تبادلوں کا طوفان !
07 جولائی 2018 2018-07-07

اس ملک کی اصل قوتوں نے اپنی طرف سے انتخابات کو صاف شفاف بنانے کے لیے تبادلوں کا ایسا طوفان بدتمیزی برپا کردیا ہے۔ سمجھ نہیں آرہی یہ عمل الیکشن کو صاف شفاف بنانے کے لیے کیا گیا ہے یا مزید گند ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے ۔بے شمار سول وپولیس افسران کے تبادلے کرکے اس تاثر کو مکمل یقین میں بدل دیا گیا ہے کہ ہماری بیوروکریسی خود کو سیاسی حکمرانوں کا غلام بنالیتی ہے اور ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی مختلف معاملات میں ان کی مددگار ہوتی ہے۔ یہ بات کسی حدتک درست بھی ہے، مجھے سمجھ نہیں آتی ہربار انتخابات میں اسی طرح کے تبادلوں کا طوفان برپا کرنے کے بجائے اصل قوتیں کوئی ایساسسٹم کیوں نہیں لے کر آتیں جس کے تحت سرکاری افسران کسی سیاست کا حصہ نہ بنیں۔ بلکہ فوجی اور عدالتی افسران بھی نہ بنیں ۔ وہ سارے کام دیانتداری اور میرٹ کے مطابق کریں۔ جیسا کہ مہذب ممالک اور معاشروں میں ہوتا ہے۔ مجھے بڑی شرم آئی جب کینیڈا کے ایک ممبر پارلیمنٹ نے مجھ سے کہا ”آپ کے ہاں پاکستان میں ہر انتخابات سے پہلے تبادلوں کا اتنا بڑا ریلہ کیوں آتا ہے؟ ہمارے ہاں تو انتخابات کے موقع پر ایک کانسٹیبل تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی“ ....میں نے اپنی ”صفائی“ میں جھوٹ بولنے کی کوشش کی صاف ظاہر ہورہا تھا وہ اس سے مطمئن نہیں ہورہا ۔....میرے خیال میں اس ملک کی اصل قوتیں خود سسٹم ٹھیک نہیں کرنا چاہتیں۔ ہر معاملے میں گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑی جارہی ہے۔ ورنہ صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے تھوک کے حساب سے سرکاری افسروں کے تبادلوں کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جو نہیں کیا جارہا۔نہ کیا جائے گا۔ کیونکہ صاف شفاف الیکشن اس ملک میں کبھی ہوئے ہی نہیں۔ اب بھی جوں جوں انتخابات قریب آتے جارہے ہیں یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ صاف شفاف انتخابات کے عمل کو بس دکھاوے کی حدتک ہی ممکن بنایا جائے گا، .... چاروں صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹریز کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ شکر ہے ہمارے کورکمانڈرز اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان صاف شفاف انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوئی صلاحیت یا اہلیت نہیں رکھتے ورنہ انتخابات کے قریب اُنہیں بھی تبدیل کرنے کی ایسے ہی ضرورت محسوس کی جاتی جیسے سول وپولیس افسران کو تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ،....ہماری فوج اور عدلیہ مکمل طورپر سیاست سے پاک ہے ۔یہ بات جب ہماری فوج اور عدلیہ خود کہتی ہے تو ہماری کیا جرا¿ت ہم اس پر یقین نہ کریں۔ ہمیں اپنی اوقات کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ لہٰذا ہم صرف سول وپولیس افسران کے تبادلوں پر ہی زور دے سکتے ہیں یا صرف ان کے تبادلوں کو ہی زیربحث لاسکتے ہیں ، ....بابے عبید ابوزری نے فرمایا تھا ”پلُس نوں آکھاں رشوت خورتے فائدہ کی ....پچھوں کرداپھراں ٹکورتے فائدہ کی “....ہماری اتنی ہمت نہیں بابے عبید ابوزری کے اس لازوال شعر سے پلس (پولیس) کو نکال کر کوئی اور ادارہ ڈال دیں، ویسے اب ہم اپنی پلُس کو رشوت خود کہہ بھی دیں ہمارے پولیس ایسے چھوٹے چھوٹے الزامات کو اب خاطر میں ہی نہیں لاتی، بلکہ ہم اپنی پولیس کو ”ایماندار“ کہہ دیں وہ سمجھتی ہے ہمارا ”مخول“ بنایا جارہا ہے، یعنی ہمارا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ ویسے بھی رشوت کو پولیس سمیت اب کوئی ادارہ حرام نہیں سمجھتا۔ حرام اُسی صورت میں سمجھا جاتا ہے اگر رشوت لے کر بھی کوئی کام نہ کرے۔ اِس حوالے سے ایک مثال میں نے شاید پہلے بھی کسی کالم میں دی تھی ایک ڈی ایس پی سے میں نے گلہ کیا ”آپ نے میرے فلاں دوست سے پچاس ہزار روپے رشوت لے کر اس کا کام بھی نہیں کیا “۔ ڈی ایس پی بولے ”پہلی بات تو یہ ہے اتنے کم پیسے میںنے اس وقت بھی نہیں لیے جب میں اے ایس آئی تھا۔ اور دوسری بات یہ کہ میں نے اگر رشوت لی ہے تو کام ضرور کروں گا۔ میں نے اپنے بچوں کو کبھی حرام نہیں کھلایا “ ....صرف محکمہ پولیس میں ہی نہیں تقریباً تمام محکموں میں اب رشوت لے کر کوئی کسی کا کام کردے وہ یہ سمجھتا ہے اس نے اپنے بچوں کو حرام نہیں کھلایا ۔ ہاں کوئی رشوت لے کر بھی کام نہ کرے ایسی صورت میں ضرور اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑسکتا ہے کہ اس نے اپنے بچوں کو حرام کھلایا ہے۔ سو اس پس منظر میں بے شمار سرکاری افسران اپنے بچوں کو اپنی طرف سے ”حلال“ ہی کھلاتے ہیں۔ میرے خیال میں سب سے زیادہ تبادلے محکمہ پولیس میں کئے گئے۔ شاید اس لیے کہ عام تاثر یہی ہے کہ صاف شفاف انتخابات پر سب سے زیادہ محکمہ پولیس اثرانداز ہوتا ہے۔ لیکن اللہ
جانے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ سب کچھ ” اُوپر کے حکم“ کے تحت ہوتا ہے۔ البتہ ناصر درانی، جاوید اقبال اور کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز جیسے انتہائی صاف ستھرے کردار کے حامل افسران پر اُوپر کا کوئی حکم اثر نہیں کرتا۔ یہ سیدھا سیدھا چلنے اور اپنے اصل کام سے کام رکھنے والے ایسے افسران ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنے محکمے پر لگے ہوئے سینکڑوں دھبے دھونے کی پوری کوشش کی۔ سابق آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کے تبادلے سے ہمیں سمجھ ہی نہیں آرہی پنجاب میں صاف شفاف الیکشن کروانے مقصود ہیں یا مرضی کے نتائج حاصل کرنا مقصود ہیں۔ اکثر تبادلے صرف دکھاوے کے ہوئے ہیں۔ ایک ڈی پی او یا ڈپٹی کمشنر کو یا ایک آرپی او یا کمشنر کو ایک ضلع سے دوسرے ضلع یا ایک رینج سے دوسری رینج میں تبدیل کربھی دیا جائے ان کی ذہنیت کو کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یا اُن کی فطرت کو کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟۔ کیا دوسرے اضلاع یا ڈویژنزمیں جاکر اپنے سابق سیاسی تعلق کو وہ بھول جائیں گے جنہوں نے اہلیت اور میرٹ سے ہٹ کر اُنہیں نوازا؟ اب بھی اطلاعات یہی ہیں بے شمار سول وپولیس افسران شریف برادران کی خواہشات کے مطابق ہی تعینات ہوئے ہیں۔ اور وہ اب بھی مکمل طورپر اس یقین سے خارج نہیں ہوئے کہ شریف برادران آئندہ کبھی اقتدار میں نہیں آسکتے۔ شریف برادران 1999ءمیں بھی ایسی ہی مشکلات سے دوچار تھے۔ تب بھی یہی تاثر عام ہوگیا تھا وہ کبھی اقتدار میں نہیں آسکتے۔ ایسی صورت میں جن افسران نے اُن سے منہ موڑے سوائے چند ایک کے باقی کسی کو اُنہوں نے منہ نہیں لگایا۔ ہماری بیوروکریسی اب بھی بڑی محتاط ہے۔ اُوپر سے عمران خان کے بارے میں اُنہیں پتہ ہے وہ اگر وزیراعظم بن گیا گریڈ اٹھارہ کا کوئی افسر گریڈ بیس کی سیٹ پر تعینات ہوکر ویسی ”انھی“ نہیں ڈال سکے گا جیسی احد چیمے یا فواد حسن فواد نے ڈالے رکھی۔ لہٰذا میرے خیال میں تھوک کے حساب سے تبادلے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ البتہ یہ الگ بات ہے شریف برادران کا جو بُرا وقت قدرت کی طرف سے آیا ہوا ہے جس میں مختلف اقسام کی بددیانتیوں کے علاوہ تکبر کا بھی بڑا اہم کردار ہے اس کے مطابق ممکن ہے اس بار سالہاسال سے اُن کے تھلے لگی ہوئی بیوروکریسی چاہ کر بھی ان کی کوئی مدد انتخابات میں نہ کرسکے۔ زیادتی یہ ہے کچھ ایسے شاندار افسران بھی تبادلوں کی زد میں آگئے جن کی ساری سروس ہرقسم کی سیاسی غلاظتوں سے پاک رہی ۔ انہوں نے ہمیشہ دیانتداری اور میرٹ کی مطابق نوکری کی۔ انہیں شاید اِسی کی سزادی گئی ہے۔


ای پیپر