کپتان کی مہربانی
07 جولائی 2018 2018-07-07

جو ’’ نیک شہرت ‘‘ ہمارے کپتان جی کامقدر ہے ،دوسرا سیاستدان تو اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔کیونکہ موصوف اوائل عمری ہی سے ایسا کچھ ’’خاص ‘‘ کرنے پر قدرت رکھتے ہیں جو انہیں بام عروج عطا کرتی ہے، عہدشباب میں کرکٹ کے میدان میں قدم رکھا اور نام کمایا قسمت کی دیوی ان پے پھر اتنی مہربان ہوئی کہ عالمی کپ اس ریاست کے نام کرنے میں کامیاب رہے۔کامیابی کے اسی دروازہ سے انہوں نے سماجی خدمت کے میدان میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی والدہ کے نام اک بڑا شفاخانہ قائم کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔موصوف کے جذبہ انسانیت کو دیکھتے ہوئے عوام نے بھی ان پر بھر پور اعتماد کیا اور انکی جھولی میں اربوں روپے ڈال دیئے ۔اس ماحول کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اس رعایا کا بادشاہ بننے کی خواہش دل میں پال لی ا ور سیاسی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ عالمی سطح پر بھی لیا جارہا تھا وہ مخصوص ’’قوتیں‘‘ جنہیں ہمیشہ عالمی سطح پر کچھ کر گذرنے اور ریاستوں میں مداخلت کا شوق ہوتا ہے وہ متحرک ہوگئیں انہیں شاید اس طر ح ہی کے ’’گھوڑے ‘‘ کی تلاش تھی کہ جس پر وہ سوار ہوکر اپنی منزل کی جانب سے رخت سفر باندھیں، قربانی کیلئے گولڈ سمتھ آگے بڑھے اور اپنی خوب رو دوشیزہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں تھما دیا باقی معاملات نوزائیدہ جوڑے پے چھوڑ دیئے ،حالات نجانے کیوں سازگار نہ رہے اور یہ بندھن کانچ کی چوڑی ثابت ہوا البتہ اس کا فائدہ یہ ضرور ہوا کہ موصوف صاحب اولاد ہوگئے کپتان جی داغ مفارقت دے کر وطن واپس لوٹ آئے البتہ اولاد کی پرورش کی ذمہ داری کا بوجھ جمائما کے ناتواں کندھوں پے ڈال آئے۔ویسے بھی ماں کی ممتا چھیننا وہ آداب کے خلاف تصور کرتے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ موصوف سیاسی میدان میں اتررہے تھے تو انہیں ان کے بہی خواہوں نے مشور ہ دیا تھا کہ وہ سماج میں تبدیلی کا ’’جنون ‘‘دل میں اگر پال چکے ہیں تو اسکا آغاز تعلیم کے شعبہ سے کریں اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرکے اس قوم کو خواندہ بنائیں۔ موصوف تو شاید کان دھر ہی لیتے لیکن ان کو مانیٹر کرنے والوں نے اس پے رضا مندی ظاہر نہ کی جس طرح ہمارے ہاں وڈیرہ ، جاگیردار، سردار تعلیم کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتا ہے اس طرح عالمی قوتیں بھی ہمیں تعلیم یافتہ دیکھنا نہیں چاہتیں۔ موصوف توقعات پر پورا اترے اورپھر صاحب اقتدار بننے کی دوڑ میں شریک ہوگئے۔اپنی موجودگی کا پہلا ثبوت انہوں نے جنرل مشرف کے ریفرنڈم کی حمایت کرکے دیا اورپھر باقاعدہ قومی سیاست میں عملاً شامل ہوگئے دن بھر کی تھکن اتارنے کیلئے انہیں شریک حیات درکار تھی۔شو مئی قسمت کہ اک اینکر نے انہیں انٹرویو کیلئے مدعو کر لیا یہ ’’ٹاکرہ‘‘ بڑا نیک ثابت ہوا کمرے سے نکلنے کے بعد احساس ہوا کہ دل تو وہیں چھوڑ آئے ہیں وہ دن بھی آگیا جب وہ اینکر قوم کی ’’ بھابھی ‘‘ بن کر وارد ہوئیں۔پالتو جانور پالنے کا شوق موصوف کو لے ڈوبا اور انکا’’ شیرو‘‘ خانگی حیاتی میں رکاوٹ بن بیٹھا۔
ذرائع بتاتے ہیں کبھی کبھار موصوفہ او ر ’’شیرو ‘‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کپتان کیلئے انتہائی مشکل ہوجاتا ، اس رویہ نے آگے چل کر راہیں جدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور پھر پنجابی والی ’’ ٹٹ گئی تڑک کرکے ‘‘ والی صورت حال بن گئی ان کے پیروکار موصوف کے دفاع میں نکل کھڑے ہوئے اب ماضی کی بھابھی زیر عتاب تھی۔ موصوفہ نے بھی چین نہ لیا اور اک کتاب لکھ ڈالی۔کتاب کا مسودہ عین اس وقت منظر عام پر آیا جب نئے انتخابات کی تیاری جاری تھی کپتان کے ’’فالورز ‘نے تمام اخلاقی اقدار بالائے پشت ڈال کر اپنی سابقہ ’’ بھابھی‘‘ کی وہ کلاس لی کہ ہر شریف آدمی کانوں کو ہاتھ لگانے پے مجبور ہوا اس فریضہ کوادا کرنے میں ہر عمر کے فرد نے ’’ ثواب ‘‘ سمجھ کر شرکت کی یہ اسی’’ تربیت ‘‘ کا خاصہ تھا جو دھرنوں کے دوران بذریعہ کنٹینر دی جاتی رہی۔ دھرنوں میں مخلوط محافل کا انعقاد ہمارے سماجی کلچر کے بالکل برعکس تھا لیکن ان قوتوں کے عین مطابق تھا جو خاں کی صلاحیتوں کا جائزہ لیتی رہتی اور لندن یاترا کے دوران راہنمائی فرماتیں۔
موصوف اک بار پھر تنہائی کاشکار ہوئے تو اک پیر گھرانہ متحرک ہوگیا اسے انکا گھر آباد کرنے کی فکر لاحق ہوئی پھر وہ وقت بھی آن پہنچا کہ موصوف تیسری بار ’’ لاڑا ‘‘ بن گئے۔ ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ یہ تعلق جو پہلے پیر اور مرید کا تھا اب میاں بیوی میں ڈھل گیا ہم نے بھی خوشی کے شادیانے بجائے موصوف کا گھر تو آباد ہوا اب پوری دلجوئی سے سیاسی ورک پے توجہ مرکوز ہوگی۔ کپتان تو پہلے ہی بہت نمایاں تھے لیکن ان کی اک حرکت نے انہیں اور بھی زیادہ مشہورکردیا۔عمرہ کی ادائیگی سے تازہ تازہ زوجہ محترمہ کے ساتھ واپس لوٹے لیکن موصوفہ کی خواہش پر اک آستانہ پر جانکلے اور پھر اسکی چوکھٹ پر سجدہ کرڈالاجسکی ویڈیو نے دھوم مچا دی یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی علماء کرام کے فتوے، آراء آنی شرو ع ہوگئیں اک طوفان کھڑا ہوگیا ان کے فالورز بھی دفاع میں نکل کھڑے ہوئے مخالفین کے سجدے ڈھونڈ ڈھونڈ کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے لگے ا،ندھی تقلید کا وہ تماشہ لگا لیکن موصوف نے بھی توبہ کرنے یا غلطی تسلیم کرنے کی بجائے وضاحت کرنا ہی مناسب سمجھا۔تاہم انکی مہربانی سے وہ غلط فہمی دور ہوگئی جو ضعیف العقیدہ افراد میں پائی جاتی تھی کہ ہمہ قسم کا سجدہ کرنا جائز ہے اس ویڈیو کا مثبت پہلو یہ ہوا کہ مزارات پر اس بڑی خرافات کے حوالہ سے یہ بڑا واضح پیغام عوام تک پہنچا کہ سجدہ کسی بھی حالت میں غیرکو جائزہ نہیں یہ حق صر ف رب کریم کا ہے اس کی وساطت سے ان افراد کو سبق ملا ہوگا جو بعض حضرات کو سجدہ کرتے ہیں جن کے وہ معتقد ہوتے ہیں اس طرز کی ویڈیوز بھی میڈیا پے دکھائی جاتی ہیں۔
گمان یہ کیا جاتا ہے کہ موصوف فرط جذبات سے چوکھٹ پے سجدہ ریز ہوئے تاہم یہ معاملہ ابھی حل طلب ہے کہ وہ کس کی ’’محبت ‘‘میں ایسا کرنے کے مرتکب پائے گئے جنہیں یہ شکوہ ہے کہ کپتان نے نسل نو باغی بنا دیا انہیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ موصوف اپنے فعل سے نوجوانان کو ’’ مودب شوہر ‘‘ بنانے کے پراجیکٹ پر کام شروع کر دیا ہے۔ کپتان جی عمر کے جس حصہ میں ہیں یہ بڑی سنجیدگی ،متانت کا تقاضہ کرتی ہے، آکسفورڈ سے فارغ التحصیل طالب علم سے یہ توقع تو رکھی ہی جاتی ہے کہ وہ اپنے دین کا کم سے کم علم رکھتا ہو۔فقہائے کرام کی رائے میں قرآن و حدیث سے صرف تین مقامات الحرم، مسجد نبوی اور بیت المقدس کی زیارت جائز اور عبادت شمار کی جاتی ہے عمرہ کی ادائیگی کے بعدموصوف نے کیا کمی محسوس کی تھی کہ درگاہ کی طرف جانا ضروری سمجھا؟ ۔روایت ہے کہ لاہور کامیراثی عمرہ کرنے گیا اور بیمار ہوگیا تو اس نے گھرو الوں کو اپنی طبیعت کی اطلاع دی اور خانہ کعبہ میں بیٹھ کر بذریعہ فون درخواست کی کہ داتا صاحب جاکر اسکی صحت یابی کی دعا کریں موصوف جنہیں ’’ بادشاہ ‘‘ بننے کا ’’جنون ‘‘ ہے انکا وژن تو میراثی سے زیادہ وسیع ہونا چاہیے۔


ای پیپر