بارشی پانی پے سیاست
07 جولائی 2018 2018-07-07

میرے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میں سابق حکومت کا سخت ناقد تھا کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا گیا کہ اس کی وہ پالیسی جو عوام کے لئے زیادہ سود مند نہ ہو اسے تنقید کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ مگر میں نے اس کے بہتر اقدامات کی تعریف بھی کی ۔ اب جبکہ وہ اپنا مقررہ وقت پورا کر کے جا چکی ہے تو اسے پہلے والی پوزیشن میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان دنوں مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے کالی گھٹائیں آتی ہیں اور برس جاتی ہیں جن سے پل بھر میں جل تھل ہو جاتا ہے۔ گلیاں سڑکیں اور شاہراہیں گویا دریا کا منظر پیش کرتے ہیں۔ بارش کا پانی گھروں کے اندر بھی گھس جاتا ہے۔ زیادہ تر نشیبی علاقے متاثر ہوتے ہیں۔ غریبوں کی بستیوں میں تو یہ پانی اودھم مچاتا ہے اور ان کے سامان زیست کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیتا ہے۔ مگر اس کا ذمہ دار گذشتہ حکومت کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کے خلاف ایک غم و غصے کی لہر سی بھر آئی ہے۔ کہ انہوں نے پانی کے نکاس کا مناسب بندوبست نہیں کروایا۔ ؟
عجیب بات ہے بارش کے برسنے اور پھر چھما چھم برسنے کا ذمہ دار بھی شہباز شریف ہی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا دوسرا الیکٹرانک دونوں نے تیزی دکھانا جاری رکھا ہوا ہے۔ دیکھیں جی اگر حکومت ٹھیک کام کرتی تو لاہور نہ ڈوبتا ان سب سے پوچھنا جا سکتا ہے کہ اگر مینہ منٹوں کے بجائے گھنٹوں برستا ہے اور ڈانگوں کی طرح برستا ہے تو اسے کیسے گھروں میں گھسنے نہروں ندی اور نالوں کی شکل اختیار کرنے سے روکا جاسکتا ہے ایسے پانی کا کسی صورت نکاس ہو ہی نہیں سکتا۔ ہاں پہاڑی علاقوں میں چاہے کتنی ہی بارش ہو اس کا پانی ساتھ ساتھ بہتا جاتا ہے جمع نہیں ہوتا تو کیا لاہور یا اس کے آس پاس شہروں کی سطح عمودی ہے۔ نہیں وہ ہموار ہے لہٰذا پانی ٹھہرے گا بھر آہستہ آہستہ آگے کی جانب رواں ہوگا۔ مگر کیا کہنے تنقید نگاروں کے کہ انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ بس جی حکومت نے شہر تباہ کر دیا۔ اُدھر جی پی او چوک میں سڑک بیٹھ گئی تو بھی واویلا کیا گیا کہ یہ کارکردگی ہے شہباز شریف کی۔ مگر شہباز شریف رولا بڑا ڈالتے ہیں کہ ان کی حکومت مثالی تھی جس نے اورنج ٹرین منصوبہ یا یہ مکمل کو پہنچایا میٹرو جلد کر دکھا دی کشادہ سڑکیں پل ہسپتال بنا دیئے۔ سکول کالج تعمیر کیے وغیرہ وغیرہ مگر حالت یہ ہے کہ سب ریت ثابت ہو رہا ہے۔
ناقدین کو سوچنا چاہئے کہ سڑک ہو سیوریج یا کوئی اور اس طرح کی تعمیر ‘ اس میں تھوڑی بہت خامی رہ جاتی ہے۔ کہ ہم جنہیں مہذب ممالک تصور کرتے ہیں وہاں بھی ایسا ہو جاتا ہے۔ اور پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ وہاں بھی سیلاب آتے ہیں بارشیں ہوتی ہیں جو سب کچھ ڈبو دیتی ہیں کیا ان کی حکومتیں کاہل ہوتی ہیں ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام نہیں کرتیں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ دیانت داری محنت لگن اور پوری تن دہی سے اپنا فرض ادا کرتی ہیں مگر بارشوں اور سیلابوں جب وہ انتظامات کی حدود کو پھلانگ جاتے ہیں بے بس دکھائی دیتی ہیں مگر کوئی سیاسی جماعت اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتی۔ میں مانتا ہوں کہ کہییں کہیں کوئی فنی خرابی کی بناء پر بھی بارشی پانی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر جب اوپر سے پھوار نہیں پھوارے چھوٹ رہے ہوں تو انہیں کنٹرول کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا عرض ہے تو اتنی کہ ایسی صورت حال میں مل جل کر لوگوں کا جو متاثرین ہوں ان کو ریلیف دینا چاہئے نا کہ ان اے یہ کہلوایا جائے کہ حکومت بُری ہے؟ اور ہمارے عوام بھی حقائق جاننے کی زحمت بہت کم ہی کرتے ہیں اور سیدھے حکمرانوں پر برس پڑتے ہیں۔ انہیں بھی اس امر کا فہم ہونا چاہئے کہ ہر قصور حکومت کا نہیں ہوتا اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ بعض معاملات میں خود بھی ذمہ دار ہوئے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ کہ سیوریج کے نظام میں خلل اس کچرے سے آتا ہے جیسے اس میں بہایا جاتا ہے۔ اور وہ آہستہ آہستہ کہیں جمع ہوتا رہتا ہے پھر گندہ پانی سڑکوں پر بلکہ گھروں میں داخل ہو جاتا ہے میں تو حیران ہوں ان کسانوں پر جو اپنے کھیتوں میں کھڑے ہونے والے پانی کو بھی شہباز شریف یا حکومت کا کیا دھرا کہتے ہیں؟ ہمیں سوچنا پڑے گا کہ یہ طرز عمل اور یہ طرز سیاست کسی طور بھی درست نہیں۔ اکتہر برسوں میں بھی ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ بات کا بتنگڑ بنانے میں ذرا دیر نہیں کرتے۔ بس سیاست برائے سیاست کی جا رہی ہے سنجیدگی متانت اور غورو فکر سے دُور ہوتے جا رہے ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ انتظامیہ کو بری الذمہ قرار دیا جائے حکومتوں کو ہرف تنقید نہ بنایا جائے۔ اور ان کے ہر ایک پہلو سے چشم پوشی اختیار کی جائے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے مگر جو حقیقت ہے اسے پیش نظر رکھنا ہی ہمارے لئے بہتر ہے اب اور جذباتی کیوں ہوا جائے۔ چلئے عوام تو بڑی حد تک تبدیل ہوسکتے ہیں مگر ان سیاستدانوں کا کیا کیا جائے جو خود کو اقتدار میں دیکھنے کے لئے الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں عوام کو اپنے سیاسی چنگل میں پھنسانے کے لئے ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ انہیں طرح طرح کی پٹیاں پڑھاتے ہیں اور سادہ لوح عوام انہیں سچ مان کر آپس میں الجھنے لگ پڑتے ہیں اب جبکہ بارش سے شہروں بالخصوص لاہور صوبائی دارالحکومت میں کچھ نقصان ہو رہے تو عمران خان سمیت دیگر نے خوب پچھلی حکومت کو
کھری کھری سنا ڈالی ہیں وہ ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ اگر ان کی حکومت ہوتی تو پھر کیا ہوتا۔ وہ شور مچائیں تعلیم صحت تھانہ کچہری کے حوالے سے کہ ابھی تک وہ جوں کے توں ہیں اور اگر کوئی فرق پڑا بھی ہے تو وہ آئے میں نمک برابر ہے سرکاری اداروں میں رشوت کا بازار گرم ہے ۔ کمیشن مافیا بھی دلیری سے۔ مصروف عمل نظر آتا ہے۔ بلا شبہ کچھ ضرور ہوا ہے ان کی روک تھام کے لئے جیسا کہ فوڈ اتھارٹی ہے وہ خوراک کے حوالے سے بہت کام کر رہی ہے اور اس سے یقینی طور سے بہتری آئی ہے۔دواؤں کی تیاری اور فروخت بھی بہتر ہوئی ہے لہٰذا آنکھیں بند کر کے کسی کو بھی کسی سے متعلق کچھ کہنا جائز نہیں ہمیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تا کہ کل جب خود کو کوئی جواب دینا پڑے تو اس میں دشواری پیش نہ آئے۔ بارشی پانی قابو میں بھی آسکتا ہے اور بے قابو بھی ہوسکتا ہے لہٰذا اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے کہ اب ہمیں آگے پڑھنا ہے نئے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا ہے۔


ای پیپر