ch farrukh shahzad,columns,urdu columns,epaper
07 جنوری 2021 (12:51) 2021-01-07

اس وقت پورے ملک کے اعصاب پر پی ڈی ایم سوار ہے خصوصاً میڈیا اور حکومت دونوں کے پاس شاید اور کوئی کام نہیں۔ وزیراعظم کو کہا جائے کہ بجلی مہنگی ہو گئی ہے تو وہ کہتے ہیں NROنہیں دوں گا پٹرول 106 روپے کا ہو گیا اب تو مہینے میں 2 بار قیمت بڑھنے لگی ہے وہ کہتے ہیں کسی کو NRO نہیں ملے گا۔ اس کا انجام یہ ہوا ہے کہ پی ڈی ایم کی دندان شکن جواب دینے کی جدوجہد میں بہت سے اہم اور حساس معاملات پس منظر میں چلے گئے ہیں بلکہ پی ڈی ایم کے خوف کے نیچے دب گئے ہیں۔ 

گزشتہ ماہ انڈین آرمی چیف جنرل منوج نروان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا ایک ہفتے کا دورہ کیا ور دونوں ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان سے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کیے اور ان ممالک کے ساتھ مفاہمت اور تعاون پر بات چیت کی اور اطلاعات کے مطابق مختلف شعبوں میں اپنی فوجی مین پاور مہیا کرنے کی پیش کش کی۔ اس سے قبل ان ممالک کو پاکستان مین پاور اور تربیت فراہم کرتا ہے۔ یہ دورہ پاکستان دوست ممالک کی طرف سے ایک بہت بڑا پالیسی شفٹ ہے جو پاکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ انڈیا ایک عرصہ سے اس موقع کی تلاش میں تھا کہ وہ مڈل ایسٹ میں پاکستان کی جگہ لے سکے۔ میرے خیال میں انڈیا کے لیے یہ ایک ایسا سنہری موقع ہے جس پر انڈیا میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ انڈیا اس کو اپنے لیے ایک بہت بڑی کامیابی سمجھ رہا ہے لیکن پاکستان میں کسی کو احساس ہی نہیں باقی کے لئے یہ واقعہ ایسا ہی ہے جیسے پاکستان نے انڈیا کے ہاتھوں ایک اور کشمیر کھو دیا ہے۔ لیکن بقول اقبالؒ

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

اگر پرانا پاکستان ہوتا تو شاید پوری قوم میں اس واقعہ پر صف ماتم بچھ جاتی مگر یہاں تو کسی چینل نے اس پر کوئی ٹاک شو نہیں کیا نہ ہی حکومت پاکستان نے اس پر کسی خفگی کا اظہار کیا۔ کوئی فرنٹ چینل یا بیک چینل ڈپلومیسی سامنے نہیں آئی جس سے اندازہ ہو سکے کہ پاکستان اتنی آسانی سے مڈل ایسٹ کو انڈیا کے سپرد نہیں کر سکتا۔ 

اس معاملے کا پس منظر خاصا پیچیدہ ہے۔ عمران خان صاحب نے وزیراعظم بنتے ہی اپنے 

آپ کو ذوالفقار علی بھٹو سمجھنا شروع کر دیا۔ انہوں نے خطے کے تمام ممالک کے ہنگائی دورے کیے جن میں سعودی عرب ، امارات، قطر، چائنا شامل تھے وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کے بعد بھٹو ایک عالمی لیڈر بن کر ابھرے تھے وہ بھی اسی مقام پر پہنچیں گے مگر فرق یہ تھا کہ وزیراعظم جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے اور یہ داستان شجاعت بہادری سفارتکاری کی نہیں تھی بلکہ ہر جگہ سے امداد کے چیک لیے گئے تھے۔ بات یہاں تک ہی رہتی تو اور بات تھی اب عمران خان کے اندر چھپا ہوا بھٹو پھر بیدار ہوا اور 2019ء کے آخر میں انہوں نے ایران ملائیشیا اور ترکی کے ساتھ مل کر ایک نئے اسلامی بلاک کے قیام کا بیڑا اٹھایا تا کہ سعودی عرب کی بنائی گئی او آئی سی کو ناکام بنایا جا سکے، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ او آئی سی نے پاکستان کی دردخواست پر کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے اور اسے زبردستی انڈیا میں شامل کرنے پر پاکستان کا ساتھ دینے سے انکا ر کر دیا تھا۔ عمران خان سعودی مخالف بلاک کا حصہ بن کر سعودی عرب جو پہلے ہی پاکستان کے ساتھ نواز شریف کے زمانے میں 2015ء میں یمن جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے سے انکا رکر چکا تھا کی بنا پر ناراض تھا۔ اس پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان کو سعودی عرب بلایا اور سعودیہ مخالف کوالالمپور سمٹ میں شرکت سے باز رہنے پر رضا مند کر لیا۔ 

یہ وہ پوائنٹ تھا جہاں عمران خان بھٹو بننے میں ناکام ہو گئے محمد بن سلمان غصے میں تھے کہ آپ کو اقتدار میں آنے پر ہم نے تین ارب ڈالر اور تین ارب کا ادھار پٹرول دیا ہے اس کے باوجود آپ ہمارے مخالفین میں بیٹھنے کی ضد کر رہے ہیں۔ عمران خان ٹھنڈے ہو کر گھر آ گئے اور کوالالمپور نہیں گئے جس پر ملائیشیا کے مہاتیر محمد نے بعد ازاں عالمی میڈیا کو بتایا کہ عمران خان اس لیے نہیں شامل ہوئے کیونکہ سعودی عرب نے دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے اپنا فیصلہ تبدیل نہ کیا تو سعودی عرب سے تمام پاکستانی محنت کشوں کو فارغ کر کے ان کی جگہ انڈین افرادی قوت بھرتی کر لی جائے گی۔ 

انڈین آرمی چیف کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کا ایک پہلو اور بھی ہے سعودی عرب پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز کرے جس کا مطلب اسلام آباد میں اسرائیلی سفارتخانہ اور اسی طرح اسرائیل میں اپنا سفیر مقرر کرنا شامل ہے۔ عمران خان نے فی الوقت ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد سعودی عرب نے انڈین آرمی چیف کو دورے پر بلا کر پاکستان کو پیغام بھیج دیا ہے کہ ایک دفعہ پھر سوچ لو۔ اس کے بعد سے پاکستان سکتے کی حالت میں ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ یہ ایک بہت پیچیدہ صورت حال ہے اگر پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کی گارنٹی دی جائے کہ کشمیر کی حیثیت کا فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق ہو گا اور فلسطین کے مسلمانوں کو الگ سرزمین دے دی جائے گی تو پاکستان سعودی شرائط مان سکتا ہے لیکن سورج مغرب سے نکل سکتا ہے مگر یہ دو کام نہیں ہو سکتے اس لیے اس وقت پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈیڈ لیول پر ہیں سعودی عرب نے پاکستان سے اپنے پیسے واپس مانگ لیے ہیں ادھار تیل کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے اس کی توسیع نہیں کی گئی پاکستان نے گزشتہ سال ایک ارب ڈالر چائنا سے لے کر سعودی عرب کو دیا تھا اب ایک ارب ڈالر مزید قرض لے کر سعودی عرب کو واپس کرنے کی خبریں آ رہی ہیں گویا ہم اپنا قرضہ اتارنے کے لیے نیا قرضہ لینے کی پرانی پالیسی کو نئے پاکستان میں پوری شد و مد سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

یہاں پر حیرت کی بات یہ ہے کہ ترکی جسے پاکستان ہر معاملے میں آئیڈیل سمجھتا ہے انہوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے سفارتکاری خاموشی سے جاری ہے۔ وزیراعظم خود بھی ارطغرل ڈرامے سے کافی متاثر ہیں ہو سکتا ہے کہ آپ ترکی کے کہنے پر اسرائیل کے ساتھ صلح کر لیں لیکن ابھی اس میں خاصا وقت لگے گا کیونکہ عمران خان کو خطرہ ہے کہ مذہبی حلقے اس کو بنیاد بنا کر انہیں اقتدار سے محروم کر سکتے ہیں لہٰذا یہ کام عمران خان نے اپنی دوسری مدت تک کے لیے التواء میں رکھنا ہے۔ جیسے ہی وہ دوبارہ وزیراعظم بنیں گے، اس پر گرین سگنل دے دیا جائے گا لیکن وہ وقت آنے سے پہلے پلوں کے نیچے سے کتنا پانی گزر چکا ہو گا یا حالات کا دھارا انہیں کہاں بہا لے جائے یہ کسی کو معلوم نہیں۔ تاریخ اپنے وقت اور مقام کے انتظار میں ہے کہ فیصلہ لکھا جائے۔ 


ای پیپر