فیصلہ
07 جولائی 2018 2018-07-07

لو جی نیب عدالت نے اپنے فیصلے میں کرپشن کو لے کر نواز شریف کو کلین چٹ دے دی ہے۔ فیصلے میں لکھا ہے نواز شریف پر کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ کرپشن کے الزام سے بری۔ زیر کفالت افراد کے نام جائیداد رکھنے پر سزا۔ یعنی دادا کی کمائی سے پوتوں نے جو گھر خریدے۔ اس کی سزا باپ کو دے دی ہے۔ بقول عدالت اس کا ثبوت کوئی نہیں لیکن مفروضہ یہ ہے کہ پراپرٹی نوازشریف کی ہے۔کیونکہ جے آئی ٹی ایسا سمجھتی ہے۔
انگلینڈ میں پراپرٹی خریدنے اور پراپرٹی رکھنے کے قوانین اتنے سخت ہیں کہ کرپشن تو دور کی بات کسی مالی بے ضابطگی کی بھی گنجائش نہیں۔
جرمانہ پاؤنڈ سٹرلنگ میں کیوں کیا گیا۔ کیا پاک کرنسی تبدیل ہو گئی ہے۔ کیا پاک گورنمنٹ یا پاک عدالت لندن میں کسی برٹش شہری کی جائیداد کی ضبطی کا حکم جاری کر سکتی ہے۔ اور زیر کفالت افراد کا معاملہ بھی ابھی طے ہونا باقی ہے۔ اس لیے کہ نوازشریف کا یہ کہنا ہے۔ یہ فلیٹ ان کے بچوں نے 1992 میں اپنے دادا کی کمائی سے خریدے تھے۔ یعنی پورا فیصلہ ہی رٗنگ بازی پر مشتمل ہے۔
لڑائی تو دو ہاتھیوں یعنی اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کے درمیان ہو رہی ہے۔ اور آج کے فیصلے کے بعد اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ختم نہیں ہوئی لیکن یہ تحریک انصاف کے سیانے اتنے خوش کیوں ہو رہے ہیں۔ کہیں سیاسی میدان مخالفین سے خالی ہونے کی امید پر اچھل کود تو نہیں کر رہے ؟
فیصلے میں بار بار تاخیر اور نواز شریف کی جانب سے ڈیل سے انکار کے بعد سزا کا اعلان پاکستان کے منتخب وزیراعظم نواز شریف نے آئین شکن فوجی آمر جنرل مشرف کے خلاف بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا۔ آج جنرل مشرف آزاد ہیں۔ ان کے مقدمات مؤخر ہیں۔ ان کی جائیداد اور
بینک اکاؤنٹس محفوظ ہیں۔ عدالت ان کی عدم موجودگی میں ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بحال کر چکی ہے جبکہ ان پر بغاوت اور غداری کا مقدمہ قائم کرنے والا منتخب وزیراعظم تا حیات نااہل ہو چکا ہے۔ وزارت عظمی سے نکالا جا چکا ہے۔ پارٹی صدارت سے برخواست ہو چکا ہے اور آج اسے اور اس کے بچوں کو سزا بھی سنا دی گئی ہے کیونکہ نوازشریف جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ کسی ڈیل کے لیے تیار نہیں۔ جھک جاتا تو سزا نہ ہوتی۔ خاص طور پر مریم نواز کی سزا بڑی معنی خیز ہے۔ ایک خاتون جس نے کبھی کوئی پبلک عہدہ استعمال نہیں کیا۔ کبھی ممبر پارلیمنٹ نہیں رہی۔ اسے سات سال سزا کے علاوہ دس سال کے لیے الیکشن لڑنے سے بھی نااہل کر دیا گیا ہے۔ اس بنا پر کہ وہ اپنے باپ کے جرائم میں شامل ہے۔ وہ جرائم جو ثابت نہیں ہو سکے۔ اور خیالی تنخواہ کی طرح خیالی پراپرٹی کے مفروضے پر سزا دی گئی۔ یہی نااہلی بتا رہی ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ مریم نواز کی سیاست میں آمد اور اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کی پالیسی سے کس قدر خوفزدہ ہے۔ یہ وہی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ جو وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سلیوٹ کرنے میں اپنی تضحیک محسوس کرتی تھی۔ یہ لوگ تو ایک مرد وزیراعظم کو سلیوٹ نہیں کرتے۔ سٹک سے کھیلتے رہتے ہیں۔ بائیسویں سکیل کا ایک افسر کس قدر بے اعتنائی کے ساتھ اپنے باس کے برابر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ باس جو 22 کروڑ عوام کا منتخب وزیراعظم ہے۔ ایسے میں ایک کل کی بچی کے سامنے کل کو کس طرح پیش ہو سکتے ہیں اگر وہ وزیراعظم بن جاے۔ چنانچہ سوچا گیا ابھی سے اس سے جان چھڑوا لی جائے۔ پہلے بے نظیر کو قتل ہونا پڑا تھا۔ اب ایک اور عورت کا سیاسی گلہ گھونٹا گیا ہے۔ فاطمہ جناح کا حال بھی سب کو معلوم ہے۔ جنہیں ایوب خان نے سکیورٹی رسک ڈکلیئر کیا۔ اور جن کی وفات مشکوک حالات میں ہوئی۔ اس ملک میں آزاد مرد وزیراعظم قبول نہیں۔ خواتین کو کیسے اجازت دی جا سکتی ہے۔ وہ حکمران بن جائیں۔ ویسے بھی ایک باپ کو ڈرانے کے لیے ، اسے اپنے ڈھب پر لانے کے لیے اس کی بیٹی کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا ہمارا ہی خاصہ ہے۔
لیکن ٹھہریں۔ یہ سزا ، یہ نااہلی یہ جرمانہ اور جائیداد کی ضبطی برسوں پہلے اسی فوجی آمر جنرل مشرف کے دور میں بھی اسی طرح کی عدالت نے سنائی تھی۔ تب بھی کہا گیا تھا۔ نواز شریف کی سیاست ختم ہو گئی ہے اور پھر سب نے دیکھا نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے۔


ای پیپر