میاں نواز شریف کی تنہائی۔۔۔!
07 جولائی 2018 2018-07-07

کوئی ایک چاک گریباں پورے تخت لاہور میں دکھائی نہ دیا،جو لندن میں بیٹھے لہور کے وارث کے لئے حال دہائی ڈالتا، شور مچاتا، واویلا کرتا، کوئی مختصر ٹولہ ، گروہ سارا دن دکھائی نہ پڑا ، جو کم زور ہی سہی مگر احتجاج تو ریکارڈ کراتا،اڈیاں گوڈے تو رگڑتا، کچھ تو کرتا۔اگر یہ بھی نہیں تو کوئی گلی کا ورکر گلا پھاڑ کر چلا ہی لیتا، یقیناًکوئی نہ کوئی کیمرہ اس کی چیخ ریکارڈ کر کے میڈیا تک پہنچا دیتا ، سنا تھا خون لگا کر بھی شہیدوں میں شامل ہونے کی ایک منافقانہ روایت موجود ہے معاشرے میں ، مگر یہاں تو تمام دن یہ جھوٹی روایت بھی مسلم لیگ نواز کے سیاسی ورکروں اوران کے رہنماؤں کی جانب سے دہرانے کے کہیں آثار دکھائی نہ دیئے۔۔ اور تو اور وہ چلبلے، شوخ اور مہنہ پھٹ نورتن بھی ڈھونڈنے سے کہیں نظرنہ آئے، جو پانامہ کیس کے ملک کی بڑی کچہری چڑھ جانے کے دن عمران خان پر پھبتیاں کس رہے تھے ، اور مٹھائیاں اڑا رہے تھے ۔۔ میاں صاحب ! پا نا مہ چند دنوں میں لوگوں کے حافظے سے اتر جائے گا آپ فکر نہ کریں کہنے والے خواجہ آصف ہوں ، یا خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال ہوںیا شاہد خاقان عباسی، سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا، سارے اپنے اپنے بلوں میں گھسے ، میاں صاحب کی تنہائی دیکھتے رہے اور وہ فیصلہ سامنے آگیا جس نے کل کے طاقت ور ترین وزیر اعظم کو بے اختیاری کے ایسے موڑ پر لا کھڑا کر دیا ہے، جہاں دور دور تک نہ کوئی ہم نفس دکھائی دیتا ہے نہ کوئی مہرباں۔۔جی ہاں ! پادشاہی کی تاریخ، اور اقتدار کی غلام گردشیں اتنی ہی ظالم اور بے رحم ہوا کرتی ہیں ، جب وقت نامہربان ہو جائے تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے ، یہ تو پہلے ہی بکاؤتھے جو کارواں کا حصہ تھے ۔۔ البتہ چھوٹے میاں صاحب کہ وہ فیصلے کے بعد سفاری سوٹ پہنے اسٹیج چڑھ گئے ، مگر وہ بھی کوئی قابلِ ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے ۔۔ محض ایک رسمی احتجاج، جسے پنجابی میں گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنا کہا جاتا ہے ۔ نہ مائیک توڑا ، نہ انگلی ہلائی، نہ حبیب جالب کا شعر ہی لہک لہک کر پڑھا ، بس وقت پورا کیا ، رسمی طور پر چند الفاظ دہرائے اور بس۔۔! سارا وقت ایسی خاموشی ، ایسا سناٹا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی نہ آئے ، حالانکہ نہ تو ملک پر کسی آمر کی حکومت ہے اور نہ ہی شاہی قلعے کی سزائیں موجود ۔ مسلم لیگ نون جو مختلف اندازوں کے مطابق اس وقت بھی ملک کی پاپولر جماعت بتائی جا رہی تھی ، وہ اپنے لیڈر کے لئے سڑکوں پر کیوں نہ نکلی، اس نے شورِ وحشت میں گریباں کیوں چاک نہ کئے، سڑکوں پر احتجاجوں کا ماحول گرم کیوں نہ کیا ؟اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر پروان چڑھنے والی یہ جماعت اس اتنی خو ف زدہ کیوں ہے کہ اس نے مشکل وقت میں اپنے لیڈر کو تنہا چھوڑ دیا ۔ کیا اس نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے ؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج سے پہلے میاں نواز شریف وہ خو ش قسمت سیاست دان رہے ہیں، جن کے سیاسی سفر میں سوائے بارہ اکتوبر 99ء کے دور دور تک کوئی ایسا موڑ کوئی کھائی دکھائی نہیں پڑتی جس پر زوال کا شائبہ بھی گزرے۔گورنر غلام جیلانی کا گملے میں لگایا گیا یہ نرم ونازک پودا ، 2017ء تک آتے آتے ایک ایسا تناور درخت بن چکا تھا ، جس کو زوال کی پرچھائیاں کبھی چھو کر بھی گزر سکتی ہیں ، بادی النظر میں یہ تصور بھی محال تھا ۔ سنہ 81ء میں پنجاب کا فنانس منسٹر بننے والا میاں نواز شریف اول اول اپنا خاندانی کاروبار بچانے سیاست میں آیا تھا ، اس کے بعد ہوا کچھ اتنی موافق اور ہموار رہی کہ کبھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کی فرصت نہ ملی ۔ 85ء سے 88ء تک اس ملک کے متنازعہ ترین صدر جنرل ضیا ء الحق کی زیرِ سر پرستی ملک کے سب سے بڑے صوبے کی حاکمیت سے لطف اندوز ہوئے اور ، جب جنرل ضیاء نے ملک کے منتخب وزیر اعظم محمد خان جو نیجو کو برطرف کر کے اسمبلیاں تحلیل کر دیں اور نئے انتخابات کا اعلان کیا تو ان کے فیورٹ نواز شریف کا سیاسی مستقبل کچھ اور تابناک ہو کر سامنے آنے لگا ، مگر اگست 88ء میں جنرل ضیاء کی ناگہانی موت نے بظاہر ان کے سیاسی مستقبل کو ڈانو ڈول کر دیا ۔مگر حقیقتاً یہ موڑ ان کی خو ش قسمتی کا ایک نیا پیغام لے کر آیا ، اور نیا سیاسی منظر نامہ کچھ یوں بنا، کہ انتخابات دسمبر میں ہو گئے اور جنرل ضیاء کی بنائی ہوئی پاکستان مسلم لیگ ( پگاڑا گروپ ) دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔جونیجو اور فدا گروپ میں ۔ فدا گروپ چونکہ مرحوم جنرل کے وفاداروں کا تھا ، چنانچہ نواز شریف اس کے سر براہ بن کر اسے چلانے لگے ۔دوسری جانب ناراض جونیجو اور ان کی ناراض مسلم لیگ تھی ،مگر ان کا آپس میں ٹکراؤ اس لئے نہ ہو سکا کہ اب بھٹو مرحوم کی بیٹی ، پی پی کا جھنڈا اٹھائے میدان میں اتر آئی تھی اور انہیں للکار رہی تھی ۔۔فوج اور خفیہ اداروں نے ناراض مسلم لیگیوں اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دے کرانہیں میدان میں اتارا ، انتخابات ہوئے اور میاں نواز شریف دوبارہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بن گئے ۔۔پی پی نے ان کے خلاف نو کونفیڈنس ووٹ کی موو چلائی مگر وہ 106 کے مقابلے میں152ووٹ لے کر کامیاب رہے ۔۔
اب صوبائی قیادت سے قومی قیادت کا سفر شروع ہوا، یہ 90ء سے93ء تک کا تھا ۔ جس میں میاں صاحب نے چھانگا مانگا ، ہارس ٹریڈنگاور لفافوں کا نیا کلچر سیاست میں داخل کر کے سیاست کو منفعت بخش کاروبار میں ہی نہیں بدلا، بلکہ اسے بکاؤ بھی کر دیا ، جس کے بعد پی پی اور مسلم لیگ میں کھنچا تانی کا دور شروع ہوا ، دونوں جماعتوں نے دو دو باریاں لیں ، مگر ادھوری ، کہ ہر بار اسمبلیاں تحلیل ہوتی رہیں، اور سیاست میں بکنے بکانے کا سلسلہ جاری رہا ۔اکتوبر 99 کا باب تاریخ میں ایک نئی سیاہی لکھ کر ختم ہوا، میاں نواز شریف ، پرویز مشرف سے ایک خفیہ ڈیل کے بعد اپنے خاندان سمیت راتوں رات جدہ سدھارے اور اپنے پیچھے پارٹی کو یتیم کر گئے ، ان سیاسی یتیموں نے ، آمر کی چھتری تلے پناہ حاصل کر کے انتخابات میں حصہ لیا، اور گجرات کے چودھریوں کو پیارے ہو گئے ۔۔ ایک طویل عرصہ جلاوطنی میں گزار کر میاں ساحب جب واپس لوٹے تو بڑے بڑے جید صحافیوں نے ان کے متعلق اچھے گمان باندھے، اور ان کی بدن بولی کے بدل جانے کے اشارے دیئے ،یہ دن ملک میں عدلیہ بحالی کی تحریک کے تھے ، جس میں شامل ہو کر میاں صاحب نے اپنی سیاسی پختگی کاثبوت پیش کیا ، اور ایک بدلے ہوئے لب و لہجے میں، بات کر کے قوم کو اپنے بارے میں ایک نئی خوش امیدی میں مبتلا کر دیا ۔
سیاسی کبوتران کی چھتری پر واپس آکر غٹرغوں کرنے لگے،وردی پوش ، شیروانی پہن کر اپنی بے پناہ طاقت سے محروم ہو گیااور پی پی ملک کے اقتدار کی ترجمان بن گئی ۔۔ وہی پی پی جس سے جلاوطنی کے زمانے میں جناب میاں نواز شریف میثاقِ جمہوریت باندھ چکے تھے اب دونوں جماعتیں بظاہر ایک دوسرے کی حریف تھیں ،مگر تحریک انصاف کے معاملے میں دونوں ایک ساتھ دکھائی دیتی تھی ۔۔
2013ء کے انتخابات کے نتائج قوم کے لئے ہی نہیں خود نون لیگ کے لئے بھی خاصے غیر متوقع تھے ، وہ اسٹیبلشمنٹ جس کی دہائی گزشتہ ایک ڈیڈھ سال سے میاں نواز شریف برابر دے رہے ہیں ، غالباََ یہ اسی کا چمتکار تھا ، جس نے نون لیگ کو ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت کے طور پر مقبول کر کے انہیں اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیا ۔۔ مگر میاں صاحب نے اقتدار حاصل کر نے کے بعد جلدہی یہ ثابت کر دیا کہ وہ اچھے کاروباری بھی ہیں اور سیاست دان بھی ، مگر لیڈر کہ ان میں نہ تو یہ صلاحیت موجود ہے اورنہ ہی وہ اس صلاحیت کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ۔۔ یہی وجہ جلدہی عوام پر ان کی عوام دوستی کا بھید کھل گیا، انتخابات میں دھاندلی ، لوڈ شیڈنگ ، بھارت سے محبت کی پینگیں ، ان کے ذاتی کاروبار کی دھومیں، اسحاق ڈار کی جعلی معاشی ترقی وغیرہم ، کے معاملے شروع ہو گئے ۔ ان حالات میں پانامہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں میاں صاحب کی نااہلی کا تاریخی فیصلہ سامنے آتا ہے ۔ جس کے بعد مجھے کیوں نکالا کا طویل ایپی سوڈ شروع ہوتا ہے ۔ اس دوران نیب کا ادارہ جس کا بنیادی مقصد ا س ملک کے خائن اور کرپٹ لوگوں کے لوگوں کا احتساب تھا ، وہ ان کی سہولت کار کا روپ دھار چکی ہے ۔ مک مکا کے بعد گنہہ گاروں کی ڈرائی کلینگ کا سامان کرنے والا یہ ادارہ ، ایک مذاق بن چکا ہے ۔ جسے میاں صاحب کی نااہلی کے بعد ، اس کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی سنجیدہ کوشش شروع ہوئی اور جب اس نے سچ مچ کے احتساب کا آغاز کیا تو میاں صاحب اور ان کے حواریوں نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا ، کاش ہم اس ادارے کو ختم کر چکے ہوتے ۔ اسی طرح جب آئین کی 62, 63 شق نے انہیں گھیرا تو اسی لہجے میں انہوں نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا ، کاش ہم نے صادق اور امین کی شق کو آئین سے نکال دیا ہوتا ۔۔ اس وقت ایسے بہت سے کاش ہیں اور میاں ساحب کی تنہائی ہے ۔ انہوں نے فیصلہ آنے کے بعد پریس کانفرنس میں لندن سے واپس آنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ، ایک صحافی نے ان سے واپسی کی تاریخ پوچھنے کی کوشش کی ، جواب آیا ، بیگم کلثوم نواز کے ہوش میں آنے کے بعد اس کا فیصلہ ہوگا ۔۔
یہ جواب اس امر کی نشاندہی کو کافی ہے کہ وہ اس ضمن میں کتنے واضح ہیں ۔ اپنی بیوی کی بیماری کی آڑ میں سزا سے بچنے کی کوشش کرنے والے میاں صاحب ، اڈیالہ جیل جانے کے لیئے کتنے تیار ہیں ؟۔ لگتاہے اٹک جیل اب بھی نائٹ میئر کی طرح ان کے ساتھ ہے پارٹی میں ان کی غیر موجودگی اور سزا بہت بڑا شگا ف ڈال چکی ہے ، انتخابات میں وہ پہلے ہی حصہ نہیں لے سکتے ، تو پھر کیا وہ اس پارٹی کے لئے سزا کا پھندا گلے میں ڈالنے آئیں گے، جو ان کے حق میں ایک جھوٹے احتجاج کا بوجھ اٹھانے کے لئے بھی تیار نہیں ۔ میاں نواز شریف کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سب سے پہلے کاروباری ہیں ، اور اس کے بعد سیاست دان ، لیڈر ہوتے تو 99ء میں خفیہ ڈیل کر کے اپنا ساز وسامان سمیٹتے سرور پیلس میں پناہ گزین نہ ہوتے ، اٹک جیل کے قیدی نمبر 1500 کی شناخت محفوظ رکھتے ، کہ جیل ایک لیڈر کا گھر ہوتی ہے ، جو اسے خام سے پختہ کرتی ہے اور سیاست دان سے لیڈری کے منصب تک پہنچاتی ہے ۔ اگر میاں ساحب اب بھی یہ نکتہ سمجھ جائیں تو وہ اپنی سیاسی ساکھ بچا سکتے ہیں ، وگرنہ گمنامی اور سزا کے اندھیرے انہیں نگلنے کو بے تاب ہیں جن سے اب انہیں کوئی نہیں بچا سکتا ۔۔


ای پیپر