ہمارا ادبی اثاثہ !
07 جنوری 2020 2020-01-07

امجداسلام امجد کو گزشتہ ہفتے ترکی کی حکومت نے ”نجیب فاضل ایوارڈ“ سے نوازا۔ اس موقع پر ترکی کے صدر نجیب اردوان نے اُن کے لیے محبت بھرے جو الفاظ کہے وہ ہم سب کے لیے باعث اعزاز ہیں۔ وہ ہمارے ملک کے ایسے شاعر ادیب ، ڈرامہ نگار و کالم نویس ہیں جن کی شہرت پاکستان سے نکل کر پوری دنیا میں ایک تو شاید اِس وجہ سے پھیل چکی ہے، اور دِن بدن اِس میں اضافہ ہوتا چلے جارہا ہے کہ وہ جتنے مقبول ہیں اُتنے عاجز ہیں، اور عاجزی اللہ کو بڑی پسند ہے، ....دوسرے، ادب کی بطور شاعر، اور ڈرامہ نگار جتنی خدمت اُنہوں نے کی، جو اصل میں پاکستان ہی کی خدمت ہے، اُس کی بنیاد پر پوری دنیا میں لوگ اُنہیں دل سے سراہتے ہیں تو یہ اُن کا حق بنتا ہے، ہم انسان ایک دوسرے کا حق مار لیتے ہیں، قدرت مگر کسی کا حق نہیں مارتی نہ حق مارنے والوں کو پسند کرتی ہے، .... میرا اُن کے ساتھ تعلق بہت پرانا ہے، کتنا پرانا ہے؟ میں یہ اِس لیے نہیں بتانا چاہتا اُن کی عمر کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں وہ ستر سے اُوپر کے ہیں، جبکہ میری عمر کے حوالے سے پردہ اگر پڑاہوا ہے تو یہ پردہ کم ازکم مجھے خود نہیں اُٹھانا چاہیے، ویسے بھی کسی نے عمر چھپانے کا یہ بہانہ یا جواز بڑا اچھا تراشا ہے ” دل ہونے چاہیدے نیں جوان، عمراں وچ کیہ رکھیا“ ....سو میرا دل ابھی جوان ہے اور مجھے یقین ہے دِل بوڑھا ابھی امجد اسلام امجد کا بھی نہیں ہوا، کم ازکم اُن کی شاعری سے تو یہی احساس ہوتا ہے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا، وہاں میں نے اپنے کچھ دوستوں سے مِل کر ایک ادبی و ثقافتی تنظیم ” ہم سخن ساتھی“ کے نام سے بنائی، امجد اسلام امجد نے اس تنظیم کی جو سرپرستی فرمائی اُس کی بنیاد پر کچھ ہی عرصے بعد اِس تنظیم کی پاکستان کے علمی، ادبی وثقافتی حلقوں میں ایسی دھوم مچی کہ بڑے بڑے شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور فنکاروں کی یہ خواہش ہوتی تھی اُن کے فن کے اعتراف میں، اُن کے اعزاز میں ”ہم سخن ساتھی“ کی جانب سے تقریب کا اہتمام کیا جائے، سرپرستی تو اِس کی جناب عطا الحق قاسمی نے بھی فرمائی، مگر وہ اپنی سرپرستی کو کسی نہ کسی صورت میں کیش کروالیا کرتے تھے، دلدار پرویز بھٹی، امجد اسلام امجد اور اجمل نیازی کا معاملہ اُن کے بالکل اُلٹ تھا، یہ تینوں شخصیات جب کسی سے محبت کرنے پر آتی تھیں پھر اُس کی مالی حیثیت نہیں دیکھتی تھیں، ان تینوں نے جو سرپرستی اور محبت فرمائی اُس کے نتیجے میں محض چند برسوں میں ”ہم سخن ساتھی“ کو وہ مقام حاصل ہوگیا کہ سید ضمیر جعفری ایسے مقبول وممتاز شاعر و دانشور نے اپنے ایک کالم میں اس کے بارے میں لکھا ” یوں محسوس ہوتا ہے پاکستان میں صرف تین قوتیں ہی رہ گئی ہیں، محترمہ بے نظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی، نواز شریف کی مسلم لیگ اور توفیق بٹ کی ” ہم سخن ساتھی“ .... اُس زمانے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ اتنی بدنام نہیں ہوا کرتی تھیں چنانچہ مجھے بالکل بُرا نہیں لگا کہ سید ضمیر جعفری صاحب نے مجھے یا میری تنظیم کو پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ سے کیوں جوڑا ہے، .... ہم سخن ساتھی کی کوئی ایسی تقریب نہیں ہوتی تھی جس میں جناب امجد اسلام امجد شریک نہ ہوتے بلکہ کبھی کبھی فردوس بھابی (بیگم امجد اسلام امجد ) بھی اُن کے ساتھ ہوتی تھیں، وہ اکثر اپنی دوسری اہم مصروفیات کو نظرانداز کرکے تشریف لایا کرتے تھے، ایک زمانے میں عطاءالحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کے آپس میں بے پناہ تعلق اور محبت کی وجہ سے اکثر لوگ یہی سمجھتے تھے یہ ایک ہی شخص کا نام ہے ، کسی محفل میں عطاالحق قاسمی ہوتے وہاں امجد اسلام امجد کی موجودگی یقینی ہوتی، اسی طرح کسی محفل میں امجد اسلام امجد ہوتے یہ ممکن ہی نہیں ہوتا تھا وہاں عطا الحق قاسمی نہ ہوں، کسی مشاعرے میں امجد اسلام امجد کو مدعوکیا جاتا وہ مشاعرے کے منتظمین کو صاف صاف بتا دیتے عطا الحق قاسمی کے بغیر وہ نہیں آئیں گے۔ اِسی طرح عطا الحق قاسمی کو کسی مشاعرے میں مدعو کیا جاتا وہ بھی امجد اسلام امجد کے بغیر نہیں جاتے تھے، سو جس طرح ہمارے میوزک کی دنیا میں بھارت میں کچھ لوگ اور پاکستان میں بھی ہم کئی برسوں تک لکشمی کانت،پیارے لال کو ایک ہی شخص سمجھتے رہے، اور میوزک کی دنیا کے دوسرے

نام ”بخشی ، وزیر، کو ایک ہی شخص سمجھتے رہے، اِسی طرح بے شمار لوگ امجد اسلام امجد ، عطا الحق قاسمی کو بھی ایک ہی شخص سمجھا کرتے تھے، حالانکہ دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے، مزاج کیا فطرت میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے، اس کے باوجود اللہ جانے کس طرح اتنے برسوں تک ایک دوسرے سے دونوں جُڑے رہے اور گزارا کرتے رہے؟۔ امجد اسلام امجد کے اپنے دوستوں خصوصاً ہم ایسے جونیئرز کے ساتھ محبت میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوتی تھی، قاسمی صاحب ذرا مختلف طبیعت کے تھے۔ وہ لوگوں کی حیثیت کے مطابق اُن سے تعلق جوڑتے اور توڑتے رہتے تھے، اُن میں اتنی عاجزی بھی نہیں جتنی امجد اسلام امجد میں ہے، شاید اِسی لیے، اِس کے باوجود کہ جناب عطا الحق قاسمی اپنی”کالمی خدمات“ کی وجہ سے بعض اہم ترین سرکاری عہدوں پر تعینات رہے، پر لوگوں کے دلوں میں جو مقام امجد اسلام امجد نے بغیر سرکاری عہدوں کے محض اپنے فن اور مزاج کی وجہ سے حاصل کیا وہ بہت زیادہ اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے، ....پاکستان میں بھی اُنہیں بڑی عزت ملی، اُنہیں بے شمار سرکاری وغیر سرکاری اعزازات سے نوازا گیا، اِس کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں اُنہیں غیر سرکاری طورپر کئی اہم اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا گیا، میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا دنیا کے کسی کونے میں کوئی عالمی مشاعرہ امجد اسلام امجد کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا، اُنہیں شاید اللہ نے اُن کی اوقات کے مطابق ہی نوازا ہوگا، مگر میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کسی شخص کو اللہ اُس کی اوقات سے بہت بڑھ کر نواز دے، ممکن ہے اُس کی کوئی اور خوبی بھی اللہ کو عزیز ہو، مگر میرے مشاہدے میں آیا ہے اللہ زیادہ تر اُن ہی لوگوں کو نوازتا ہے جن میں عاجزی وانکساری ہوتی ہے، یہ نعمت بھی اصل میں اللہ ہی کی طرف سے عطا ہوتی ہے، جو کسی انسان کی نیت کے مطابق ہی عطا ہوتی ہے، کوئی انسان اگر اللہ کی اِس خاص نعمت سے استفادہ ہی نہ کرنا چاہے، اُسے بھلا یہ نعمت کیسے عطا ہوسکتی ہے؟ امجد اسلام امجد نے ساری زندگی محنت کی، یا محبت کی، اُن کی شاعری بھی محبت ہی کے اردگرد گھومتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، محبت اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے، شاید اِسی لیے وہ اس طرح کی نظمیں لکھتے ہیں، ”محبت ایسا دریا ہے .... کہ بارش روٹھ بھی جائے .... تو پانی کم نہیں ہوتا !!! (جاری ہے)


ای پیپر