کہ وہ واپس آئیں نہ آئیں ، ٹینکوں کے سامنے لیٹنے والے جیالے ان کے اقتدار کو اپنی جان پر کھیل کر بچا لیں گے ، وہ پھر آئیں گے تو پھر کما لیں گے، لیکن یہ انیس سو ننانوے نہیں ،یہ دو ہزار اٹھارہ ہے ۔۔فیصلہ وہی آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی لیکن نہ تو کوئی ’ آہ وزاری ہوئی اور نہ ہی کوئی جیالا ٹینک کے آگے لیٹا ۔ نہ کسی نے خودکشی کی کوشش کی اور نہ کوئی مریم نواز کے نام پر ’ہائے مریم ۔۔ہائے مریم ‘ کرتے ہوئے دیوانہ وار’ سینہ کوبی‘ کرتا پایا گیا ۔۔ذرا غور کیجئے کہ بدنام زمانہ ایون فیلڈریفرنس کیس کی کل ایک سو سات سماعتوں میں میاں نواز شریف 78بار ، مریم نواز 80اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر 92بار پیش ہوئے ۔لیکن انہیں کبھی بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ قوموں کے’ مقدر کا سکندر ‘کہلانے والوں کی اخلاقیات کا میعار بھی اعلی پائے کا ہوتا ہے، ان کے لئے پانامہ لیکس جیسے پیپرز میں نام آجانا ہی سیاسی موت کے مترادف ہوتا ہے، مگرموروثی سیاست کے گھن چکر میں بدمست ان ہاتھی جیسے قد آور سیاست دانوں کو کیا غرض کہ اخلاقیات کیاہوتی ہیں۔’تیسری دنیا ‘ کی سیاست کے ان کرداروں کو’آئس لینڈ‘ جیسے چھوٹے ملک کے کم عمر ترین وزیراعظم کی اخلاقی برتری سے کچھ سبق تو لینا چاہیے تھا جس کے لئے ٹی وی شو کے اینکر کا محض ایک سوال استعفی کا سبب جا ٹھہرا، اور یہاں تو سماعت پر سماعت ہو تی رہی ہے لیکن شرفاء ہیں کہ ڈھٹائی سے ڈٹے رہے ہیں۔پہلے آئس لینڈ کا سن لیجئے ۔۔ سگ مندر ڈیویو(Sigmundur Davio)بحرِاوقیانوس کے شمال میں واقع ایک جزیرہ نما ساحلی ملک آئس لینڈ کے پچیسیویں اور دنیا کے سب سے کم عمر ترین وزیر اعظم تھے۔ ۔ چالیں چلنے کے ماہر
سگ مندر شطرنج کی میز پر دوستوں کے ساتھ کھیلنے بیٹھتے توکسی کو کامیابی کے قریب تک نہ بھٹکنے دیتے ۔۔ الغرض عملی شکست سے دُور۔۔ لفظ ’شکست‘ تک سے نا آشنا ۔۔سگ مندر۔۔بزنس ایڈمنسٹریشن کے میدان میں علمی معرکہ مارنے کے بعد جب عملی زندگی کی طرف آئے تو اسے بھی شطرنج کی میز سمجھ کر طبع آزمائی کرنے لگے، خاندانی طور پر سیاستدان ہونے کی وجہ صحافت کے سات سالہ کرئیر میں انہوں نے میڈیا سے نبردآزما ہونا تو سیکھا ہی تھا ساتھ ہی ساتھ لوگوں کو کس طرح متاثر کرنا ہے یہ بھی سیکھ گئے، دنیا نے پہلی مرتبہ آئس لینڈ کے ایک ایسے نوجوان رکن پارلیمنٹ کا سیاست میں عروج InDefence نامی تحریک کے ذریعے دیکھا جس کا مقصد ہی لُوٹی ہوئی رقم کو واپس لاکر بینکوں کو قرضے سے نجات دلانا تھا، ۲۰۰۸ ؁ء سے ۲۰۱۱ ؁ء تک شدید معاشی بحران میں گھرے آئس لینڈ کو اس تحریک کے ذریعے دوبارہ سے اپنے پاوں پر کھڑا کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا لیکن معیشت پر عبور کی وجہ سے انہوں نے آئس لینڈ کے تین بڑے بینکوں کی نجکاری کرتے ہوئے معیشت کو سنبھالا اور ایک منجھے ہوئے سیاست دان کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ، وقت گزرتا گیا اور سگ مندر لوگوں کے دلوں پر راج کرتا گیا ، اب اتنا ذہین شخص جو ملک کو اتنے بڑے معاشی بحران سے بچا سکتا تھا اپنے فائدے کے لئے کچھ نہ کرتا یہ کیسے ہو سکتا تھا سو سیاسی شطرنج کی چال چلتے ہوئے بلا کی مہارت رکھنے والے سگ مندر نے اس معاشی بحران کی وجہ سے دیوالیہ ہونے والے ایک بینک کے پچاس فیصد شئیرز اپنے نام کر کے ونٹرس (Wintris)نام کی ایک آف شورکمپنی کھول لی ۔ لوگ اپنے نوجوان سیاست دان پر بھرپور اعتماد کرتے تھے اس لئے یہ راز بس راز ہی رہا ۔۔ اپنی بڑھتی ہوئی پذیرائی اور مقبولیت کی وجہ سے پراگریسو پارٹی کے بینر تلے سگ مندر کو آئس لینڈ کے عوام نے ۲۳ مئی ۲۰۱۳ ؁ء کو رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم کی مسند پر بٹھا دیا ، بہترین معاشی پالیسیوں اور نوجوان دوست ہونے کی وجہ سے سگ مندر کو نوجوان حلقوں میں خاصی پذیرائی ملتی رہی۔ ونٹرس نامی کمپنی کے بارے میں موصوف نے موقف طے کر رکھا تھا کہ اگر کبھی بات نکلی تو بتایا جائیگا کہ انہوں نے یہ کمپنی اپنے صحافتی کرئیر اور اپنی بیگم عینا سفرلاگ (Anna Sigurlaug) کے ساتھ نصف شئیرز کی شرح پر بنائی ہے اور اس کا ان کی سیاست اور وزارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔ لیکن خدا نے جب لوگوں کے دلوں میں نفرت کا بیج بونا ہوتا ہے تو بڑے بڑوں کی بساط پلٹا کھا جاتی ہے ،بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں ، بڑی بڑی چالیں فیل ہو جاتی ہیں ۔۔ آئس لینڈ کے نوجوان وزیر اعظم کے ساتھ بھی یہی ہوا، اپریل ۲۰۱۶ ؁ء کو آئی سی آئی جے (ICIJ)کی جانب سے جاری ہونیوالی پانامہ لیکس میں جب وینٹرس نامی آف شو ر کمپنی کا نام آیا تو آئس لینڈ میں بھونچال مچ گیا ،نوجوان وزیر اعظم کی بدعنوانی کو بچانے کی سب تدبیریں الٹی پڑ گئیں ، پانامہ لیکس کے ایک ہفتے بعد ایک سویڈش چینل ایس وی ٹی (SVT)کے ایک تحقیقاتی شو میں جب میزبان نے سگ مندر سے وینٹرس نامی کمپنی سے متعلق سوال کیا تو وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام معلومات حکومت کو دے دی ہیں لیکن صحافی کے بارہا اصرار کی وجہ سے انہیں لائیو انٹرویو کو چھوڑ کر جانے کی ہزیمت برداشت کرنا پڑی۔ ۔۔یہاں مجھے کیوں نکالا کا تو سوال نہیں تھا پر نکالے جانے یا شرمند گی سے نکلنے کا خوف ضرور تھا، اور پھر یہی ہوا۴ اپریل ۲۰۱۶ ؁ء کو بائیس سے چوبیس ہزار افراد جو مجموعی طور پر آئس لینڈ کی کل آبادی کا آٹھ فیصد بنتے ہیں اپنے مبینہ بدعنوان وزیر اعظم کے خلاف نکل کھڑے ہوئے ، لگ بھگ پچیس ہزار افراد نے آئس لینڈ کی پارلیمنٹ کا گھیراو کر لیا ،آن کی آن میں آئس لینڈ کی سیاست کی بساط الٹ گئی اوربالآخر دنیا کے سب سے کم عمر ترین وزیر اعظم کو بدعنوانی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی پاداش میں اخلاقی طور اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا، یہ معاملہ سیاسیات سے زیادہ اخلاقیات کا ہے ۔۔اب بات کی جائے پاکستان کی تو یہاں 107سماعتیں ہو جاتی ہیں ، فیصلہ جناب موصوف کے خلاف آجاتا ہے لیکن مجال ہے کہ حضوروالا ٹس سے مس ہوئے ہوں۔میاں صاحب کو اس میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی سازش نظر آتی ہے۔چی گویرا اور امام خمینی جیسا انقلاب برپا کردینے کے خواہش مند میاں نوازشریف سے یہ اخلاقی ہمت تو ہوئی نہیں کہ احتساب عدالت میں بنفس نفیس حاضر ہو کرفیصلہ سنتے ۔تو جرم ثابت ہونے اور سزا ملنے کے بعد وطن واپسی کو آپ خارج از امکان ہی سمجھئے ۔۔لیکن یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ میاں صاحب کے لئے اس فیصلے کے بعد سیاسی زمین کے نقشے پر’ آگے کنواں ۔۔ پیچھے کھائی ‘کا منظر باآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ واپس آتے ہیں تو گرفتاری کی صورت میں جیل کی صعوبتیں ان کا مقدر جا ٹھہریں گی، ان کی سیاست ضرور چمکے گی مگراین آر او کے عادی میاں صاحب میں جیل کاٹنے کا حوصلہ آئے گا کہاں سے ۔ واپس نہیں آتے تو بدعنوان لوگوں سے چوری شدہ یا لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا قانون (Stolen Asset Recovery)یعنی (StAR)یعنی عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے’ ادارہ برائے منشیات اور جرائم کی روک تھام ‘ کے درمیان پارٹنرشپ کا معاہدہ انہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔اس معاہدے کے مطابق کوئی بھی ملک لوٹی ہوئی رقم پر سزا دینے والے شخص کو پناہ نہیں دے سکتا اور انٹرپول کے ذریعے مطلوبہ شخص کی گرفتاری اور مطلوبہ رقم کی واپسی کا ذمہ دار ہوگا۔برطانیہ اس پارٹنز شپ معاہدے میں سرفہرست ہے اور اس قانون کے مطابق میاں نوازشریف کو لوٹی ہوئی رقم سمیت پاکستان کے حوالے کرنے کا پابند ہے۔شریف خاندان کا مقدر لکھا جا چکا ۔۔ موقع موقع کی رٹ لگانے والے میاں نوازشریف صاحب کویہ فیصلہ تو بہرحال خود کرنا ہے کہ وہ کنویں کا انتخاب کرتے ہیں یا کھائی کا ۔۔۔


ای پیپر