سابق چیف جسٹس ”کُوہ سَا“
07 جنوری 2020 2020-01-07

میں اس دور کی بات کررہا ہوں، جب لطیف خان کھوسہ سے میری دوستی اس قدر تھی کہ روزانہ نہیں تو اکثر ملاقات ہوجاتی تھی، مگر جب ان کی دوستی آصف علی زرداری سے ہوگئی تو تقاضائے راہ ورسم ومراسم بھی تبدیل شدہ وطن کی طرح ہوگئے، وعدہ آصف علی زرداری کی طرف سے ممبر پارلیمان پہ تعلقات لطیف خان اور نواز خان تفاوت ودرجہ بندی کی وجہ سے افتاد زمانہ کا شکار ہوگئے، حسن ظن ، اور لفاظی کا فن دوطرفہ چلتا رہا، مگر ایک دن خدا کا کرنا کیا ہوا کہ وعدہ زرداری رنگ لے آیا اور سردار لطیف خان کھوسہ گورنر پنجاب ہوگئے .... وہ دن اور آج کا دن، اللہ اللہ خیر صلہ ، خیر محنتی ان تھک، قابل، فرض شناس وکیل نے مجھ جیسے بندہ شناس شخص کو ایک دفعہ بتایا تھا، کہ کھوسہ لفظ پہلے ”کُوہ سا“ تھا، جو وقت کے ساتھ بدل کر کھوسہ ہوگیا۔

آج اتنی دیر بعد جب میں ان کی بات پہ چیف جسٹس ریٹائرڈ آصف سعید کھوسہ پہ پورا اترتے ہوئے دیکھتا ہوں، کہ ملک وقوم کے لیے واقعی وہ ”کُوہ سَا“ ثابت ہوئے، ان کا دیا ہوا فیصلہ آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کا فیصلہ، اور ان کے ہوتے ہوئے سابق صدر پاکستان جنرل (ر) مشرف کے خلاف فیصلہ، پاکستان کی آئندہ اور مستقبل کی سیاسی اور عسکری تاریخ میں اپنا نام رقم کرگیا ہے۔ میری ان سطور لکھنے کا مطلب، ان کی مدح سرائی، خوشامد اور چاپلوسی کرنا نہیں، ان کی مدت ملازمت کے دوران، اگر میں ان کی یہ بے باک تعریف وتوصیف کرتا، تو شاید مجھ پہ یہ الزام لگ سکتا تھا مگر اب جبکہ ان کے نام کے ساتھ سابق لگ چکا ہے، ان کے کام کی تعریف کرنا موجودہ اور آئندہ کے چیف جسٹس صاحبان کی حوصلہ افزائی، اور قوم کی طرف سے دادوتحسین ہے، کیونکہ بے غرضی اور بے لوثی قلب کی سید مظفرعلی شاہ نیر کے یہ اشعار بخوبی میری ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔

کوئی طلب ہے یہاں پر نہ کچھ غرض مجھ کو

میں تیرے حکم سے فکر جہان کرتا ہوں!

قارئین ، منصف اور مصنف میرے نزدیک دونوں ایک ہی منصب پہ فائز ہوتے ہیں، ایک کو دنیا اور آخرت کی خلعت فاخرہ، اورانعامات ومراعات سے نوازا جاتا ہے، اور ان شاءاللہ دائمی دنیا میں قرب الہیہ ، اور قرب رسول کی نوید دل پذیر ہے۔

اس لیے ہمارا مقدس فریضہ ہے، کہ بلاکم وکاست، ہم موجودہ، آئندہ بلکہ سابقہ حالات پہ اپنا تجربہ آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرتے رہیں، آج کل کروڑوں عوام کو غربت بلکہ لاچارگی کی دلدل میں دھکیل کر محض چند لوگوں کو لنگر کھلا دینا، اگر بھکاری بنا دینا نہیں، تو ان کی عزت نفس پہ کچوکے لگاکے مجروح کرنے کے مترادف ضرور ہے، کیونکہ حکمران وقت، یوم نشور، روزمحشر اگر دریا کے کنارے جانور کے مرنے کا جوابدہ ہوگا، تو کروڑوں انسانوں بلکہ مسلمانوں کی تنگ دستی کے لیے بھی ضرور جوابدہ ہوگا۔

امیر شہر اب تیرے مظالم بڑھ گئے حد سے !

ہم ان سوئے ہوئے لوگوں کو اب جھنجھوڑہی دیں گے

منصف کی طرف سے دی ہوئی جنرل مشرف کی سزا کے خلاف حکومت کا اپیل میں جانے کا فیصلہ، ہماری سوچ و سمجھ سے بالاتر ہے، حالانکہ جنرل مشرف نیازی نہیں تھا، نیازی تو جنرل امیرعبداللہ نیازی تھا، جو پوری امت مسلمہ، کو ہزیمت ولاچارگی میں دھکا دے کر اسلامی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ میں کفار کے سامنے ہتھیار ڈال کر، اسلامی جنگوں میں شکست فاش ، کا راز فاش کرنے کا سبب بن گیا، حالانکہ اس سے قبل کبھی بھی مسلمانوں کو شکست نہیں ہوئی تھی۔ راقم ، کو ایک دفعہ سابق وزیراعظم پاکستان جناب لیاقت علی خان کے سگے بھتیجے نواب شہزاد علی خان، سقوط ڈھاکہ کے بعد ان کے گھر لے کر گئے، موصوف گھر کے باہر راستے ہی میں ہمیں مل گئے، جنہوں نے بڑے فخر سے سول کپڑوں میں ہونے کے باوجود ٹوپی پہ کسی بڑے پرندے کا پر لگایا ہوا تھا، بہرکیف سلام دعا کے بعد وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے، اور وہاں انہوں نے واہیات لطیفوں کا جو سلسلہ شروع کیا، لگتا ہی نہیں تھا، کہ یہ وہ شخص ہے، کہ جس نے کروڑوں مسلمانوں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے، قارئین آپ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں، اگر جنرل نیازی کی جگہ آپ ہوتے، تو کیا آپ ہتھیار کافر کے قدموں میں ڈال دیتے یا گولی دشمن کے سینے سے آرپار کردیتے۔ بہرکیف ہمارے لیے ان کے ہاں مزید بیٹھنا محال ہوگیا، اورہم ایک دوسرے کو دیکھ کر دل ہی دل میں شرمندہ ہوئے، کہ ہمیں یہاں بالکل نہیں آنا چاہیے تھا۔

قارئین، ایک وقتی ابال عزیزان وطن کے دلوں میں لایا گیا، اور چند مختلف طبقہ ہائے قوم کے لوگوں کو اکٹھا کرکے پاکستان کے دوسرے جنرل نیازی یعنی جنرل مشرف نے بھی پورے پاکستان کو امریکہ کی گود میں ڈال دیا تھا، اور پاکستانی عفت وعصمت ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو چارسو ڈالر کے عوض امریکہ کو دے کر دلالی کی کالک منہ پہ لگوادی تھی، اب مشرف کے حق میں یہ نعرے لگانے، کہ اس نے چالیس سال تک ملک کی خدمت کی اور جنگیں لڑیں، جنرل نیازی نے تو اس سے زیادہ فوج میں عرصہ گزارکر مشرقی پاکستانی عورتوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کردیا تھا، جنرل نیازی نے تو جنگ عظیم دوم میں بھی حصہ لیا تھا، اور 1965ءکی جنگ بھی لڑی تھی، اس نے فوج سے ملٹری کراس اور ہلال جرا¿ت کا تمغہ بھی لیا تھا، مگر کافر کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہاں گئی تھی اس کی جرا¿ت؟

آصف سعید کھوسہ صاحب کا یہ فیصلہ، پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ کا انتہائی اہم فیصلہ ہے، جو پاکستان کی ان شاءاللہ تقدیر بدل دے گا، مجھے یہ فخر ہے کہ کھوسہ صاحب کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے، اور میرا تعلق بھی وہیں سے ہے، وہ بھی بلوچ ہیں، میں بھی بلوچ ہوں، ان کے والد محترم کا نام فیض محمد خان تھا، اور میرے والد بزرگوار کا نام بھی فیض محمد خان ہے، ان کے بھائیوں نے بھی پاکستان میں اپنا نام روشن کیا ہے، اور میرے بھائیوں نے بھی دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے، دنیا کی مشہورترین شخصیات (Who is who)جو کہ دنیا میں پانچ سو ہوتی ہیں، تین سال تک مسلسل میرے بھائی کا نام آیا، بالآخر انہیں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل بناکر ان کا نام امریکی کانگریس کے باہر کنندہ کردیا گیا، کیونکہ وہ امریکی قومیت بھی رکھتے ہیں، مجھے خوشی ہے کہ کھوسہ خاندان کے ساتھ ہمارے خاندانی خوشگوار تعلقات ہیں، ان کی الوداعی تقریر میں فہمیدہ ریاض کی نظم ان کی حب الوطنی کی غماز ہے

کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے

وہ تم کو خوف دلائیں گے

جو ہے وہ بھی کھو سکتا ہے

اس راہ میں راہزن ہیں اتنے

کچھ اور یہاں ہوسکتا ہے

کچھ اورتو اکثر ہوتا ہے

پرتم جس لمحے میں زندہ ہو

یہ لمحہ تم سے زندہ ہے

یہ وقت پھر نہیں آئے گا

تم اپنی کرگزرو، جوہوگا دیکھا جائے گا


ای پیپر