سندھ کے قوم پرستوں کا تذبذب
07 جنوری 2019 2019-01-07

سندھ کی قوم پرست جماعتیں ایک بار پھر متحد ہونے کا سوچ رہی ہیں لیکن تذبذب کا شکار ہیں۔ حالیہ سیاسی بحران نے متحد ہونے کی ضرورت کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو بڑی حد تک خود مختاری دی گئی ہے تاہم اس پر مکمل عمل درآمد باقی ہے۔شاید قوم پرستوں کے پاس کوئی نعرہ یا مطالبہ نہیں رہا۔ حالانکہ قوم پرست اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور ٹیمپو بنا سکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے پیپلزپارٹی مضبوط ہوگی۔ ان کے نزدیک اس کا پیپلز پارٹی کو فائدہ ملے گا، کیونکہ وہ اقتداری پارٹی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران قوم پرست جماعتوں نے سندھ کے ایشوز یعنی صوبائی خود مختاری، این ایف سی ایوارڈ، پانی کی تقسیم، قدرتی وسائل پر صوبائی حق ، توانائی کے معاملات کے حوالے سے قابل قدر آواز نہیں اٹھائی۔ اس کی بجائے پیپلزپارٹی ہی یہ مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔لہٰذا یہ پیپلزپارٹی کے لئے یہ سندھ کارڈ بن گیا۔ حالیہ بحران میں بھی پارٹی نے ایسا کیا۔ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف احتساب کی کارروائیوں کے بعد یہ عمل پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف جب اٹھایا جانے لگا تو پیپلزپارٹی نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ سب کچھ اس لئے کیا جارہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بعض حکومتی اقدامات سے پیپلزپارٹی کے اس دعواے کو تقویت ملی۔ سندھ میں قوم پرست رہنماؤں کو یہ بات عجیب لگ رہی ہے کہ جب اس ترمیم کو واپس کر کے صوبائی خودمختاری چھینی جارہی ہے، تب یہ لوگ خاموش ہیں۔ انہیں اس پر بھی ملال ہو رہا ہے کہ پیپلزپارٹی اکیلے سندھ کے حقوق کی ترجمان بن رہی ہے۔ اس لئے وہ بھی اپنا حصہ ڈالنے کا سوچ رہے ہیں۔سندھی قوم پرست جماعتیں گروہ بندی کا شکار ہیں۔ وہ کئی حصوں میں بٹے ہوئے ہیں لیکن ان کی دو بڑی کیٹگری ہیں۔ جئے سندھ قومی محاذ ( بشیر خان گروپ) ، جئے سندھ قومی محاذ ( آریسر گروپ) جئے سندھ تحریک صفدر سرکی، جئے سندھ محاذ ریاض چانڈیو، جئے سندھ متحدہ محاذ شفیع برفت۔ یہ تمام گروپ بظاہر خود کو جی ایم سید کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ وہ کیٹگری ہے جو پارلیمانی سیاست میں یقین نہیں رکھتی۔ دوسری کیٹگری میں قومی عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی سندھ یونائٹیڈ پارٹی ہیں۔یہ گروپ پارلیمانی سیاست کرتا ہے۔ اگرچہ کسی بھی الیکشن میں کوئی قابل قدر ووٹ حاصل نہیں کر سکا ہے۔ سندھ میں کوئی بھی قوم پرست جماعت اکیلے کسی مسئلے پر موثر آواز یا احتجاج نہیں کرسکتی۔ لہٰذا ماضی کی طرح ایک بار پھر وہ ان مسائل پر متحد ہونے کا سوچ رہے ہیں اس ضمن میں پارلیمانی سیاست کرنے والی جماعتیں یعنی سندھ یونائٹیڈ پارٹی، قومی عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی نے صلاح مشورے شروع کئے ہیں۔ تاحال وہ جماعتیں ابھی اظہار نہیں کر رہی ہیں جو پارلیمانی سیاست نہیں کرتی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ سب کچھ اقتدار کی حالیہ جنگ کا ایشو ہے۔ یہ بھی کہ ماضی میں یہ جماعتیں انتخابات کے موقع پر پیپلزپارٹی مخالف ملک گیر سیاست کرنے والی کسی جماعت کی حمایت کرتی رہی ہیں۔نتیجے میں ان جماعتوں کو نہ ووٹ ملے اور نہ ہی انتخابات کے بعد سیاسی فائدہ۔

سندھ کی قوم پرست اکثرجماعتوں کے پاس تنظیمی نیٹ ورک نہیں ہے وہ اپنے لیڈر کے زیراثر ذاتی نیٹ ورک پر کام کرتے ہیں۔ جی ایم سید اور قوم پرست سیاستدان پرامن جمہوری اور مقبول جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن سندھ کی سیاست جس نظام پر چلتی ہے اس میں اسٹبلشمنٹ مخالف سیاست ان کے لئے بہت ہی کم گنجائش نکلتی ہے۔ سٹیٹس کو کی حامی قوتیں اور مقامی پاور بروکر ریاست کی حمایت سے ایسی

قوتوں کا پارلیمنٹ میں داخلا بند کر دیتے ہیں۔

سندھ میں صوبائی خود مختاری کی تحریک 917 1 میں ابھری جب سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کیا گیا۔ اس تحریک کی قیادت زمیندار طبقہ کررہا تھا۔ بنیادی طور پرپاکستان کی حکومتوں کی پالیسی قوم پرست تحریکوں کے ابھار کا موجب بنی ہیں۔ 1956 کے آئین میں صوبوں کی حیثیت ختم کردی گئی۔

1958 میں ایوب خان کی ایجوکیشن کمیشن نے سندھی سمیت دوسری مقامی زبانوں پر بطور ذریعہ تعلیم پابندی عائد کردی۔ لسانی اور علاقائی تشخص جو ایک نظر میں صوبائی ڈومیسائیل کا معاملہ لگتا ہے لیکن یہ نامکمل ہے تقسیم ہند کے اثرات اور اندرونی انتقال آبادی کی وجہ سے۔

پاکستان کا صوبہ سندھ کثیر رخ اور کثیر لسانی پس منظر رکھنے والی آبادی کا صوبہ ہے۔ یہاں سندھیوں اور غیر سندھیوں کے درمیان ایک نہایت ہی نازک توازن ہے۔ تقسیم ہند کے بعد بڑے پیمانے پر مہاجروں کی آنے سے معیشت، ملازمتوں، اور سرکاری محکموں کے اہم عہدوں پر قبضہ کرلیا۔ اگرچہ اس مظہر کا زیادہ اثر شہری علاقوں پر ہوا۔ لیکن اس کی محرومی سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی محسوس کی گئی جہاں پر سندھی متوسط طبقہ ابھر رہا تھا۔ پنجاب اورریٹائرڈ افسران کی جانب سے سندھ میں سرکاری زمینیں حاصل کرنے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یوں سندھیوں میں احساس محرومی اور بڑھا۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں سے ایک بڑی آبادی کراچی منتقل ہوئی،مہاجروں کے بعد ایوب خان کے دور میں بڑے پیمانے پر پنجاب اور خیبر پختونخوا سے لوگ آکر آباد ہوئے۔ یہ بحری بندرگاہ اور بڑا صنعتی شہر تھا ۔ اسلام آباد سے پہلے ملک کا دارلحکومت تھا۔ریاست کے جانبدارانہ رویے کی وجہ سے سندھ میں آکر آباد ہونے والوں اور مقامی باشندوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکی۔ نتیجے میں ستر، اسی اور نوے کے عشرے میں نسلی فسادات بھی ہوئے۔

سندھ میں قوم پرست تحریک ابتدائی طور پر ثقافتی سطح پر رہی اور سیاسی سطح پر حمایت حاصل نہیں کر سکی۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان پیپلزپارٹی کا قیام تھا۔ جس کی قیادت ذولفقار علی بھٹو کر رہے تھے۔ اس نوجوان اور کرشماتی رہنما کا تعلق زمیندار طبقے سے تھا۔وہ اسی حلقے میں اپیل کر رہا تھا اور انہی مسائل اور شکایات کو اٹھارہا تھا۔جس میں اسے کامیابی بھی حاصل ہورہی تھی۔ پیپلزپارٹی نے دو طرفہ کردار ادا کیا۔ سندھ میں سندھ کی شکایات کی چیمپیئن بنی اور ملکی سطح پر روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر پسماندہ طبقات کی نمائندہ یا ترجمان کے طور پر ابھری۔ یوں پیپلزارٹی ایک ماس پارٹی بن گئی۔ جئے سندھ محاذ جون 1972 میں قائم کیا۔ جولائی میں اسی سال پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھی زبان کا بل اسمبلی سے منظور کیا۔ سندھی صوبائی زبان ہوگی اور سندھی اور اردو دونوں ذریعہ تعلیم ہونگی۔ چھٹی سے بارہویں جماعت تک اردو اور سندھی کو بطور لازمی مضمون پڑھایا جائے گا۔

قومی تحریک کو تب اچھال ملی جب 1955 میں ون یونٹ قائم ہوا۔ صوبوں کا تشخص ختم کردیا گیا۔ اس کا مطلب صبوں کو ان کی جغرافیائی اور ثقافتی شناخت سے محروم کرنا تھا۔ 1973 کا آئین اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہا۔ کیونکہ اس میں صوبائی خود مختاری کے اہم سوال کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔

1977 میں بھٹو حکومت کے خاتمے اور دو سال بعد اس کو پھانسی کی سزا نے سندھ میں قوم پرست تحریک کو نئی قوت بخشی۔ وجہ یہ تھی کہ بھٹو سندھی تھا۔ یہ تحریک ناکام ہوئی کیونکہ مارشل لاء حکومت خاص طور پرکراچی اور دیگر ملک کے شہروں میں لسانی تقسیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ کراچی میں مارشل لاء حکومت ایم کیو ایم، پنجابی پختون اتحاد، مذہبی بنیاد پرست اور دوسرے گروہ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی جو تحریک کو طبقاتی بنیادوں پر جانے کی رفتار کو توڑ رہے تھے۔

ضیا ء الحق کی غیر جماعتی سیاسی پالیسی نے صوبائی اور ملکی سطح پر تباہ کن اثرات ڈالے سندھ میں پیپلزپارٹی کو کمزور کرنے کے شوق کو پورا کرنے کے لئے سندھی قوم پرستوں کو خوش کرنے کی کوشش کی جس سے ریاست کا جانبدارانہ امیج بنا جس نے ایم کیو ایم کو مشتعل کیا۔ ایم کیو ایم کوپروان چڑھانا سازش تھی،تاکہ کراچی اور اس کے بعد ملک بھر میں مزدور طبقے میں لسانی، نسلی، زبان کی بنیاد پر تقسیم کی جائے۔ جئے سندھ نے مارشل لاء کے ساتھ جزوی تعاون اور جزوی محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کی۔ اس کی قیادت نے ضیا حکومت کے اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ روابط رکھے اور ذاتی فوائد حاصل کرنے سے گریز نہیں کیا۔ مارشل لاء حکومت یہ سب فوائد اس لئے دے رہی تھی کہ اس کا مقصد پیپلزپارٹی کو کمزور کرناتھا۔

گزشتہ ساٹھ سال کے دوران پاکستان کم ہی کامیابیاں حاصل کر سکا پارلیمانی جمہوریت بھی پروان نہ چڑھ سکی۔ انڈیا سے چار جنگیں ہوئیں، معاشی ترقی بھی نہیں ہوئی۔ جو دولت پیدا ہوئی اس کی منصفانہ تقسیم بھی ایک سوال بنی رہی۔ صوبائی خود مختاری کے سوال پر مشرقی پاکستان بنگلادیش کی شکل میں الگ ملک بن گیا۔ مذہبی فرقہ بندی اور تنازعات نے سماجی، اور سیاسی طور پر عوام کو تقسیم کر کے رکھ دیا۔ لہٰذا ایک کامیاب ریاست کی صورتحال نہ بن سکی۔ سندھ میں قوم پرست اور پیپلزپارٹی دو الگ الگ سیاسی دھارے ہیں۔ تاہم 90 کے عشرے میں بینظیر بھٹو کامیاب ہوگئی تھیں کہ وہ سندھ کے قوم پرستوں کو ایک چھتری کے نیچے جمع کر کے کالاباغ ڈیم کے خلاف دھرنا دیا۔مشرف دور میں گریٹر تھل کینال کی تعمیر کے خلاف قوم پرست اور پیپلزپارٹی اتحادی رہے۔ اب قوم پرست جماعتیں ایک بار پھرمتحد ہونے جارہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کا یہ تحرک پیپلزپارٹی کو فائدہ دیتا ہے یا اس سے سندھ کارڈ واپس لینے کی شکل اختیار کرتا ہے؟ یہی سوال ان کے تذبذب کی وجہ بنا ہوا ہے۔


ای پیپر