پاکستان وفاق ہے اسے وفاق ہی رہنا چاہئے
07 جنوری 2019 2019-01-07

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان کا سب سے بنیادی مسئلہ اختیارات کی تقسیم رہا ہے اور آخر کار یہی پاکستان کے ٹوٹنے کی وجہ بنی۔آج بھی یہی مسئلہ زیر بحث ہے اور ’اصلی‘ حکمران 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی اکائیوں یا صوبوں کو دئیے گئے اختیارات کے خلاف ہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے 18ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں اس معاملہ میں بعض دانشوروں کی حمائیت حاصل ہے اور وہ زور شور سے 18ویں ترمیم کے خلاف مختلف حوالوں سے حملے کر رہے ہیں، اسے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف گردانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کے خلاف ایک گہری اور نادیدنی سازش ہے ۔اس سے پاکستان ٹوٹنے کا خطرہ ہے ۔

اس ساری سوچ کے پیچھے ایک تاریخ ہے ۔ ہمارے اکثر مورخین کا یہ کہنا ہے کہ مغل سلطنت اور حکومت کے زوال کی بنیادی وجہ مرکز کی کمزوری تھی لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ مضبوط مرکز ہونا چاہئے حالانکہ پاکستان کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں (قومیت) کے حقوق کی جدوجہد کے نتیجہ میں معرض وجود میں پاکستان بنا تو بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل بننا پسند کیا حالانکہ 1935کے دستور کے مطابق پاکستان میں بھی پارلیمانی جمہوریت تھی۔اس کی ہمارے مورخ اور دانشور مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں مگر یہاں میں اس میں نہیں الجھنا چاہتا۔

قیام پاکستان کے وقت صوبہ سرحد(خیبر پختون خوا) میں خدائی خدمت گاروں کی حکومت تھی اور اس صوبہ کا وزیر اعلیٰ خان عبدالغفار کا بڑا بھائی ڈاکڑ خان صاحب تھا۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ یہ لوگ قیام پاکستان کے مخالف تھے۔انہوں نے اس صوبہ میں ریفرنڈم پر بھی کانگریس سے اختلاف کیا تھا اور اسے وعدہ خلافی قرار دیتے ہوئے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا۔لیکن جب پاکستان بن گیا تو باچا خان نے آئین ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھایا۔اب ذرا تلخ حقیقت کا تذکرہ بھی ہو جانا چاہئے ۔صوبہ سرحد میں ڈاکڑخانصاحب کی حکومت تھی چاہئے تو یہ تھا کہ مرکز یا صوبائی اسمبلی کے ممبران خان صاحب سے اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے اور اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہتے مگر بانی پاکستان گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو ڈسمس کردیا۔

یہ بھی مورخ کہتے ہیں کہ جب بلوچستا ن کو الگ

صوبہ بنانے کی تجویز پیش کی گئی تو گورنر جنرل نے اسے منظور نہیں کیا کیونکہ بلوچستان گورنر جنرل کے براہ راست زیر انتظام تھا۔یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ گورنر جنرل کیبنٹ میں وزیر نامزد کرتا تھا اور یہ سلسلہ ملک غلام محمد تک جاری رہا۔صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کی حکومت قائم کرنے کے بعد اب مسئلہ اکثریتی آبادی کے صوبہ مشرقی پاکستان کا تھا۔نہ صرف یہ کہ وہ اکثریت میں تھے بلکہ انہیں اپنی زبان اور ثقافت پر بھی فخر تھا۔جبکہ مرکز اردو اور مضبوط مرکز کا حامی تھا۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کمزور ہو گئی۔گورنر غلام محمد کے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو ختم کرنے کو بعض دانشور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ایک بنیادی وجہ گردانتے ہیں۔ 1954میں جب صوبائی الیکشن ہوئے تو اس میں جگتو فرنٹ نے بھاری اکثریت حاصل کی اور پھر مشرقی پاکستان میں ان کی حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ مغربی پاکستان کو اکثریتی صوبہ مشرقی پاکستان کے ساتھ برابری دلانے کے لئے پیریٹی کا فارمولا اپنایاگیا اور مغربی پاکستا ن کے صوبوں کو ایک بڑے صوبہ مغربی پاکستان میں ضم کردیا گیا(ون یونٹ)۔ 1956کے آئین میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی سوچ اور فکر میں واضح فرق نظر آتا ہے یعنی مشرقی پاکستان میں مخلوظ انتخابات اور مغربی پاکستان میں اقلیتوں کے لئے جداگانہ انتخابات کا نظام رائج کیا گیا۔ آخر کار ملک میں فوج نے ملک میں مارشل لا لگا کر 1958ء میں حکومت پر قبضہ کر لیا اور صدارتی طرز حکومت نافذ کردیا۔

مغربی پاکستان میں ون یونٹ کے خلاف چھوٹے صوبوں میں زبردست تحریک چلی( وزیر اعظم پاکستان غلام مصطفےٰ جتوئی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ون یونٹ ختم نہ ہوتا تو وہ سندھی نیشنلسٹ ہوتے)۔ جنرل یحیےٰ خان نے ون یونٹ توڑ دیا اور صوبہ بحال کر دئے بلکہ اس نے بلوچستا ن کو بھی الگ صوبہ کا درجہ دے دیا۔

پاکستان ٹوٹنے کی بھی بنیادی وجہ وفاقی اکائیوں (صوبوں) کے حقوق کی نفی تھی۔ نئے پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو چیف مارشل لا ایڈمنسڑیٹر بن گئے اور چاروں صوبوں میں انہوں نے اپنے ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسڑیڑ لگا دئے۔

1973کے آئین منظور ہونے کے بعد بلوچستان اور صوبہ سرحد(خیبر پختون خواہ) میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومتیں بن گئیں۔ذولفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں عطا اللہ مینگل کی حکومت کو ڈسمس کردیا۔جس کے ساتھ اظہار یک جہتی میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ مفتی محمود نے استعفیٰ دے دیا۔اس طرح صوبہ بلوچستان میں مسلح جدوجہد شروع ہو گئی۔بھٹو نے نیپ پر پابندی لگا دی اور ان کے رہنماوں پر حیدرآباد سازش کیس کے تحت مقدمہ چلا دیا۔جنرل ضیا الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر حکومت پر قبضہ کر لیا اور ملک میں مارشل لا لگا دیا۔گو اس نے صوبے نہیں توڑے مگر یہ صدارتی نظام تھا جو چیف مارشل لاکے تابع تھا۔(ہر فوجی حکومت صدارتی نظام ہی ہوتا ہے )۔جنرل ضیا کی فضائی حادثہ میں موت کے بعد گو پاکستان میں سویلین حکومتیں قائم رہیں حتیٰ کہ جنرل مشرف نے ایک دفعہ پھر مارشل لا لگا دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بے نظیر کو تنگ کرنے کے لئے پنجاب میں نواز شریف کی مسلم لیگ حکومت قائم کردی گئی۔اسی طرح بلوچستان میں بگٹی برسر اقتدار آگئے۔ پاکستان میں ہر صوبہ کی حکومت کسی نہ کسی وقت مرکز نے توڑی مگر اس کا ہمیشہ پاکستانی سیاست اور سالمیت پر منفی اثر ہوا۔اب جب کہ سندھ حکومت اور 18ویں ترمیم کے خاتمہ کی کوشش ہو رہی ہے تو یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ اس سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔وفاقی اکائیوں کے درمیان قربتیں بڑھنے کی بجائے نفرتیں بڑھیں گی۔


ای پیپر