امریکا کو پاکستان کی ضرورت نہیں
07 جنوری 2020 2020-01-07

پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ سردار قاسم سلیمانی کے امریکی حملے میں قتل نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک پر بظاہر جنگ کے بادل گہرے کر دیے ہیں۔ امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کو انتہائی سنگین نتائج کے لیے تیار رہنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ساتھ ہی سفارت کاری کے ذریعے اپنے ہم خیال ممالک سے رابطے بھی تیز کیے جارہے ہیں۔

پاکستان میں بھی اس صورت حال کو بڑی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔ سردار قاسم سلیمانی کی محبت میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ پاکستان حکومت سے ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر دباو¿ بھی ڈالا جارہا ہے۔ ہفتہ کو ایک عالم شہنشاہ نقوی نے پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت اور اداروں کوخبردار کیا کہ امریکا کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین نہ دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ پاکستان ایسی اجازت نہیں دے گا لیکن اگر اجازت دی تو پھر ہم پاکستان میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے میں حق بجانب ہوں گے۔

شاید مولانا جذبات میں کچھ زیادہ آگے نکل گئے امید ہے آج ان کی طرف سے کوئی اور بیان بھی سامنے آجائےگا کہ ان کا مطلب ایسا نہیں تھا جیسا کہ سمجھا جا رہا ہے۔ان سب باتوں سے پہلے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ کیا واقعی امریکا کو پاکستان کی (ایران سرحد کے ساتھ بلوچستان) سرزمیں کی ضرورت ہے بھی یا نہیں ؟کیا پاکستان کی مدد کے بغیر امریکا ایران پر حملہ نہیں کر سکتا؟ اس کے لیے ہمیں خطے کی صورت حال کا زیادہ نہیںتھوڑا جائزہ لینا پڑے گا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج میں امریکا کے پنجے کتنے گڑے ہوئے ہیں۔

امریکا کی مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میںموجودگی کی تاریخ نئی نہیں بہت پرانی ہے۔ امریکا کی فوجیں سالہا سال یعنی دہائیوں سے عرب ممالک میں موجود ہیں۔ نام نہاد اسرائیل سے کبھی عرب ممالک کی بقا کو خطرہ کی پھول جڑی چھوڑی جاتی تو کبھی ایران کے میزائل دکھاکر وہاں فوجوں کی موجودگی کا جواز مضبوط کیا جاتا ہے۔خیال رہے اس خطے میں ایران کی میزائل طاقت کا کسی ملک سے موازنہ نہیں ۔یہی میزائل لبنان کی ایران نواز حزب اللہ کے پاس بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔

امریکی محکمہ سینٹ کام کے مطابق خطے کے 20 ممالک میں 60 ہزار سے زائد امریکی فوجی موجود ہیں۔ایران کی جوابی کارروائی کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں فوری طور پر اضافی 3 ہزار فوج بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں آرامکو ریفائنری پر حملے کے بعد سے سعودی عرب میں پہلے ہی 750 امریکی فوجی پہنچ چکے ہیں لیکن اب ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔ عراق میں پہلے سے موجود 5 ہزار امریکی فوجیوں کو کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کیا جا چکا ہے۔ شام میں امریکا کی مضبوط 9 ہزار فوجی موجود ہیں۔ گوکہ اکتوبر 2019 میں ڈونلڈ ٹرمپ فوجوں کی مرحلہ وار واپسی کا اعلان کر چکے ہیں لیکن بظاہر ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ۔

کویت میں پہلے ہی سے 13 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ کویت میں مشرق وسطیٰ کا ہیڈکوارٹر بنایا گیا ہے یہاں مضبوط ائیر بیس بھی متحرک ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ منحرف چھوٹے سے ملک قطر میں امریکی فوج کا بہت ہی مضبوط اڈہ موجود ہے۔ قطر میں 13 ہزار فوجی ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امریکا کا انتہائی متحرک ائیربیس ہے۔ ایران کے ساتھ جڑے افغانستان میں بھی امریکی فوجیں موجود ہیں، اسے بھی زہن میں رکھا جائے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا نے مختلف ادوار میںحیلے بہانوں سے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی بھیجتا رہا ہے۔ عرب ممالک کو ڈرانے دھمکانے کے لیے اب جنرل قاسم سلیمانی کی صورت میں ایک نیا ہتھیار ٹرمپ کے ہاتھ لگ گیا ہے۔جنرل سلیمانی کے قتل کے انتقام کا خوف عرب ممالک کو بیچا جارہا ہے۔ خوف انسان کے دماغ میں ہوتا ہے اور وہ سوچھنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج کر دیتا ہے۔ بس یہی ڈونلڈ ٹرمپ عرب ممالک کے ساتھ کررہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ ایران کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔جیسا کہ ہم شام میں دیکھ چکے ہیں۔ ماسوائے شام کو کھنڈر بنانے اور انسانی المیہ کو جنم دینے کے امریکا کیا حاصل کر سکا؟ بشارالاسد کی حکومت تبدیل کرنے کے لیے وہاں جنگ مسلط کی گئی تھی کیا بشارالاسد کوامریکا ہٹانے میںکامیاب ہو سکا؟

اب آجائیں یمن، یہاں سعودی عرب کی قیادت میں 41 رکنی ممالک کا اتحاد کیا حوثیوں کو شکست دے سکا؟ کہاجاتا ہے اس 41 رکنی اتحاد کی سرپرستی بھی امریکا ہی کر رہا ہے۔ یمن میں تباہی و بربادی اور بدترین انسانی المیہ کے یہ ممالک کچھ حاصل نہیں کر سکے۔اب نظر ڈالیں لبنان کی حزب اللہ پر، اسرائیل اور امریکا مل کر بھی اسے ختم نہیں کر سکے۔ حزب اللہ کو ختم تو کیا کرتے اسرائیل کو خود ہی پیچھے ہٹنا پڑا اور مقبوضہ علاقہ خالی بھی کرنا پڑا۔ جو قومیں لڑنا اور مرنا جانتی ہیں انہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔

یہ مثالیں دینے کا مقصد صرف اتنا گوش گزار کرانا تھا کہ ان تمام بڑی جنگوں میں عرب ممالک ہی سرزمیں استعمال کی گئی ہے۔جنگی حکمت کے اعتبار سے پاکستان سے زیادہ عرب ممالک ایران کی مشکلات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بیشتر عرب ممالک پہلے ہی ایران انقلاب کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان اور خائف ہیں۔جنگ کی صورت میں وہ دام سخن بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ موجودہ صورت حال میں پاکستانیوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں امریکا کو ایران پر حملے کے لیے پاکستان کی سرزمیں نہیں چاہیے، وہ ایسی غلطی کبھی نہیں کرے گا کہ پاکستان میں بھی اپنے خلاف نیا محاذ کھول دے۔

رہی بات ایران کا موجودہ نظام بدلنے کی ، یہ بھی ممکن دیکھائی نہیں دیتا۔شام کی تازہ ترین مثال ہمارے سامنے ہے وہاں تباہی و بربادی اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں کرسکا۔ تھوڑی بہت چھیڑ چھاڑ ایران کے ساتھ ضرور ہو گی،ایران جواب بھی بہت کرارا دے گا، یہ جو عراق میں قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد امریکی بیس پر راکٹ حملے ہوئے ہیں یہ ایرانی کارروائی نہیں ہو سکتی، وہ سلیمانی کی تدفین کے بعد ردعمل دیں گے۔پھر اس کا جواب بھی آئے گا لیکن مکمل اور بڑی جنگ کی طرف امریکا کبھی نہیں جائے گا۔ اگر جنگ ہوتی ہے تواس کا ایران کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کو سب سے زیادہ نقصان ہو گا۔ پاکستان اپنے وسیع تر مفادمیں بہتر فیصلہ کرے گا وہ کسی صورت جنگ کا ایندھن نہیں بنے گا۔ لوگوں کو تسلی رکھنی چاہیے کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملک کے خلاف پاک سرزمین استعمال کرنے کی اجات نہیں دے گا۔ایسی صورت حال میں غیر جانب دار ملک پاکستان ہی ہو گا جو ایک بار پھر ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔


ای پیپر