Image Source : Facebook

عدالتی فیصلے کے بعد کیا زرداری اور ان کے حواریوں کو کلین چٹ مل گئی ؟
07 جنوری 2019 (21:34) 2019-01-07

لاہور: صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ جو آج اس فیصلے پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں ان کو میں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ پانامہ کا فیصلہ ابتدائی طور پر سامنے آنے پر ن لیگیوں نے بھی لڈیاں ڈالیں تھیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں تھیں مگر پھر تفصیلی فیصلہ آنے پر ان کے آنسو نہیں رکے تھے۔

اسی طرح سپریم کورٹ میں جعلی اکاﺅنٹس کا فیصلہ آیا ہے اس پر پیپلزپارٹی بھنگڑے ڈال رہے ہیں ۔ مگرمیں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس فیصلے میں بلاوال اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم ملا ہے ان کی کرپشن کو کلین چٹ ہرگز نہیں ملی۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ثقافت نے پیر کو پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانامہ کا فیصلہ آنے پر ابتدائی طور پر خواجہ آصف اور چودھری طلال سمیت ن لیگی کارکنان کے بھنگڑے عروج پر تھے مگر بعد میں رو رو کر ان کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ دو ماہ بعد شہلا رضا کی حالت مریم اورنگزیب جیسی ہو جائے گی۔ وہ بھی آنسو بہاتی نظر آئیں گی۔

منظور وسان اور مرتضیٰ وہاب جیسے لوگ پوری قوم کو گمراہ کر رہے ہیں کی عدالت نے پیپلز پارٹی کے قائدین بشمول آصف زرداری، فریال تالپور اور بلاول س سب کو بری کر دیا ہے۔ جبکہ حقیقت میںعدالت نے نیب کو کہا ہے کہ دو ماہ میں زرداری، فریال تالپور، انور مجید سمیت تمام مداریوں کی رولنگ مکمل کی جائے۔ اور یہ خوشیاں ایسے منا رہے ہیں جیسے زرداری اور انور مجید کو کلین چٹ اور سادھو قراردیدیاہے۔ان کی مثال ایسی ہے کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو یعنی جب فیصلہ اپنی منشا کے مطابق آجائے تو عدلیہ اور تحقیقاتی اداروں کی تعریفیں کرتے ہیں دوسری صورت میں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں دوبارہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی یہ حکومت کے ماتحت تھی نہ ہو گی ۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا حکومت نے نہیں دیا سپریم کورٹ نے ہدایت دی نیب دو ماہ میں کام مکمل کرے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کو سر ٹیفکیٹ نہیں دیا جعلی اکاﺅنٹس پر کیس نیب کے حوالے کیا تاکہ دو ماہ میں تحقیقات مکمل ہوں ۔یہ تمام ادارے اور عدلیہ مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہیں اور کسی بھی طرح حکومت کے زیر اثر نہیں ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ خورشید شاہ حکو مت پر کیوں غصہ نکال رہے ہیں جبکہ ان کے قائد زرداری نے گھڑے کی مچھلی کی طرح نیب چیر مین لگایاہم نے تو کوئی نائب قاصد بھی بھرتی نہیں کروایا۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کا یہ عزم ہے کہ آئین و قانون کے مطابق جو کرپشن کرے گا اس کو احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اب بے لاگ اور بے باک احتساب ہوتا دیکھ کر ان کی چیخیں مریخ تک جا رہی ہیں۔ آل پاکستان لٹ مار ایسوسی ایشن جتنا مرضی اکٹھاہوجائیں فضل الرحمن کنوئینر ہیں ان کے اب ان کو اپنی جیب سے کھاناپڑرہاہے تو تکلیف ہو رہی ہے۔ کے پی میں اب عمران خان کوعوام نے دوبارہ مینڈیٹ دیا ہے جو مرلانا ڈیزل کوہضم نہیں ہورہا۔ہماری تربیت عمران خان نے کی ہے اس لیے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس قوم کے والدین کی حیثیت رکھتے ہیں جو اولاد کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں


ای پیپر